مریم کابیانیہ 

مریم کابیانیہ 
مریم کابیانیہ 

  

مریم نواز کا بیانیہ پٹ گیا ہے، مریم نواز نون لیگ کی شکست کی ذمہ دار ہے، مریم، نواز شریف کے لئے مسائل پیدا کر رہی ہیں اور پتہ نہیں کیا کیا کچھ، ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کے حامیوں کو کشمیر میں پی ٹی آئی کی جیت سے زیادہ مریم نواز کے ہارنے کی خوشی ہے۔کچھ ایسی قوتیں متحرک ہیں جو نہیں چاہتی ہیں کہ مریم نواز ایک لیڈر کا روپ اختیار کرلیں، وہ چاہتی ہیں کہ ان کے خلاف ایک ناکام شخصیت کا پراپیگنڈہ اس قدر کیا جائے کہ اگلے عام انتخابات میں عوام ان کی جانب نہ دیکھ رہے ہوں۔ اوپر سے حالات یہ ہو چکے ہیں کہ پرائیویٹ ٹی وی چینلوں کے نام پر اب جگہ جگہ پی ٹی وی کھل چکے ہیں جو سوائے حکومت کے گن گانے کے اور کچھ نہیں کرتے، کبھی یہ الزام صرف پی ٹی وی پر لگا کرتا تھا کہ وہ حکومت وقت کے گیت گاتا ہے، اب تو ہر ٹی وی چینل حکومت کے گن ہی گا رہا ہے۔ اسلام آباد میں بارشی پانی سے آنے والی تباہی کو ہی دیکھ لیجئے، ہمیں یاد ہے کہ جب 2018میں بارشیں ہوئی تھیں تو کئی خواتین اینکریں بارش میں بھیگتی ہوئی لکشمی چوک پہنچ گئی تھیں

اور وہاں سے براہ راست پروگرام کرکے بتاتی تھیں کہ دیکھئے لاہور پانی میں ڈوب چکا ہے اور شہباز شریف کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ اب جبکہ اسلام آباد میں ایک ماں اور اس کا بیٹا بارش کے پانی میں ڈوب کر موت سے ہمکنا ر ہو گئے تو ہمارے پرائیویٹ ٹی وی چینلوں پر یہ ڈسکس ہو رہا ہے کہ کیا کشمیر کے عوام نے مریم نواز کے بیانئے کو مسترد کردیا ہے؟ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ وہ اسے ایک سوال کی صورت بھی بیان نہیں کرتے ہیں بلکہ سیدھا سیدھا کہتے پائے جاتے ہیں کہ کشمیر کے عوام نے مریم نواز کے بیانئے کو مسترد کردیا ہے۔ ایسے میں نواز شریف اگر اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہتے تھے کہ میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا یا جی ٹی روڈ پر سوال اٹھاتے تھے کہ مجھے کیوں نکالا جو بعد میں ووٹ کو عزت دو کے نعرے میں تبدیل ہوجاتا ہے تو ان کے بہی خواہوں کو علم ہونا چاہئے کہ ان کا سفر لمبا ہے کیونکہ حکومت  نے ریاستی اداروں بشمول آزاد میڈیا کو قابو میں کیا ہوا ہے۔

گزشتہ دنوں نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے مرحوم عارف نظامی کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا جہاں شہر کے جید صحافی جمع ہوئے اور مرحوم کو یاد کیا۔ ہمارے مربی جناب جمیل اطہر نے عارف صاحب کے حوالے سے اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یاد ہے کہ جب نواز شریف وزیر اعظم تھے تو ایک میٹنگ میں عارف نظامی نے کہا آج بھی ہمیں نیند سے جگا کر پوچھا جاتا ہے کہ فلاں خبر کیوں لگائی گئی ہے، حکومت کی فلاں خبر کو چھوٹا کیوں شائع کیا گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اپنی بات کا اختتام جمیل اطہر صاحب نے اس بات پر کیا کہ عارف نظامی حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کیا کرتے تھے۔ اس پر صدر محفل نے کہا کہ حکمرانوں کی آنکھیں تھیں تو ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی جاتی تھی، اب تو حکمرانوں کی آنکھیں ہی نہیں ہیں۔ اور پھر تاسف بھرے لہجے میں گویا ہوئے کہ سیاست اور صحافت پر کیا زوال کا دور آچکا ہے۔ توجناب  یہ ہے دور حاضر کا کل فسانہ کہ افسوس اس بات کا ہے کہ میڈیا حکومت کی آواز بن کر اپوزیشن کو دبانے میں جتا ہوا ہے۔ اس کو خبر نہیں کہ یہ کچھ کرکے دراصل وہ اپنے آزادی اظہار کے حق پر کمپرومائز کر رہا ہے۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ اس میڈیا کو  شہباز شریف کی صورت میں ایک متحرک وزیر اعلیٰ قبول نہیں تھا۔ گزشتہ تین برسوں میں پاکستان 2007کے مقام پر جا کھڑا ہوا ہے، صورت حال یہی رہی تو خدانخواستہ ملک میں دوبارہ سے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ شروع ہو سکتی ہے۔ 

جو لوگ مریم کے بیانئے کا ٹھٹھہ لگارہے ہیں ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ مریم ماسوائے آئین میں مداخلت کو روکنے کے اور کیا بیانیہ رکھتی ہیں؟ کیا وہ حلقے نہیں جانتے کہ آئین اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ عوام کے ایما پر جو لوگ فیصلے کرتے ہیں وہ اپنے فیصلوں میں عوامی رائے کا احترام کریں گے۔ آج اگر ہم کہہ رہے کہ ہمیں افغانستان سے کچھ لینا دینا نہیں ہے، ہم وہاں کوئی مداخلت نہیں کر رہے تو ایک وقت میں سٹرٹیجک ڈیپتھ کا خود ساختہ نظریہ متعارف کرایا گیا تھا جس کی قیمت گزشتہ چالیس برس سے پاکستان ادا کر رہا ہے۔ اگر تب پارلیمنٹ کو اہمیت دے کر عوام کے نمائندوں کی سن کر فیصلہ کیا ہوتا تو آج پاکستان دنیا میں یوں رسوا نہ ہو رہا ہوتا۔ مریم کے بیانئے پر سوال اٹھانے والوں کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ آئین صاحب اختیار کو ان لوگوں کے سامنے جوابدہ ٹھہراتا ہے جن پر وہ حکمرانی کرتے ہیں لیکن ہمارا میڈیا عوام کی ذہن سازی میں مصروف ہے کہ شہباز شریف کا مفاہمت کا بیانیہ مریم کے مزاحمتی بیانئے سے بہتر ہے۔ سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر صحیح کہتے ہیں کہ اس خطے کے لوگوں کے ذہنوں سے غلامی ابھی تک نہیں نکل پائی ہے۔ اس لئے نواز شریف اور مریم نواز کو گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ عوام کی، آئین کی اور ووٹ چوری کی بات کرکے اگر وہ ہار بھی جاتے ہیں تو عوام کی نظرمیں وہی جیتے ہوئے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -