3 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل، پورے شہر میں مظاہرے

3 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل، پورے شہر میں مظاہرے
3 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل، پورے شہر میں مظاہرے

  

ایبٹ آباد (ویب ڈیسک) ایبٹ آباد میں ایک تین برس کی بچی کو زیادتی کے بعد شدید سردی میں کھلے آسمان تلے پھینک کر قتل کر دیا ہے۔اس لرزہ خیز واردات نے علاقے میں غم و غصہ پھیلا دیا جبکہ کم سن فریال کی زخموں سے چور لاش کے پاس بیٹھے اس کے باپ کی تصور نے شوشل میڈیا پر لوگوں کے دل دہلا دیئے ہیں۔

ایبٹ آباد کی تحصیل حویلیاں کے کیالہ گائوں میں تین سالہ فریال منگل کے روز دن ڈھائی بجے گھر سے غائب ہوئی تھی جس کی رپورٹ تھانہ حویلیاں میں درج کرائی گئی۔پولیس نے ڈی ایس پی حویلیاں کیڈٹ اعجاز کی نگرانی میں سرچ شروع کی۔اگلے روز فریال گائوں سے دور ویرانے سے مردہ حالت میں پائی گئی۔بچی کے جسم پر تشدد کے نشانا ت موجود تھے۔ اطلاع پر ڈی پی او ایبٹ آباد عباس مجید مروت ڈی ایس پی سونیا شمعروز فوری طور پر حویلیاں ہسپتال پہنچے اور اپنی نگرانی میں پوسٹ مارٹم کرایا۔

ڈاکٹرز کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق معصوم فریال کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی اور نیم مردہ حالت میں کھلے آسمان تلے شدید سردی میں پھینک دیا گیا جس سے بچی ہلاک ہو گئی۔حویلیاں پولیس نے اس کرب ناک واقعہ کی تفتیش اور مجرمان کی گرفتاری کے لئے علاقہ بھر میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔مقتولہ فریال کو ہزاروں اشکبار آنکھوں کے ساتھ سپردِخاک کر دیا گیا۔تدفین سے قبل فریال کی ننھی لاش کے پاس بیٹھے اس کے والد کی تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ ہوئی تو اس لوگوں کے دل دہل گئے۔

تین سالہ فریال کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے خلاف سول سوسائٹی اور شہریوں کا شاہراہ ریشم پر احتجاجی مظاہرہ، شدید نعرے بازی کے ساتھ درندہ صفت ملزم کو فوری گرفتارکرنے کا مطالبہ کرتے رہے۔ مظاہرے میں بڑی تعداد میں شہریوں سمیت دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل تھے، مظاہرین نے ملزمان کو 24 گھنٹے میں گرفتاری کرنے کی پولیس کو ڈیڈ لائن دے دی۔ چیف جسٹس سے از خود نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کردیا۔

معصوم بچی کی دیگر تصاویر بھی جسٹس فار فریال کے ہیش ٹیگ کے ساتھ وائرل ہو گئیں۔حویلیاں کے اس سانحے نے لوگوں کو قصور کی ننھی زینب یاد دلا دی ہے۔

مزید :

علاقائی -خیبرپختون خواہ -ایبٹ آباد -