ہائے مسلمان

ہائے مسلمان
ہائے مسلمان

  

سب سے افضل اور سردار امت اس وقت مظلومیت کی آخری حدّوں کو چھو رہی ہے ۔کتنے علاقے ہیں جہاں مجبور و مقہور مسلمان بے بسی اور کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔دل میں اتنے گوشے نہیں جتنے المیے اور سانحات رونما ہو رہے ہیں آنکھوں میں اتنے آنسونہیں جو کار گاہ حیات میں واقع امت مسلمہ کے ماتم کدہوں پر بہائے جا سکیں ۔عرب ہو یا عجم ہر زمین ہی مسلمانوں کی اجتماعی اور گمنام قبروں کا قبرستان بنتی جا رہی ہے ۔افریقہ ہو یا امریکہ اسلام کے بیٹے ہی زیر عتاب ہیں برصغیر ہو یا براعظم مسلمانوں پر ہی مصائب کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں ایشیا ہو یا یورپ ہر دیس مسلمانوں کے لیے ہی پردیس بنتا جا رہا ہے ۔بش، کلنٹن اور اوبامانے مسلمانوں کے خون سے جس انداز سے ہولی کھیلی اور افغانستان کے تورا بوراسے لے کر لیبیا کے ،بن غازی‘تک لاکھوں مسلمانوں کو نہایت بے درری سے موت کی نیند سلایا ابھی تک مسلمان ظلم کی اس سیاہ رات میں لرزاں اور ترساں تھے ۔کہ اب ٹرمپ نئے خونی اور شیطانی لاؤ لشکر کے ہمراہ معاذ اللہ امت مسلمہ کی آبادیوں کی طرف ایک سرخ اور برق بار طوفان بن کے آرہا ہے ۔ ابدالوں کی سر زمین ملک شام میں ہر طرف موت رقص کر رہی ہے دس لاکھ افراد موت کا لقمہ بن چکے ہیں لاکھوں زخمی ہیں لاکھوں بے گھرہیں ۔جو دوسرے ملکوں میں پناہ گزین ہیں ،ہنستے بستے شہرکھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں 2011 کے بعد ہی شام میں خانہ جنگی شروع ہو گئی تھی شام کی خانہ جنگی کے بہت سے پہلو ہیں جن میں بہت سے فریق ملوث ہیں ملک شام سعودی عرب اور ایران کے درمیان پراکسی جنگ کامرکز بن گیا ہے داعش اگرچہ مغرب کی ہی پیداوار ہے مگر شام کو کچلنے کے لیے مغرب اور داعش بھی ایک دوسرے کے خلاف پراکسی جنگ بھی شام ہی میں لڑ رہے ہیں۔ مغرب اور روس بھی شام میں ایک دوسرے کے خلاف پر سر پیکار ہے جبکہ ترکی اور باغی کردوں نے بھی شام کو اپنا میدان جنگ بنایا ہوا ہے مختلف جہادی گروپ اپنے اپنے حصے کا بارودوہاں چلا رہے ہیں جو مسئلہ شام کے صدر اور اس کے عوام کے درمیان شروع ہوا تھا اب و ہ انٹر نیشنل مسئلہ بن گیا اور اتنے فریق اس میں داخل ہیں ان دنوں میں ایک طرف حلب میں بشار کی فوجوں اور اپوزیشن گروپوں کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ سڑکیں لاشوں سے بھری پڑی ہیں دوسری طرف بشار حکومت جو تمام فتنے کی جڑ ہے اس کے خاتمہ کے لیے ترکی کی فوجیں شام میں داخل ہو گئی ہیں ۔

انبیاء علیہم السلام کی سر زمین عراق میں بھی کشت و خون کا بازار گرم ہے داعش سے موصل چھڑانے کے لیے عراقی فورسزلڑتے لڑتے شہر کے اندر داخل ہو گئی ہیں۔پہلے داعش نے سنی اکثریت کے عراقی شہروں پر قیامت برپا کی اب عراقی فورسز داعش کا قبضہ چھڑانے کی آڑ میں شہریوں کو باغی قرار دے کرانہیں جنگ کا ایندھن بنا رہی ہیں۔ جب میری نگاہ لہولہان فلسطین پر پڑتی ہے تو یارائے گفتگو نہیں ہو پاتا فلسطینیوں کی کئی نسلیں اپنے خون سے اسرائیلی بارود کوٹھنڈا کرتے کرتے موت کی آغوش میں سو گئی ہیں مگر یہودی ،صہیونی ٹینکوں اور توپوں کو ابھی تک سکون نہیں آیا یہاں غزہ کی پٹی پر 2014 میں اسرائیلی فوج کے حملے کے دوران میزائلوں،ٹینکوں سے ایک تہائی مساجد مسمار کر دی گئی تھیں 2015 میں پھر مساجد کو نقصان پہنچایا گیا یوں بے گھر فلسطینیوں سے اپنے رب کی عبادت کا حق بھی چھینا جا رہا ہے۔بیت المقدس کے شہریوں نے 19 اگست 2010 کو خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اسرائیلی حکومت یہودی آبادکاروں کی درخواست پر نماز فجر کی اذان اور مسجد اقصی میں صبح کے وقت ہونے والی تلاوت قرآن مجید پر پابندی عائد ہو سکتی ہے تو ایسا ہی ہوا کہ آج بیت المقدس میں ہر نماز کی اذان دینے پر پابندی لگا دی گئی ہے اسرائیلی پارلیمنٹ نے مساجد میں اذان دینے کے لیے لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی کا متنازعہ قانون منظور کیا ہے اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو سمیت صہیونی ارکان پارلیمنٹ نے مساجد میں اذان دینے کے لیے لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی کے قانون کی بھرپور حمایت کی ہے اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہیں اسرائیل میں مساجد کے پاس رہنے والے لوگوں کی بڑی تعداد میں معاذا للہ ’’شور شرابے ‘‘ کی شکایات موصول ہوئی تھیں جس کے نتیجے میں یہ قانون بنایا گیا ۔

برما کی سرزمین اس وقت مسلمانوں پر اتنی تنگ ہو چکی ہے کہ آبادیوں، ویرانوں، شہروں، دیہاتوں، چوراہوں، کھیتوں پارکوں اور پہاڑوں میں چن چن کر مسلمانوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔میانمار میں فوج نے روہنگیا مسلمانوں پر جبرو تشدد کا سلسلہ مزید تیز کر دیا ہے ہیلی پیڑوں سے نہتے مسلمانوں پر فائرنگ کی جا رہی ہے مسلمانوں کو ٹوکوں کلہاڑیوں سے کاٹا جا رہا ہے بر سر عام مسلمانوں کو شہید کر کے ان کے چمڑے اتارے جا رہے ہیں اور سینوں سے کلیجے نکال کے چبائے جا رہے ہیں ۔آج اس جیتی جا گتی اور ماڈرن دنیا میں برما کے مسلمانوں پر کھلم کھلا ظلم نے اپنی ساری حدیں عبور کرلی ہیں مگر کوئی ان کا پرسانِ حال نہیں ہے ۔انسانی حقوق کی بدترین پامالی میانمار میں ہورہی ہے ۔’’میانمار‘‘ اس وقت گویا کہ ’’مسلمان مار‘‘ بن چکا ہے ۔ اقوام متحدہ اور او آئی سی سب وہاں مسلمانوں کی نسل کشی کا تماشا دیکھ رہی ہیں مسلمانوں پر اب اگر جہاد فرض نہیں تو پھر کب ہو گا؟

خود پاکستان کی صورت حال بڑی قابل رحم ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان کی اندرونی داستا ن یہ ہے کہ سندھ اسمبلی نے تبدیلی مذہب کا بل پاس کیا ہے جس کے نتیجے میں سندھ میں کوئی غیر مسلم 18 سال کی عمر سے پہلے اسلام قبول نہیں کر سکتا نیز سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سندھ میں شراب خانوں اور شراب کی دکانوں سے پابندی ہٹا دی گئی ہے شراب خانے دوبارہ کھول دیئے گئے ہیں پاکستان کے اندرونی محاذ پر دہشت گردی ،کرپشن ،عریانی فحاشی ،دین بیزاری کی بیماریاں خطر ناک حد تک پہنچ چکی ہے بیرونی لحاظ سے بھارت نے اس سال 222 سے زائد مرتبہ سیز فاتر کی خلاف ورزیاں کی ہیں لائن آف کنٹرول پر 184 جبکہ ورکنگ باؤنڈری پر 38بار خلاف ورزیاں کی گئیں گزشتہ 13 سال میں پہلی دفعہ حالیہ کشیدگی کے دوران توپ خانے کا استعمال کیا گیا پاکستان اور بھارت کے درمیان کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر حالیہ کشیدگی کے دوران یہ پاکستان کا سب سے بڑا جانی نقصان ہوا ہے ۔بھارت کی فائرنگ سے اب تک مختلف سیکڑوں میں عورتوں بچوں سمیت 26 شہری شہید اور 107 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں بھارت نے اکتوبر سے اب تک ورکنگ باؤنڈری پر 37 بار جارحیت کی اور ایل او سی پر 199 بار جارحیت کی مودی اپنی پاکستان مخالف انتخابی مہم کے ایجنڈے کے مطابق ایٹمی پاکستان کو نیپال اور بنگلہ دیش کی طرح بھارت کے زیر سایہ Subservent ریاست بنانے پر تلا ہوا ہے ۔اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کا آٹھ روزہ بھارت کا دورہ پاکستان کے خلاف بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کا ایک نہایت سنگین ترین مرحلہ ہے المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف اسرائیل تو بھارت کی پشت پہ آ بیٹھا ہے مگر پاکستان کی ایٹمی قوت پر فخر کرنے والے مسلم ممالک آج بھی بھارت کے ساتھ دوستی میں مگن ہیں ۔

ادھر ہمارے پہلو میں کشمیر ہے جہاں پانچ مہینوں سے مساجد اور چھوٹی بڑی خانقاہوں پر بھارتی قابض فوجیوں نے تالے ڈالے ہوئے ہیں ۔کسی کو عبادت کی اجازت نہیں یہاں تک کہ عید الاضحیٰ اور جمعتہ المبارک کی نمازیں پڑھنے پر بھی پابندی ہے۔ بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہو چکی ہے وہ بچے جو پر تشدد جیلوں میں بند ہیں، وہ بچے جو چھروں سے چھلنی بدن لیے ہسپتالوں یا گھروں میں پڑے ہیں، وہ بچے جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے کلاس فیلوز کے تڑپتے لاشے اور اٹھتے جنازے دیکھے، وہ بچے جن کے گھروں کی کھڑکیوں اور شیشوں کو سفاک بھارتی فوجیوں نے توڑا۔اور ان کے ہاتھ جاڑے کی ٹھنڈی ہوا میں جمے ہوئے ہیں ،وہ بچے جنہوں نے ہندوستانی فوجیوں کو اپنے نہتے والدین پر گولی چلاتے یا اپنی کھڑی فصلوں کو آگ لگاتے ہوئے دیکھا جو ہر وقت غلامی کا امتحان دے رہے وہ کمرہ امتحان میں کیا لکھیں گے ۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی درندگی اور وحشیانہ مظالم انتہا کو چھو رہے ہیں۔ وادی کے اندر بھارتی فوجیوں کے علاوہ مقامی پولیس نے بھی آزادی کا مطالبہ کرنے والے نہتے کشمیریوں کی زندگی عذاب بنا رکھی ہے۔ شوپیاں کے ناگہ بل گاؤں میں رہنے والوں پر الزام لگایا گیا کہ وہاں حریت پسندوں کو پناہ دی جاتی ہے۔ ہر گھر کی تلاشی لینے پر بھی کوئی حریت پسند پکڑا نہ جاسکا تو وحشی درندوں نے 45افراد کو پیلٹ گنوں اور رائفلوں سے فائرنگ کرکے زخمی کیا، گاؤں میں آگ لگا دی اور ایک سو گھر جل کر خاکستر ہوگئے۔ بتایا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے گھروں کے قیمتی سامان کو نقصان پہنچایا۔ لوٹ مار کے علاوہ وہاں کھڑی ہوئی کاروں، موٹر سائیکلوں اور ٹریکٹروں کی توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔پاکستانی پرچم میں کشمیری اپنے پیاروں کی لاشیں لپیٹ لپیٹ کر جنازے اٹھا رہے ہیں ۔ظالم بھارتی فوجیوں کو ان جنازوں پر فائرنگ کرنے سے بھی شرم نہیں آتی ۔یہ سطور جب لکھی جا رہی ہیں برما کی سر زمین اور دریائے ناف مسلمانوں کے لئے قبر ستان بن چکے ہے ۔اور ادھر حلب جاں بلب ہے کہ اس کی اینٹ سے اینٹ بجائی جا چکی ہے اور دو لاکھ مسلمان شہید کر دئیے گئے ۔حلب کی سڑکیں ،گلیاں اور بازار لاشوں سے بھری پڑی ہیں ۔ ماہ ربیع الاول شریف کے مقدس لمحات کے دوران بھی کشت و خون کا یہ سلسلہ بڑی شدت سے جاری ہے ۔ آؤصدق دل سے اپنے آقاو مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے طفیل رب ذوالجلال سے اس امت کے لیے عزت و عظمت اور امن و آشتی کی بھیک مانگیں۔آؤ ہم اپنے طبیب اور دلوں کے حبیب ﷺ سے درخواست کریں ۔

مزید :

کالم -