وادی میں رات کی سیاہی پھیلنے لگی تھی لیکن آسمان پر بکھرے بادلوں میں کہیں کہیں سورج کی سرخی کے دھبے تھے 

وادی میں رات کی سیاہی پھیلنے لگی تھی لیکن آسمان پر بکھرے بادلوں میں کہیں کہیں ...
وادی میں رات کی سیاہی پھیلنے لگی تھی لیکن آسمان پر بکھرے بادلوں میں کہیں کہیں سورج کی سرخی کے دھبے تھے 

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط:141

 اب میرے ساتھ طاہر، سمیع، معاویہ اور ندیم کے علاوہ ہمارا فلسفی رہنما رہ گئے تھے۔ گولڈن پیک کے پیچھے چاند تھا جس کی کرنیں افق پر آتی تھیں لیکن اسے اوپر آنے میں دیر تھی۔ میں وہاں بہت دیر تک بیٹھنا چاہتا تھا۔ یہاں ایک ایسی کیفیت تھی جو دل کو تو سمجھ آتی ہے مگر اس کے لیے ابھی الفاظ نہیں بنے لیکن ہمارے پیارے رہنما نے یاد دلایا کہ ہمیں ابھی ”ایگلز نیسٹ“ میں چائے بھی پینی ہے جہاں امتیاز ہمارا انتظار کر رہا ہے۔یوں بھی اندھیرے میں اس چٹان ہی سے نہیں بلکہ نیچے کریم آباد تک جانا بھی کافی مشکل تھا۔ سو ہم اٹھ آئے۔

امتیاز واقعی ہمارا انتظار کر رہاتھا۔ ڈائننگ روم کی کھڑکیوں سے باہر ملگجی شام کی ہوا میں جھولتے درخت اور برف پوش چوٹیاں دکھائی دیتی تھیں۔ نیچے وادی میں رات کی سیاہی پھیلنے لگی تھی لیکن آسمان پر بکھرے بادلوں میں کہیں کہیں سورج کی سرخی کے دھبے تھے ۔ مجھے فرانسیسی شاعرہ Évelyne Charasse کی مختصر نظم یاد آگئی۔ فرانس میں مقیم ایک فیس بک دوست توقیر رضا نے اس کا ترجمہ کیا تھا ۔

”رات کے کالے دستر خوان پہ اب بھی

 سورج کے بھورے

پڑے ہوئے ہیں۔“

ہم آرام دہ کرسیوں میں نیم دراز جیسے کوئی کہانیوں کی زندگی جی رہے تھے۔پہلے ہمیں ایپریکاٹ سوپ (خوبانی کا سوپ) پیش کیا گیا جس کا ذائقہ بہت ہی نا مانوس تھا۔ میں نے اس میں نمک، کالی مرچ، سویا ساس، لال اور ہری مرچیں غرض ہر چیز ڈال کر اس کا ذائقہ اپنے معمول پر لانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔باقیوں کی بھی کچھ ایسی ہی صورت ِ حال تھی اس لیے سب نے تھوڑا تھوڑا چکھ کر چھو ڑدیا۔ اس کے بعد ہم نے ہنزہ ٹی(پلا متنگ چائے)کی گرم چسکیاں لیں تو جسم کی ٹھَر ذرا کم ہوئی۔ بجلی بند تھی یا شاید ابھی ایگلز نیسٹ تک نہیں پہنچی تھی اس لیے امتیا ز نے شمعیں جلا کر میز پر رکھ دیں تھیں۔ جن کی پیلی روشنی میں ہمارے چہرے اور دیواروں پر لرزتے سائے بہت رومانی لگتے تھے۔ ہم کسی اور دنیا میں تھے۔ خواب اور حقیقت کے درمیان کوئی سو تی جاگتی دنیا۔پلا متنگ ایک مقامی بوٹی تھی جس سے قہوہ بنایا گیاتھا اور اس میں سے پودینے اور میتھی جیسی ملی جلی خوشبو آرہی تھی۔امتیاز اور رہنما نے ہمیں اس کے فوائد بتائے جن میں ذیا بیطس پر قابو پا نا اور وزن کم کرنا سرِ فہرست تھے۔ میں اپنے مو ٹاپے سے ہمیشہ خائف رہتا ہوں اس لیے میں نے فوری فوائد حاصل کرنے کےلئے قہوے کے لمبے لمبے گھونٹ بھرنا شروع کر دئیے۔ 

 ”لیکن ایک سائیڈ افیکٹ ہے اس چائے کا۔“ رہنما نے کچھ توقف سے کہا۔”اس کا زیادہ استعمال مردانہ قوت کےلئے اچھا نہیں ہے۔“ 

ہم سب نے کپ نیچے رکھ دئیے اور امتیاز کے اصرار پر بھی مزید قہوہ نہیں پیا۔ موٹاپا اتنی بھی قابلِ شرم چیز نہیںہے ۔

 قہوہ ختم کر کے اور امتیاز کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کر کے باہر نکلے توشام کا ملگجا پن اندھیرے میں بدل رہا تھا۔ ہم واپسی کے راستے پر چلنے لگے۔ہوا بہت ٹھنڈی تھی۔ میں نے ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈال لیے۔ چند قدم چل کر رہنما نے مجھ سے کہا۔

”میں ذرا مغرب کی نماز پڑھ لوں۔“

ہم اس کے احترام میں ایک طرف کو ہو کر کھڑے ہوگئے۔ ”عبادت تو اللہ کی کرنی ہے اور اللہ ہر طرف ہے۔“ وہ ایک لمحے کو رکا،پھر کہا ”اگر آپ چاند یا مریخ پر جائیں تو وہاں کس طرف مونھ کر کے نماز پڑھیں گے؟ وہاں تو زمین اوپر دکھائی دیتی ہے چاند کی طرح۔“ 

”پتا نہیں۔“ میں نے گڑبڑا کر کہا۔

ہمارے صوفیا ءاور اہل ِ دل شعراءنے اس فلسفے پر بہت لکھا ہے۔ مجھے فیضی کا شعر یاد آیا:

روئے با دیوار آوردن دلیل ِ کافری است

 سجدہ گاہ ِ عارفاں را حاجتِ محراب نیست

(دیواروں کی طرف رُخ کرنا کافری کی دلیل ہے۔ عارفوں کو سجدے کے لیے محراب کی محتاجی نہیں ہوتی)۔

” ویسے بات سوچنے کی ہے۔“ طاہر نے سنجیدگی سے کہا۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -