اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 44

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 44

  

قنطور فصیل شہر کے جنوب کی طرف آگیا جہاں شاہ بابل بخت نصر کی سب سے چہیتی بیوی نوبیہ کا عظیم الشان محل تھا جس کی چھت پر معلق باغات میں جگہ جگہ فانوس جگمگا رہے تھے۔ اس نے ایک جگہ درختوں میں گھوڑے کو باندھا اور معلق باغات والے محل کو غور سے دیکھنے لگا۔ اس جانب محل کی عقبی دیوار تھی جو کافی بلندی پر لہراتے درختوں کے جھنڈوں تک اٹھتی چلی گئی تھی۔ دیوار کے سائے میں دو جگہوں پر فوج سپاہیوں نے ڈیرے ڈال رکھے تھے اور چند ایک سپاہی گھوڑوں پر سوار دیوار کے ساتھ ساتھ شمالاً جنوباً گشت ابھی لگا رہے تھے۔ قنطور کو ان ہی گھڑ سواروں کے درمیان سے گزر کر شاہی محل کی دیوار تک جانا تھا جو عام حالات میں ایک ناممکن بات تھی کیونکہ وہاں کوئی انسان ماسوائے شاہی سپاہیوں کے پر نہیں مار سکتا تھا۔

قنطور نے ایک اونچے ٹیلے کی اوٹ میں ہو کر دل ہی دل میں خفیہ منتر پڑھا۔ گہرا سانس بھرا اور پھر اسے چھوڑتے ہی ایک نیلے رنگ کے چکتوں والے چھوٹے سے خطرناک سانپ کی شکل اختیار کرلی اور شاہی محل کی عقبی دیوار کی طر رینگنے لگا۔ سپاہیوں کے پڑاؤ تک وہ بڑی تیزی سے گزرتا گیا۔ پھر جھاڑیوں میں ایک جگہ رک گیا اور گھڑ سواروں کے دستے کے گزرنے کا انتظار کرنے لگا جو بائیں جانب سے چلا آرہا تھا۔ جب دستہ شمال کی جانب دیوار کے ساتھ ساتھ آگے نکل گیا تو قنطور نے حرکت کی اور برق رفتاری سے بنجر زمین پر جنگلی جھاڑیوں کے درمیان لہراتا سیدھا دیوار تک پہنچ گیا اور پھر اس پر چڑھنے لگا۔ دیوار جہاں ختم ہوئی تھی وہاں سے معلق باغات کا پہلا تختہ شروع ہوتا تھا۔ دوسرے تختے کے اختتام پر شاہ بابل کی محبوب بیوی نوبیہ کا محل تھا جسے بادشاہ بخت نصر نے خاص طور پر اپنی بیوی کے لئے تعمیر کروایا تھا۔ معلق باغات کے دوسرے تختے کے اختتام پر شاہ بابل کی محبوب بیوی نوبیہ کا محل تھا جسے بادشاہ بخت نصر نے خاص طور پر اپنی بیوی کے لئے تعمیر کروایا تھا۔ معلق باغات کے دوسرے تختے میں بھی قسم قسم کے پھول کھلے ہوئے تھے اور جابجا ٹھنڈے پانی کے حوض تھے جن کے اوپر فانوس روشن تھے۔ قنطور ان کی روشنی سے بچ کر رینگتا چلا جا رہا تھا۔ اس کی منزل شاہ بابل کی بیوی نوبیہ کی خواب گاہ تھی۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 43پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

یہ خواب گاہ اسے تلاش کرنی تھی۔ باغ کی فضا آدھی رات کی پر سکون خاموشی میں ہر نوع کے پھولون کی خوشبو سے معطر ہو رہی تھی۔ سامنے شاہی محل کی کھڑکیوں میں سے کہیں شمع دانوں کی سکون بخش روشنیاں باہر بکھر رہی تھیں۔ قنطور باغ کے تختے میں سے نکل کر ایک مرمریں روش کو پار کر کے ملکہ نوبیہ کے محل کے مغربی حصے میں آکر ایک درخت کی سب سے اوپر والی شاخ پر چڑھ گیا اور سامنے محل کی کھلی کھڑکیاں کا جائزہ لینے لگا۔ اسے کنیزیں اور غلام پہرہ دیتے نظر آئے۔ ایک طرف کھڑکی کی طرز بارہ دری جیسی تھی جس کے پتلے ستونوں کے درمیان اسے خواجہ سرا اور کنیزیں ایک اونچے دروازے والے کمرے کے اندر سے سونے چاند کے طشت لئے نکلتے دکھائی دیئے۔ ان طشتوں میں اعلیٰ ترین عطریات کی رنگ برنگیاں شیشیاں رکھی ہوئی تھیں۔ یہی ملکہ نوبیہ کی خواب گاہ ہوسکتی تھی۔

قنطور درخت پر سے اتر آیا اور پہرہ داروں اور حبشی خواجہ سراؤں کی نظروں سے اپنے آپ کو بچاتا ، اندھیرے میں رینگتے، اوپر دیوار پر لٹکی پھولوں، بیلوں اور گیلریوں کے نیچے سے گزرتا پتلے مرمریں ستونوں والی بارہ دری کے پہلو میں آگیا۔ پھر اس نے ایک مرمریں جالی میں سے اپنی گردن نکال کر جھانک کر دیکھا۔ اونچے آبنوسی دروازے پر سونے کی تاروں کا تفیس ترین کام ہوا تھا۔ آگے غلام گردش کے فرش پر بے حد قیمتی ریشمی قالین بچھے تھے۔ دیوار گیروں میں عنبر و لوبان میں ڈوبی ہوئی کافوری شمعیں روشن تھیں۔ دروازے پر رنگ برنگی چمکیلی شیشے کی جھلملیاں پڑی تھیں جن میں جواہرات پروئے ہوئے تھے۔ فضا میں عنبرو لوبان کی مہک رچی ہوئی تھی۔ دو خواجہ سرا تلواریں ہاتھوں میں لئے چل پھر کر اس دروازے کے آگے پہرہ دے رہے تھے۔ یہی ملکہ نوبیہ کی خواب گاہ تھی۔ وہ ملکہ نوبیہ جو شاہ بابل اور تاریخ کے عظیم ترین بابلی بادشاہ بخت نصر کی چہیتی بیوی تھی اور جس کی خوشنودی کی خاطر اس نے محل کی چوٹی پر آج کی دنیا کا ساتواں عجوبہ یعنی معلق باغات بنائے تھے۔ اب سب سے بڑا مسئلہ ملکہ نوبیہ کی خواب گاہ میں داخل ہونے کا تھا۔

تلوار بردار خواجہ سرا ایک وقفہ ڈال کر شاہی خواب گاہ کے دروازے کے سامنے سے گزرتے تھے۔ قنطور نے اس وقفے کو خاص طور پر درمیان میں رکھا اور جوں ہی دونوں دربان خواجہ سرا ایک دوسرے سے مل کر جدا ہوئے تو وہ بجلی کی طرح ابرہ دری کے درزوں میں سے نکلا اور قالین پر برق رفتاری سے رینگتا شاہی خواب گاہ کے دروازے کے کونے میں جھلمیلوں کے پیچھے چھپ گیا۔ وہ اندر جانے کے لئے کوئی راستہ تلاش کرنے لگا۔ جہاں فرش ختم ہوتا تھا وہاں قالین کا فرش تھا اور اندر داخل ہونے کے لئے کوئی در ز جتنی جگہ بھی نہ تھی۔ سارے دروازے پر سونے چاندی کے لٹولگے تھے۔ قنطور رینگ کر دروازے کے اوپر محراب میں آگیا۔ یہاں سے ایک جگہ چوکھٹ کی محراب میں سے ہلکی ہلکی روشنی باہر آتی نظر آئی۔ یہاں دروازے کا ایک پٹ چوکھٹ کی محراب سے تھوڑا سا آگے ہٹا ہوا تھا۔ قنطور کے لئے اتنی جگہ بہت تھی۔ وہ اس درز میں سے گزر کر دوسرے طرف آگیا۔

اندر آتے ہی اسے خوشبوؤں کی لپٹیں آتی محسوس ہوئیں۔ ایسی سہر انگیز اور جنت پرور خوشبو میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں سونگھی تھیں۔ نجور سلگ رہے تھے۔ کافوری شمعوں کے گل عنبریں شیشوں کے اندر سرخ حنا کے عطر میں ڈوب کر جل رہے تھے۔ زمین پر ریشمی قالینوں کا نرم فرش بچھا تھا۔ ایک بہت بڑے طاؤس کی شکل کا شاندار ہیرے موتیوں جڑا پلنگ خواب گاہ کے بیچ میں رکھا تھا۔ جس پر اندلسی ریشم کی باریک جالی کا سنہری پردہ گرا ہوا تھا۔ سرہانے کی جانب سونی کے شمع دان دھیمی دھیمی خواب آلود روشنی دے رہے تھے جن کی کرنیں طاؤس کی منقار آنکھوں اور کلغی میں لگے ہوئے نیلم ، عقیق اور ہیروں پر پڑ رہی تھیں اور ان میں سے نور کی شعاعیں پھوٹ رہی تھیں۔ اس طاؤسی پلنگ پر ریشمی پردے کے اندر ایک کھلے بالوں والی نازنین بیٹھی اپنی مخروطی انگلیوں کی پوروں پر قرطانیہ کے عطر گلاب کی مالش کررہی تھی۔ یہی ملکہ نوبیہ تھی۔

وہ بے حد حسین تھی۔ اس کا سرخ و سفید رنگ شمعوں کی مدھم روشنی میں نورانی ہیولا بن کر چمک رہا تھا۔ کنیزیں اسے عطر و عنبر میں بسا کر شب بخیر کہہ کر جا چکی تھیں اور اب خوشبوؤں کی یہ ملکہ خود ایک مہکتا ہوا خواب بن کر خوابوں کی جنت میں اترنے والی تھی۔ یہی عورت قنطور کا شکار تھی اور اس نے اسی کی خاطر اتنا فاصلہ طے کیا تھا اور اپنی جان جو کھوں میں ڈالی تھی۔

قنطور کے سامنے میدان بالکل صاف تھا۔ وہ دیوار سے اتر کا طاؤسی تخت کے سر کی جانب آیا۔ خواب گاہ میں روشنی بڑی مدھم تھی۔ وہ بڑی آسانی سے پلنگ کی ریشمی جھالروں سے لپٹ کر پلنگ کی پٹی پر سے ہوتا ہوا ریشمی پردے کی سلوٹوں کے نیچے سے گزر کر پلنگ کے اندر خواب انگیز معطر فضاؤں میں آگیاملکہ نوبیہ کی پشت اس کی طرح تھی۔ وہ اس خطرناک حقیقت سے بالکل بے خبر تھی اور ایک انتہائی زہریلا سانپ پلنگ پر اس کی پشت کے بالکل قریب ریشم و کمخواب کے تکیوں کے درمیان بیٹھا اسے اپنی سرخ آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ وہ عالم بے خبری میں بڑی معصومیت کے ساتھ اپنی انگلیوں پر عطر مل رہی تھی، اسے قنطور کی موجودگی کا علم نہ تھا۔ قنطور اسے خبردار کر کے ڈسنا چاہتا تھا تاکہ وہ دیکھ لے کہ اسے ایک سانپ نے ڈسا ہے۔

قنطور نے ایک ہوش اڑا دینے والی پھنکار کی آواز نکالی۔ ملکہ نوبیہ تڑپ کر پیچھے گھومی۔ اپنے سامنے ایک نیلے رنگ کے سانپ کو پھن اٹھائے آہستہ آہستہ جھولتے اور بار بار سرخ دو شاخہ زبان باہر نکالتے دیکھا تو اس کے ہاتھ سے عطر کی مرمریں شیشی لڑھک گئی۔ اس کا رنگ دہشت کے مارے سفید پڑگیا۔ منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ آنکھیں خوف سے پھیل گئیں اور اس کے حلق سے چیخ بھی نہ نکل سکی۔ اب قنطور نے حملہ کردیا۔ وہ اچھلا اور بجلی کی سی تیزی کے ساتھ لپک کر اس نے ملکہ کے پہلومیں آخری پسلی کے نیچے ڈس لیا۔ اب ملکہ نے ایک دلدوز چیخ ماری اور بے ہوش ہوگئی۔ اس کی چیخ پر دربان خواجہ سرا دروازہ دھڑاک سے کھول کر اندر کی طرف بھاگے۔ قنطور اس دوران میں دیوار پر پہنچ چکا تھا۔ ملکہ کو بے ہوش دیکھ کر خواجہ سراؤں کے اوسان خطا ہوگئے۔ وہ منہ اٹھائے دیوانہ وار شور مچاتے باہر کو دوڑے۔ محل میں کہرام مچ گیا۔ ملکہ عالیہ بے ہوش ہو گئیں۔ کسی بھی علم نہ ہوسکا کہ اسے سانپ نے ڈسا ہے۔ ملکہ کے پہلو پر قنطور کے ڈسنے سے دانتوں کا جو نشان بنا تھا اس پر ابھی تک کسی کی نظر نہیں پڑی تھی۔

اسی وقت شاہ اہل بخت نصر کو اطلاع دی گئی۔ وہ شاہی حکیم کو لے کر ملکہ کی خواب گاہ میں پریشانی کے عالم میں پہنچا ۔ شاہی حکیم نے تیز دوائیں سنگھا کر ملکہ کو ہوش دلایا تو اس نے بتایا کہ اسے سانپ نے کاٹا ہے اور دہشت کے مارے پھر بے ہوش ہوگئی۔ ملکہ کی پسلی کے نیچے سانپ کے کاٹے کا نشان موجود تھا۔ بخت نصر کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ ملکہ نوبیہ اس کی چہیتی بیوی تھی۔ شاہی حکیم کو حکم دیا گیا کہ وہ ملکہ کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کرے۔ سارے محل میں سانپ کی تلاش کی گئی۔ مگر سانپ وہاں ہوتا توانہیں ملتا۔

قنطور سانپ کی شکل میں ملکہ کی خواب گاہ سے نکل کر معلق باغات کے تختے پر سے ہوتا شاہی محل کی دیوار سے نیچے اتر چکا تھا۔ اب وہ رات کے اندھیرے میں شہر کی فصیل کے اوپر سے ہو کر دوسری طرف کھلے میدان میں آگیا۔ جہاں ایک جانب نگراں دستوں کی چوکی تھی۔ وہ اس چوکی کے قریب اگی ہوئی جنگلی جھاڑیوں میں سے ہوتا دور نکل گیا اور پھر ایک چکر لگا کر اس باغ میں آیا۔ جہاں اس کا گھوڑا بندھا ہوا تھا۔کہ صبح ہو رہی تھی کہ قنطور میری پاس پہنچا اور اس نے مجھے سارا واقعہ پوری تفصیل کے ساتھ سنایا جو میں آپ کو بیان کر چکا ہوں۔ یہاں میرے انسانی سانپ دوست قنطور کا پہلا مرحلہ ختم ہونا تھا او اب میرا کام شروع ہونے والا تھا۔ قنطور نے مجھے بتایا ’’ میں نے منصوبے کے مطابق ملکہ نوبیہ کے جسم میں صرف اسی قدر زہر داخل کیا ہے جس سے وہ ہلاک نہ ہوگی۔ صرف اس کا نچلا دھڑبے حس ہوجائے گا اور جب تک میرا مہرہ اس کے ڈسے ہوئے زخم کے نشان پر نہیں رکھا جائے گا اس کے جسم میں زہر حرکت کرتا رہے گا اور وہ صحت مند نہیں ہوگی۔ میرے دوست عاطون! اب تمہارا کام شروع ہوتا ہے۔ اب تم شاہ بابل بخت نصر کے ساتھ نفتانی کے خاوند کشان کی زندگی کے بارے میں سودا بازی کر سکتے ہو۔ مگر شاہی حکیم اور شہر کے سارے طبیبوں کو ملکہ کے علاج سے مایوس ہولینے دو۔ ‘‘ ہم نے ایسا ہی کیا اور وقت کا انتظار کرنے لگے۔ اس دوران میں نے اپنی محبوبہ نفتانی سے ملنے کا فیصلہ کیا اور گھوڑے پر سوار ہو کر ایک رات اس کی حویلی میں پہنچ گیا۔ دربان نے مجھے اندر جانے سے روک دیا لیکن جب میں نے اپنی منگیتر کو اپنا نام اور پیغام بھجوایا تو وہ خود حویلی کی ڈیوڑھی میں آگئی اور مجھے دیکھ کر آنسو بہانے لگی۔ میں نے اسے حوصلہ دیا اور کہا۔

’’ مجھے سب معلوم ہوگیا ہے۔ پہلے مجھے تمہاری شادی کا سن کر دکھ ہوا تھا کہ تم نے مجھ سے بے وفائی کی لیکن اب میرے دل میں تمہارے لئے کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے۔ کوئی شکایت نہیں ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ تمہارے خاوند کو بادشاہ محض اپنی تفریح طبع کے لئے ہلاک کر رہا ہے مگر وہ ایسا نہیں کر سکے گا۔ ‘‘

نفتانی نے پرامید نگاہوں سے مجھے دیکھا اور بولی۔ ’’ تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو؟ بادشاہ نے اسے اپنی خاص قید میں رکھا ہوا ہے اور پورے چاند کی رات کا انتظار کر رہا ہے۔ ‘‘ میں نفتانی کو منصوبے کے بارے میں کچھ نہیں بتانا چاہتا تھا۔ میں نے صرف اتنا کہا ۔’’ تمہارے خاوند کو شاہ بابل بہت جلد رہا کر دے گا۔ وہ اپنی جان بخشی کے بعد تمہارے پاس آجائے گا لیکن تمہیں میری طرف سے تاکید ہے کہ اپنے خاوند کے لے کر تم اس شہر سے نکل جانا اور کسی دوسرے ملک میں جا کر اپنی زندگی شروع کرنا۔ کیونکہ اگر تمہارا خاوند بابل میں رہے گا تو اس کی جان کو کسی وقت بھی شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ کیا تم وعدہ کر سکتی ہو کہ اپنے خاوند کو لے کر بابل سے چلی جاؤ گی۔ ‘‘

نفتانی کو میری باتوں پر یقین نہیںآرہا تھا۔ پھر بھی اس نے حامی بھری کہ اگر میرا خاوند رہا کر دیا گیا تو اسے لے کر بابل سے نکل جاؤں گی۔

’’ مگر عاطون ! یہ کیسے ہوسکے گا؟ یہ ممکن ہے ۔ میرے خاوند کی زندگی کے دن پورے ہوچکے ہیں۔ اب وہ کبھی میرے پاس نہیں آئے گا۔ ‘‘

میں نے اسے تسلی دی اور کہا کہ وہ حوصلہ رکھے خدا کی مرضی نہیں ہے کہ اس کا گھر برباد ہو اور اس کا خاوند ابھی ہلاک ہو۔ یہ کہہ کر میں واپس اپنے گاؤں آگیا۔ چاند رات میں صرف دو دن باقی رہ گئے تھے اور دوسری جانب ملکہ نوبیہ کی حالت بدستور دیسی ہی مخدوش تھی۔ اس کا نچلا دھڑسن ہوچکا تھا۔ شاہی دربار اور شہر کے سارے حکیم علاج سے مایوس ہو گئے تھے۔ شاہ بابل اپنی چہیتی بیوی کے بارے میں سخت پریشان تھا۔ اس نے اعلان کر دیا کہ جو کوئی اس کی ملکہ کو ٹھیک کر دے گا وہ اسے ملک قرطانیہ انعام میں دے دے گا۔(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 45 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار