حزبِ اختلاف کی سیاست کا وقار

حزبِ اختلاف کی سیاست کا وقار
 حزبِ اختلاف کی سیاست کا وقار

  

نوابزادہ نصر اللہ خان کی پوری زندگی اور انداز سیاست کو اگر مختصر ترین الفاظ میں بیان کرنا ہو تو یہی یہ گزارش کروں گا کہ وہ ’’حزب اختلاف کی سیاست کا وقار‘‘ تھے۔ انہیں حزب اختلاف کی سیاست کرنے کا ڈھنگ آتا تھا۔ حزب اختلاف کی سیاست کے لئے جس استقلال، استقامت، متانت اور تدبر و فراست کی ضرورت ہوتی ہے ،وہ سب اوصاف مکمل طور پر، بلکہ بدرجۂ اُتم نوابزادہ صاحب میں موجود تھے۔

پاکستان میں ماضی کے ادوار، بالخصوص فوجی آمروں کی حکومتوں میں حزب اختلاف کا کردار ادا کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اپوزیشن کی سیاست زنداں کے مصائب کو دعوت دینے اور خود کو وادئ پُر خار میں دھکیلنے کے مترادف تھی ۔نوابزادہ نصر اللہ خان نے زندگی بھر سیاست میں اپنے لئے مشکل راستوں کا ہی انتخاب کیا، مگر سیاسی زندگی میں وہ کبھی قربانیوں اور مشکلات کا سامنا کرنے سے نہیں گھبرائے اور ہمیشہ اصولوں اور اعلیٰ سیاسی روایات کی پاسداری کی۔

ان کی سیاست میں سازش نہیں ہوتی تھیں۔ وہ قومی تقاضوں کے مطابق حزب اختلاف کی سیاست میں اپنے فرائض ادا کرتے تھے۔ وہ حکومت کی مخالفت میں کبھی اس انتہا تک نہیں جاتے تھے کہ کسی حکمران کا تخت گرانے اور تاج اُچھالنے کے لئے ان کو کسی درپردہ سازش کا حصہ بننا پڑے۔

ان کو کسی جمہوری تحریک میں کردار ادا کرتے ہوئے کبھی یہ انتظار نہیں رہا کہ کب امپائرکی انگلی اٹھے گی۔ نوابزادہ اپنی سیاست کے لئے کسی امپائر کے اشارے اور اس کی پشت پناہی کے محتاج نہیں تھے۔ اسی لئے ان کی سیاست میں ایک وقار تھا اور ان کے اسلوبِ سیاست کی اپنی ہی ایک شان تھی۔

جو لوگ پس چلمن مقتدر قوتوں کے آلۂ کار بن کر سیاست کرتے ہیں، ان کی سیاسی زندگی کبھی محترم نہیں ہوتی، اس لئے نوابزادہ نصراللہ خان نے عمر بھر پس پردہ قوتوں کے ساتھ کبھی ہاتھ نہیں ملایا اور ہمیشہ صاف اور شفاف سیاست پر یقین رکھا۔ انہوں نے کبھی سیاست میں انعام و مراعات کی خواہش نہیں کی، بلکہ اس کے برعکس ان کے جو ذاتی مالی وسائل تھے اور زمینوں کی صورت میں جو ذرائع آمدن تھے وہ بھی انہوں نے اپنی حزب اختلاف کی سیاست پر قربان کر دیئے۔

سیاست میں حق و صداقت کی بات کرنے والوں کو ہمیشہ قربانیاں ہی دینا پڑتی ہیں۔ جو زبانیں اہل اقتدار کے ظلم و ستم اور غارت گرئ چمن پر خاموش نہیں رہتیں، ان کا مقدر قید و بند کی صعوبتیں اور نظر بندیاں ہوتی ہیں۔ نصراللہ خاں کی زندگی کئی بار ان مشکل مراحل سے گزری، مگر شاید شورِ سلاسل میں وہ سرور ازلی محسوس کرتے تھے، اس لئے حق و صداقت کی آواز بلند کرتے ہوئے نوابزادہ نے کبھی پس و پیش، اگر مگر اور مصلحت سے کام نہیں لیا۔ نوابزادہ نصر اللہ کی سیاست میں یہ انفرادیت اور عظمت تھی کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی بے پناہ صلاحیتیں رکھتے تھے۔ حزب اختلاف کی وہ جماعتیں جو ایک دوسرے کا نام بھی سننا پسند نہیں کرتی تھیں اور وہ سیاست دان جو ایک دوسرے کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کر تے تھے، ان کو ایک پلیٹ فارم پر حکمرانوں کے خلاف کسی مشترکہ تحریک اور جدوجہد کے لئے متحد کر دینا نوابزادہ نصراللہ خاں کا ہی کمال تھا۔ جنرل پرویز مشرف کے خلاف نوازشریف اور بے نظیر بھٹو کو ایک دوسرے کے قریب کرنے والے بھی نوابزادہ ہی تھے۔

جنرل ضیاء کے دور آمریت میں ایم آر ڈی (تحریک بحالی جمہوریت) کا قیام بھی نصراللہ خاں کی کوششوں اور سیاسی حکمت عملی کے باعث ممکن ہوا۔ اسی طرح جنرل ایوب خان کا دور ہو یاجب ذوالفقار علی بھٹو کی فسطائیت کو للکارنے کا مرحلہ درپیش تھا۔

ہر دور میں اپوزیشن کو متحد کرنے میں نوابزادہ کا کردار ہی اہم رہا۔ نوابزادہ کی وفات پر میرے ایک دوست نے بجا طور پر یہ کہا تھا کہ آج اپوزیشن کی سیاست یتیم ہو گئی ہے۔ اپوزیشن کی سیاست آج بھی یتیم ہی محسوس ہوتی ہے،کیونکہ اب ہمارے درمیان کوئی نوابزادہ نصراللہ خاں موجود نہیں رہا۔ نوازشریف اگرچہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پارلیمینٹ کے لئے نا اہل قرار پا چکے ہیں، لیکن ان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ ان کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتیں انتشار کا شکار ہیں۔ یہ عجیب طرح کی سیاسی جماعتیں ہیں اور خاص طور پر جب سے قومی سیاست میں عمران خان ایک پاپولر سیاست دان کے طور پر ابھرے ہیں، ہماری سیاست اور بھی عجیب و غریب اور حیران کن شکل اختیار کر گئی ہے۔

حزب اختلاف کی سیاست اس وقت مؤثر ہوتی ہے جب ان کا مشترکہ ہدف حکومت کی مخالفت ہو۔ عمران خان جتنی مخالفت حکومت کی کرتے ہیں، اس سے کہیں بڑھ کر وہ قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی جماعتوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی تو وہ اتنی شدت کے ساتھ مخالفت کرتے ہیں کہ شاید وہ اتنی سخت زبان مسلم لیگ (ن) کے خلاف بھی استعمال نہیں کرتے۔ ایم کیو ایم کے خلاف بھی عمران خان دشمنی کی آخری حد تک پہنچے ہوئے تھے، اب وقتی طور پر انہوں نے ایم کیو ایم کے خلاف گولا باری بند کی ہوئی ہے، ورنہ وہ ایم کیو ایم کو پاکستان کا غدار قرار دیتے رہے ہیں۔

اب عمران خان قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کی مخالفت کے لئے ایم کیو ایم سے اتحاد کر رہے ہیں، لیکن جب قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر کو تبدیل کرنے کے لئے تحریک انصاف پیپلزپارٹی کے خلاف محاذ قائم کرے گی تو اس سے حزب اختلاف میں مزید انتشار پھیلے گا۔ اگر حکومت کی مخالفت اور حکومت کو قبل از وقت عام انتخابات کے انعقاد کے لئے مجبور کرنا مقصود ہو تو پھر حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کو متحد کرنا ضروری ہے، لیکن عمران خان کی غلط پالیسیوں اور ناتجربہ کارانہ طرز سیاست کی وجہ سے اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد پیدا ہونے کے بجائے انتشار پھیل جاتا ہے اور حکومت کے لئے آسودگی کا سامان پیدا ہو جاتا ہے۔ نوابزادہ نصراللہ خان اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ایک باوقار اتحاد قائم کرنے میں اس لئے کامیاب ہوتے تھے۔۔۔ کیونکہ ان کی ایک قومی سوچ تھی۔ ان کے سیاسی فیصلے قومی مفادات کے تابع ہوتے تھے۔

اس لئے تمام حزب اختلاف کی جماعتیں ان پر اعتماد کرتی تھیں۔ سیاست میں یہ تو ممکن تھا کہ نوابزادہ نے اگر کسی سیاست دان پر اعتبار کیا ہو، لیکن اس سیاست دان نے بے وفائی کر دی ہو، لیکن یہ کبھی نہیں ہوا کہ نوابزادہ نے کبھی کسی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہو۔

یہی وجہ ہے کہ نوابزادہ حکومتوں کے خلاف ہمیشہ اپوزیشن کی جماعتوں کو متحد کرنے میں کامیاب ہو جاتے تھے، لیکن جن سیاست دانوں کی سوچ خود غرضی پر مبنی ہو اور ہر حال میں انہوں نے اپنے ہی مفاد کا خیال رکھنا ہو، وہ اپوزیشن کی جماعتوں کو اکٹھا کرنے میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کر سکتے۔

نوابزادہ نصراللہ خان کی اپنی جماعت مختصر ترین تھی، لیکن جب تک وہ زندہ رہے، ان کا کردار بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں زیدہ مؤثر ہوتا تھا۔ وہ لیڈروں کے لیڈر تھے۔ بڑی سے بڑی سیاسی جماعت جب اقتدار سے محروم ہوتی تھی تو اس جماعت کی قیادت کو نوابزادہ کے سیاست کدے پر آنا پڑتا تھا۔ حکومت سے محروم ہونے والے سیاست دان اپنے شکست خوردہ ذہن لے کر نوابزادہ کے پاس پہنچ جاتے تھے تو نوابزادہ صاحب انہیں حوصلہ دیتے، ان میں ہمت پیدا کرتے اور انہیں حکومت کے خلاف لڑنے کے لئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم مہیا کرتے۔ جب کچھ سیاست دان نوابزادہ کا کندھا استعمال کر کے دوبارہ برسر اقتدار آ جاتے تو بھی نوابزادہ نصراللہ خان جو جمہوریت کے عاشق تھے، اپنے لئے حزب اختلاف کی سیاست ہی پسند کرتے۔

اصولوں کی سیاست کرنے والے نصر اللہ خان کو اپنی ذات کے لئے اقتدار میں کبھی جاذبیت نظر نہیں آئی۔ وہ زندگی بھر حزب اختلاف کی سیاست میں خوش رہے اور یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان میں حسین شہید سہروردی کی قیادت میں حزب اختلاف کی بنیاد رکھنے والوں میں ایک ممتاز نام نوابزادہ نصراللہ خان کا بھی تھا۔ حزب اختلاف کی سیاست میری بھی پسندیدہ ہے، اس لئے نوابزادہ نصراللہ خاں سے ہمیشہ میرا عقیدت و محبت کا رشتہ برقرار رہا۔

سیاست کے علاوہ ادب اور صحافت سے بھی نوابزادہ نصراللہ خان کی وابستگی عمر بھر رہی۔ اس حوالے سے ہمیں ان سے سیکھنے کے بہت سارے مواقع میسر آئے۔ موقع محل کی مناسبت سے نوابزادہ نصراللہ خان ایسے ایسے اشعار سناتے کہ لطف آ جاتا۔ میں چونکہ نوابزادہ نصراللہ خان کو حزب اختلاف کی سیاست کی آبرو سمجھتا تھا، اس لئے ان کے بہت سے انٹرویوز کئے۔ جو مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتے رہے۔

نوابزادہ نصراللہ خاں کا چونکہ صحافت میں عملی تجربہ تھا، اس لئے ان سے انٹرویو کرتے ہوئے یہ آسانی ہوتی کہ ان کے کسی جواب میں قطع و برید کی ضرورت پیش نہ آتی۔ جو وہ کہہ دیتے، وہی حرفِ آخر ہوتا۔ ان سے کئے ہوئے میرے انٹرویز پر مشتمل 1986ء میں جمہوریت سے ملاقات کے نام سے کتاب شائع ہو چکی ہے۔ نوابزادہ نصراللہ خاں کی شخصیت کا یہ احترام تھا کہ میری اس پہلی کتاب کے لئے کاغذ علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید نے فراہم کیا تھا اور کتاب کے دوسرے تمام اخراجات میرے ایک مرحوم دوست اسد اللہ خان باجوہ نے برداشت کئے تھے۔ مون ڈائجسٹ کے ادیب جاودانی نے لاہور کے ایک فور سٹار ہوٹل میں اس کتاب کی تقریب رونمائی کا اہتمام کیا تھا۔

جس میں اظہار خیال کرنے والوں میں ملک محمد قاسم، محمد حنیف رامے، ملک معراج خالد، پروفیسر وارث میر، نذیر ناجی، چودھری اعتزاز احسن، سید افضل حیدر اور جسٹس (ر) شیخ شوکت علی بھی شامل تھے۔ پاکستان کے سابق چیف جسٹس کانیلئس اور ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر بھی بطور خاص اس تقریب میں شامل ہوئے۔ ہر ایک مقرر نے نوابزادہ کے سیاست میں شائستہ انداز اور اصول پسندی کی تعریف کی اور انہیں پاکستان میں جمہوری سیاست کے لئے سرمایۂ افتخار قرار دیا۔ نوابزادہ نصراللہ خان کی پوری سیاسی زندگی کا عنوان اور خلاصہ ان کی جمہوریت کے ساتھ محبت تھی، اسی لئے میں نے ان کے انٹرویوز کی کتاب کا نام ’’جمہوریت سے ملاقات‘‘ پسند کیا تھا۔

مزید :

کالم -