مشاہداتِ حج

مشاہداتِ حج

  

                                                اسلامی کیلنڈر میں حج کے مہینوں کا ایک منفرد مقام و اہتمام ہے ۔حج رکن خامس ہے ۔قرآن و سنت میں اس کے خصوصی احکام و انعام لینے کا ذکر کیا گیا ہے ۔ حج اجتماعی عبادت ہے جو معین اوقات میں مخصوص مقامات پر ہی ہو سکتی ہے ۔حج محبت الٰہی اور عشق رسول ﷺ کے چمن کا ابر کرم اور عہد بہار ہے ، حج اطمینان قلب اور تسکین روح کے لئے گراں قدر تحفہ ہے ، حج توبہ کا موقع ، مغفرت کا قرینہ ،بخشش کی رت ، عبادت کا سیزن اور نجات کا موسم ہے ۔اس موسم کا تعلق آب و ہوا سے نہیں، بلکہ مزدلفہ ومنیٰ سے ہے،یہ موسم بہار اور خزاں کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ایمان اور اعتقاد کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ، یہ موسم سردی اور گرمی سے عبارت نہیں، بلکہ احرام اور رمی سے عبارت کا نام ہے ،یہ لبیک کی صداﺅں، رحمت کی گھٹاﺅں اورمقبول دعاﺅں کا موسم ہے ، اللہ تعالیٰ سے ملاقات ،جنت کی سوغات، اشکوں کی برسات اور عرفات کا موسم ہے ، بیت اللہ اور در رسول ﷺ سے ہجر و فراق ہر مسلمان کو تڑپاتا ہے ، دنیا کا حسین اور رنگین منظر دیکھ لینے کے باوجود انہیں دیکھے بغیر روح تشنگی محسوس کرتی ہے ،چنانچہ یہاں کی حاضری کی آرزو بندے کے ساتھ ہو جاتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ آرزو جوان سے جوان ہوتی چلی جاتی ہے، پھر زندگی گھٹتی جاتی ہے، مگر یہ آرزو بڑھتی جاتی ہے ۔

حرمین شریفین کی سرزمین ایسی سر زمین ہے جہاں عشاق سر کے بل چلنے کے لئے تڑپتے رہتے ہیں ، کیوں نہ ہو، ہر مسلمان یہ چاہتا ہے کہ میرے دل کی کھیتی آج بھی جس چشمہ صافی سے سیراب ہو رہی ہے ،مَیں ایک بار جا کے اس کی زیارت تو کروں ، جس آفتاب کی روشنی آج بھی میرے دل کے آنگن میں ہے، جس افق سے وہ طلوع ہوا، اس افق کا دیدار تو کروں۔ جن فضاﺅں نے حضرت محمد ﷺ کی مقدس و معطر سانسیں ذخیرہ کر رکھی ہیں، مَیں بھی وہاں سانس لوں۔ جن پہاڑوں پر رخ زیبا کے جلوے مر تسم ہیں، مَیں ان سے ملاقات تو کروں۔ جن سنگریزوں نے رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین کے قدموں کو چوما ، مَیں ان سے کچھ دیر سرگوشی تو کروں۔ جن گزر گاہوں سے میرے محبوب ﷺ کبھی گزرے تھے، مَیں اپنی سوچ کو کچھ دیر وہ اعتکاف تو بٹھاﺅں، جن جن وادیوں سے ان کا گزر ہوا تھا، وہاں جا کر آپ کی خوشبو تو سونگھوں ۔

 بندہ سالہاسال سے موسم حج کا مشاہدہ کر رہا ہے، مجھے حرمین شریفین کی محبت کے متوالوں کے جذبات ِعقیدت اور احساسات ارادت کا کوئی کنارہ نظر نہیں آیا ۔ یہاں بچے ، بوڑھے ،مرد ،عورت ،گورے کالے ،عربی عجمی ، امیر و غریب اپنے انداز رکھتے ہیں ۔ در کعبہ اور مواجہ شریف کے سامنے سیدھا سادہ اور ان پڑھ آدمی جس انداز سے اپنی عرض پیش کرتے ہیں میں سن کر اور دیکھ کر حیران ہوتا ہوں ،کہاں کہاں سے کرنیں اٹھتی ہیں اور آفتاب سے آ کر چمٹ جاتی ہیں ۔ حج کے موقع پرسعودی اخبار عکاظ میں یہ خبر چھپی کہ تاجکستان کے دو حاجی، جن کی عمریں ساٹھ سال سے زائد ہیں، پیدل چلتے ہوئے مدینہ منورہ پہنچ گئے ہیں ۔ انہوں نے پانچ ہزار کلو میٹر کا سفر چھ ماہ سے زائد وقت میں طے کیا، وہ افغانستان سے ہوتے ہوئے ایران پہنچے ، وہاں سے متحدہ عرب امارات ، پھر وہاں سے مدینہ شریف پہنچے۔ انہوں نے دس افراد کے قافلے میں یہ سفر شروع کیا تھا، مگر آٹھ راستے میں ہمت ہار گئے جبکہ دو خوش نصیب پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق 2012 ءمیں ایک کروڑ بیس لاکھ افراد نے حج و عمرہ کے لئے حجاز مقدس پہنچے ۔

حج امت مسلمہ کی اجتماعیت کا آئینہ دار ہے فرزندان تو حید و رسالت کا یہ سالانہ انٹرنیشنل اجتماع مسلمانوں میں جذبہ اخوت پیدا کرتا ہے۔ کائنات کے کونے کونے میں بسنے والی انسانی آبادیوں میں کھلنے والے اسلام کے پھول ،اپنے جدا جدا جغرافیہ و ماحول ،رنگ و نسل خدوخال ،طبائع و مزاج اور چال ڈھال کے ہمراہ ایک اللہ اور ایک رسول ﷺ کا کلمہ الاپتے ہوئے جب کعبہ کے گرد گلدستہ بناتے ہیں تو ماحول میں عجیب رنگ بھر جاتا ہے، طاغوت کے شکنجے میں جکڑے ہوئے اور سازشوں کے جال میں گھرے ہوئے مسلمانوں کی مایوسی دور ہو تی ہے

 حج کا اجتماع خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ختم نبوت کے فیض ، قرآن مجید کے اعجاز اور اسلام کے جامع دین ہونے کا بین ثبوت ہے ۔ عرفات کے میدان میں کرئہ ارض پر بسنے والے انسانوں کا جس انداز کا نمائندہ اجتماع ہوتا ہے، دنیا کا کوئی مذہب اور کوئی طاقت اس کی مثال پیش نہیں کر سکتی ۔ اس سال بھی عرفات کی وادی میں 180 ملکوں سے تعلق رکھنے والے تقریبا ًتین ملین انسان 80 زبانوں میں اسلام کی صداقت کے نعرے لگا رہے تھے ۔ ایسی انسانی بستی آباد کرنا کسی کے بس میں نہیں ، ان انسانوں کے خوف خدا اور شوق بخشش میں دھڑکتے دلوں ، چیختے لہجوں اور ٹپکتے آنسووں کی مثال کون پیش کر سکتا ہے ۔ مَیں نے عرفات میں پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے لوگوں کودیکھا ،لگ رہا تھا کہ اشکوں کا سیل رواں معصیت کے داغ مٹا دے گا ، لوگوں میں رنگ و نسل ،عمر و جنس ،سٹیٹس اور مرتبے کا تو تفاوت تھا ،مگر مانگ سب کی ایک تھی ۔

حج ایک عبادت بھی ہے اور ایک روحانی انقلاب اور حضوری کا تربیتی کورس بھی ہے۔ حج اول سے آخر تک تبدیلی کا نام ہے، مسکن اور محلہ کی تبدیلی ،ملک کی تبدیلی ، لباس اور عادات کی تبدیلی ، معمولات اور حرکات و سکنات کی تبدیلی ، ایک میدان سے دوسرے میدان کی طرف تبدیلی ، اپنے مالوف گھر ،شہر اور وطن کو چھوڑا۔ پھر سلے ہوئے کپڑے پہننے کاعادی تھا، وہ چھوڑ کر احرام باندھ لیا ، سر ڈھانپنے کا طریقہ اپنایا ہوا تھا، وہ چھوڑ دیا، اسے ایسا ماحول فراہم کر دیا گیا ہے، جدھر بھی سوچے تو نتیجہ یاد خدا کی صورت میں نکلے ۔ جب اسے اچانک خیال آئے کہاں ہے میرا گھر ، مَیں منیٰ کے خیموں میں کیوں ہوں ؟ کہاں ہے میرا بیڈ روم ؟ مَیں مزدلفہ میںکھلے آسمان کے نیچے سڑک پر کیوں لیٹ گیا ہوں ؟ ،کہاں ہے میرا عمامہ ؟ مَیں ننگے سر کیوں ہوں ؟ بدن میلا کچیلا کیوں ہے ؟ ،میری خوشبوکہاں ہے ؟ مَیں بڑھے بال کیوں نہیں کاٹ سکتا ؟ ، عرفات سے مزدلفہ جاتے ہوئے مغرب کا وقت گزر رہا ہے۔ مَیں نماز کیوں نہیں پڑھ سکتا ؟ سوچ پھر جا کے رکتی ہے کہ لَبَّی±کَ اَللّٰھُمَّ لَبَّی±کَ۔

حج میں قدم قدم پرجن امور کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان میں صبر ،سفر ،انتظار اور قطار ہے ۔آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی جبکہ حج کے وی آئی پی پیکج متعارف ہو چکے ہیں۔ سڑکوں کا جال ،ٹرانسپورٹ کی بہتات، مشاعر ٹرین اور پھر ہوٹلنگ کی سہولیات کے باوجود بھی حج مشقت اور صبر کا نام ہے اور حج حج ہی ہے، اب اگرچہ اونٹنیوں کی جگہ لگژری گاڑیوںنے لے لی ہے۔ صرف ٹریفک کی کئی گھنٹوں تک بلاکیج ہی سے عصر حاضر کا برق رفتار انسان چیونٹی کی رفتار سے بھی سست ہو جاتا ہے ۔ اسی لئے حدیث شریف میں حج کو جہاد کہا گیا، چنانچہ اردو میں حج اور جہاد کی تعبیر ایک ہے ،جس کے ایک فعل میں کئی افعال آجاتے ہیں، نماز پڑھی جاتی ہے ، روزہ رکھا جاتا ہے ، زکوٰة دی جاتی ہے، مگر جہاد کی طرح حج کیا جاتا ہے ۔ زمان و مکان کے ساتھ حج کی خصوصیت انسان کو یوں خاص کر دیتی ہے۔ ساری زندگی پنجگانہ نماز تو کیا، تہجد پڑھنے والے کے نام کے ساتھ نمازی ، ہر سال زکوٰة دینے والے کے نام کے ساتھ مزکی اور کثیر الصیام انسان کے نام کے ساتھ صائم کا سابقہ نہیں لگتا ، لیکن ایک بار حج کرنے والا ابھی اپنے ملک سے احرام باندھتا ہے ،لوگ اس کو حاجی کہنا شروع کر دیتے ہیں ۔

 نماز میں تکبیر تحریمہ سے جیسے انسان اپنے ماحول سے منقطع ہو کر اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے ۔ احرام بھی حج کی ایک قسم کی تکبیر تحریمہ ہے، جس میں انسان کی توجہ ہر طرف سے ہٹا کر اللہ کے ساتھ لو لگانے کا سامان کیا گیا ہے ۔حالت روزہ میں نہ کھانا،نہ پینابندے کو حقیقت میں اللہ کی طرف متوجہ کرنے کے لئے ہے، نفس جب خواہشات سے مجرد ہوتا ہے تو اس میں نور پیدا ہوتا ہے۔ حج میں گھر، وطن سے دوری ، احباب و اقارب سے دوری اور احرام کی پابندیاں بھی بندے میں یکسوئی پیدا کرنے کے لئے ہیں، مگر آج موبائل کے کثرت سے استعمال نے حج کی روحانی اقدار میں کافی بگاڑ پیدا کر دیا ہے ۔مجھے تو منٰی ، عرفات ، مزدلفہ میں اس وقت بہت سرور آتا ہے، جب مجھے پیدل چلنا پڑے اور ارد گرد کے ماحول میں مجھے کوئی جانتا نہ ہو ۔

حج کے دوران کیمرے کا استعمال چند سال سے بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔اس سال تو اس کے استعمال میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا ہے کہ کہیں انسان قبلے کو بھول کر کیمرے میں ہی مگن نہ ہو جائے۔ مَیں نے ستر ،اسی سالہ بوڑھی عورتوں کو بھی موبائل کیمرے سے ایک دوسرے کی تصویریں بناتے دیکھا۔ حالت طواف جس میں مڑ کر کعبہ کو دیکھنا بھی جائز نہیں ۔بعض لوگوں کو حالت طواف میں پیچھے منہ کرتے، اپنی تصویر بناتے یا بنواتے دیکھا۔ مواجہ شریف جہاں در رسول ﷺ کی حاضری کے موقع پر مواجہ شریف کے سامنے جہاں انسا ن نگاہ حبیب ﷺ کے زیر سایہ گرد و پیش، بلکہ اپنے آپ سے بے خبر ہو جاتا ہے ،وہاں کثرت سے میں نے ایسے لوگ دیکھے جو موبائل اور ٹیبلٹ سے تصویریں بنانے یا بنوانے میں مصروف ہیں.... بلکہ پس منظر میں روضہ رسول کو لانے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی طرف پشت کر کے کھڑے ہو جاتے ہیں، حالانکہ عباسی حکمران ابو جعفر منصور نے حضرت امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ سے پوچھا کہ روضہ رسول ﷺ پر حاضری کے وقت میں قبلہ کی طرف پشت کرکے اور در رسول ﷺ کی طرف منہ کر کے دعا مانگوں یا رسول اکرم ﷺ کی طرف پشت کر کے اور قبلہ کی طرف منہ کر کے دعا مانگوں تو آپ نے فرمایا کہ تم اس ذات سے اپنا چہرہ کیوں پھیرتے ہو ؟ جو تمہارا ہی وسیلہ نہیں، بلکہ تمہارے باپ حضرت آدم علیہ السلام کا بھی وسیلہ ہیں چنانچہ حضور اکرم ﷺ کی طرف منہ کر کے دعا مانگو۔

حج میں ہر سال بڑے بڑے عجیب و غریب ، حیرت انگیز ، عبرت ناک اور رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں کچھ لوگوں کی داستان بڑی دلدوز اور قابل رحم ہوتی ہے اور کچھ لوگوں کا انداز بڑا باعث رشک ہوتا ہے ۔ مَیں اس انسان کو بڑا عظیم سمجھتا ہوں جو اپنی بوڑھی والدہ کی وہیل چیئر کو چلا رہا ہو یا اپنے لاغر باپ کو کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہو اور اسے کعبہ کے گرد چکر لگوا رہا ہو یا منٰی ، عرفات کی راہوں میں موجود ہو ۔ حج میں جہاںبدن کے تھکنے سے گناہ جھڑتے ہیں وہاں عہد رفتہ میں باربار جھانکنے سے لطف بڑھتا ہے ۔ حج مخصوص کیفیات کا نام ہے جب تک وہ کیفیات حاجی اپنے اوپر طاری نہ کرے حقیقی مقاصد سے عاری رہتا ہے ۔ حج حسین یادوں کا ایک سلیبس ہی نہیں، بلکہ صدیوں کی روحانی انجمنوں کی ایک کائنات بھی ہے۔ کتنے انبیائے کرام علیہم السلام، مقربین اور صالحین کی جماعتوں نے یہاں پڑاﺅ ڈالا ہمارے آقا ﷺنے تو صرف چشم تصور سے ہی نہیں، بلکہ حقیقی آنکھ سے دیکھ کر فرمایا کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام گزر رہے ہیں اور ادھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سواری ہے

حاجی کعبہ دیکھے تو جلال و جمال خداوندی کا تصور، مقام ابراہیم دیکھے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کے کعبہ کو تعمیر کرنے کا تصور ، حجر اسود کودیکھے تورسول اللہ ﷺ کے اسے نصب کرنے والے ہاتھوںکا تصور ، طواف کرے تو رسول اللہ ﷺ اور جماعت صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم کا کندھے ہلا کر کفار مکہ کے دل دھلانے کا تصور صفا مروہ کو دیکھتے ہی حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ان مضطرب لمحات کا تصور ، زمزم کا گھونٹ بھرتے ہوئے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ننھی ننھی ایڑیوں کا تصور ، منٰی میں رسول اللہ کی چھری کی طرف لپکتے اونٹوں کا تصور ،کیا پر نور زمانہ تھا، جب منٰی میں جمرہ عقبہ سے500 میٹر کے فاصلے پر مسجد بیعت کے مقام پرمدینہ شریف سے آئے ہوئے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی ، کیا حقیقت افروز لمحات تھے جب حجة الوداع کے موقع پر عرفات کے میدان میں جبل رحمت کی نچلی جانب مسجدصخرات کی جگہ قصواءاونٹنی پر کائنات کے رسول اعظم ﷺ قیامت تک کے انسانی ضابطوں کا متن ارشاد فرمارہے تھے ۔ حج کے موقع پر بیت اللہ کی زیارت اور مشاعر مقدسہ کی حاضری میں جہاں سرور و تسکین ہے ،وہاں مدینہ شریف کی حاضری بھی اس سفر کا خلاصہ ہے۔ مدینہ منورہ دارالایمان ہی نہیں، بلکہ ایمان بھی ہے ۔

سید المرسلین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی اس مقام پر جلوہ گری کی وجہ سے یہ سرزمین پوری کائنات میں منفرد ہے ،یہاں کے دن تو کیا راتوں میں بھی روشنی ہے۔ یہاں کے پھول تو کیا کانٹوں میں بھی حسن ہے۔ یہاں کے گلزاروں ہی میں نہیں بیابانوں اور ویرانوں میں بھی بہار رونق افروز ہے ۔ یہاں ماحول میں اپنے پن کا احساس اور فضاءمیں مٹھاس ہے۔ یہاں ہوائیں چلنے سے پہلے ادب و احترام کا قرینہ سیکھتی ہیں۔ چاند کی چاندنی باوضو ہو کر اور سورج کی کرنیں سو بار غسل کر کے حاضر خدمت ہوتی ہیں، یہاں صرف انسان ہی نہیں روزانہ ستر ہزار قدسی بھی حاضری کی سعادت پاتے ہیں ۔ دنیا کی کوئی بہار گنبد خضریٰ پر جمی ہوئی نگاہ کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکتی اور دنیا کا کوئی حاتم طائی مدینہ شریف کے منگتے کو اپنی طرف مائل نہیں کر سکتا۔ کجکلاہی بھی یہاں کی گدائی پر فخر کرتی ہے اور شام غریباں صبح وطن پہ شرف رکھتی ہے ،اس شہر میں جینے ہی کی نہیں، بلکہ حالت ایمان میں مرنے کی دعائیں مانگی جاتی ہیں....کیوں نہ ہو رسول اللہ ﷺ نے مدینہ شریف کی مشکلات پر صبر کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی ہے۔     ٭

مزید :

کالم -