بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے گوادر پورٹ کو نشانہ بنانا چاہتی تھی ،عاصم سلیم باجوہ،بھارتی ایجنٹ کا اعترافی بیان جاری

بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے گوادر پورٹ کو ...
بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے گوادر پورٹ کو نشانہ بنانا چاہتی تھی ،عاصم سلیم باجوہ،بھارتی ایجنٹ کا اعترافی بیان جاری

  


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ کل بھوشن یادیو نیوی کا حاضر سروس افسر ہے جو کہ بھارتی نیول انٹیلی جنس سے ”را “میں گیا تھا ۔کل بھوشن یادیو نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا ہے کہ ”را“سی پیک منصوبے کو تباہ کرنے کے لیے گوادرپورٹ کو نشانہ بنا نا چاہتی تھی ۔اس حوالے سے کل بھوشن یادیو کو 30سے 40بھارتی ”را“کے ایجنٹ پاکستان میں داخل کرانے کا ٹاسک ملا تھا ۔عاصم باجوہ نے کہا کہ یہ سٹیٹ سپورٹیڈ ٹیرر ازم ہے کیو نکہ کسی ملک کے اتنے بڑے خفیہ افسر کو کسی دوسرے ملک سے پکڑنے کی مثال دنیا کی تاریخ میں بہت ہی کم ملتی ہے ۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیفٹنینٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ کل بھوشن یادیو بلوچستان اور کراچی میں کارروائیاں کرتا تھا اور یہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے چیف اور جوائنٹ سیکریٹری کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا ۔انہو ں نے بتا یا کہ کل بھوشن اپنے مشن کے لیے دائرہ اسلام میں داخل ہوا ،پہلی بار پاکستان کشتیاں خریدنے اور سکریپ ڈیلر بن کر آیا اور یہاں سے سکریپ بھی خریدا ۔اس کے علاوہ کل بھوشن یادیو چا ہ بہار میں جیولری کا ڈیلر تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ جب کل بھوشن یادیو کو پکڑا گیا تو اس کے پاس سے امریکی ،پاکستانی اور ایرانی کرنسی برآمد ہوئی اور اس کے پاس بلوچستان اور پاکستان کے نقشے تھے ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کل بھوشن یادیو پاکستان میں مداخلت کے لیے آپریٹو کا نیٹ ورک بناتا تھا ،ان کی فنڈنگ کرتا اور ہتھیار بھی فراہم کرتا تھا جبکہ وہ انسانی سمگلنگ میں بھی ملوث تھا ۔کل بھوشن یادیو نے گوادر ہوٹل میں دھماکہ کیاجس میں چائینز ٹھہرے ہوئے تھے ۔انہوں نے کہا کہ مہران ائیر بیس کی فنڈنگ بھی کل بھوشن یادیو کے علم میں ہے ،ایس ایس پی چوہدری اسلم کا بھی بتا یا ،کراچی میںفرقہ وارانہ ٹائیگر فورس بنائی ۔ان کا کہنا تھا کہ کل بھوشن یادیو نے بلوچستان میں نیٹ ور ک قائم کرنے ،صوبے میں گیس پائپ لائن اور ٹرینوں پر حملے کرنے کا بھی اعتراف کیا ۔کل بھوشن یادیو نے تفتیش کے دوران بتا یا کہ اسے مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے گوادر پورٹ کو ٹارگٹ بنانے کا بھی ہدف ملا تھا ۔اس کام کے لیے کل بھوشن یادیو کو بھارتی خفیہ ایجنسی کے 30سے 40ایجنٹوں کو پاکستان لے کر آنے کا بھی ٹاسک ملاتھا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف ہمیں اس سے بہترین اور کھلا ثبوت کوئی اور نہیں مل سکتا کہ کیسے دوسرے ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی پاکستان میں شدت پسند کارروائیوں میں ملوث ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے کہا کہ کسی دوسرے ملک سے کسی ملک کا اتنا بڑا انٹیلی جنس افسر پکڑنے کی مثال کم ہی ملتی ہے جس کا سہرا آئی ایس آئی کے سر جاتا ہے ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ایرانی صدر کے سامنے اٹھا یا گیا تھا جنہوں نے اس مسئلے کو بڑے تحمل کے سنا تھا ۔ایرانی صدر سے بھارتی ایجنٹ کا ذکر نہیں بلکہ را کی کارروائیوں اور ایرانی سر زمین کے استعمال کا ایشو اٹھا یا گیا تھا ۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی ایجنٹ کے خلاف پاکستانی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر بھی بھر پور طریقے سے اٹھا یا جانا چاہیے ۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کریں گے جب کہ ملک میں دہشتگردوں کےجہاں سلیپرسیلز ہوں گے وہاں کارروائی ہوگی، راولپنڈی لاہور سمیت ملک کے مختلف حصوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیز کے درمیان معلومات کا تبادلہ ہوا، یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ایرانی حکام کو بھارتی سرگرمیوں کا پتا تھا .

ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را‘‘ کے افسر کے بارے میں تحقیقات ہو رہی ہے بہت سی لیڈ مل رہی ہیں میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔ وزارت خارجہ کے ذریعے بھارت کے ساتھ معاملے کو اٹھایا گیا ہے۔ پرویز رشید کا کہنا ہے کہ کس جگہ پر کون سی فورس کتنی تعداد میں استعمال کرنی ہے اس بات کا فیصلہ صوبائی حکومت کرتی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت نے را کے افسر کی گرفتاری کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے۔

Kul Bhushan Yadav by dailypakistan

مزید : قومی /اہم خبریں