شہید کانسٹیبل کو ایک سال قبل ڈاکوؤں سے مقابلے کے دوران ٹانگ پر فائر لگا تھا

شہید کانسٹیبل کو ایک سال قبل ڈاکوؤں سے مقابلے کے دوران ٹانگ پر فائر لگا تھا

فیصل آباد(بیورورپورٹ)دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ میں شہید ہونے والے کانسٹیبل حسیب الرحمن کی تعیناتی ریسکیو 15پیپلزکالونی ڈی گراؤنڈ میں تھی تقریباً ایک سال قبل بھی ڈاکوؤں کے مقابلہ میں ان کی ایک ٹانگ پر فائر لگا تھا ان کا تعلق نواحی گاؤں 209ر. ب کی ایک معزز آرائیں فیملی سے تھا. ان کے والد ریلوے سے ریٹائرمنٹ کے بعد آج کل اسی گاؤں میں زمینداری کا کام کر رہے ہیں. شہید کانسٹیبل حسیب 23اپریل 2007ء کو پولیس ڈیپارٹمنٹ میں بھرتی ہوئے. ریکارڈ کے مطابق ان کی تاریخ پیدائش 14اپریل 1987ء تھی. سوا اٹھائیس سالہ نوجوان حسیب کی شادی کچھ عرصہ قبل ہی ہوئی تھی سوگواروں میں ان کا تقریباً ایک دو سالہ بیٹا بھی ہے. تین بھائیوں میں سب سے بڑے بھائی تھے جبکہ ان کی دو بہنیں ہیں انہوں نے بی اے تک تعلیم حاصل کی سکول دور میں کبڈی اور کرکٹ کے کھلاڑی بھی رہے نہ صرف پولیس ڈیپارٹمنٹ بلکہ اپنے گاؤں اور حلقہ احباب میں وہ اک دلیر اور بہادر نوجوان کے طور پر جانے پہچانے جاتے تھے.

مزید : صفحہ اول