امریکی فوجیوں میں خود کشی کا رجحان

امریکی فوجیوں میں خود کشی کا رجحان
امریکی فوجیوں میں خود کشی کا رجحان

  



امریکہ ایک جدید ترقی یافتہ مُلک ہے اور تمام ترقی یافتہ ممالک میں خودکشی کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ خودکشی کا سبب غربت ہوتی تو سب سے زیادہ خودکشیاں غریب ممالک میں ہوتیں ایک مادہ پرست سوسائٹی، جس میں روحانی تسکین کا کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے، اس لئے روحانی تسکین کی تلاش میں زندگی کا خاتمہ کرنا سبب بن گیا ہے۔ مشکلات سے فرار اور تلخ حقائق سے گریز انسان کو موت کی طرف لے جاتا ہے مادہ پرستی نے انسان کی روحانی خوشی کو چھین لیا ہے مادہ پرست سوسائٹی کا انسان جب مشکلات کا شکار ہوتا ہے، تو اسے کچھ سمجھ نہیں آتا کہ وہ کس طرح اپنی بے چینی اور اضطراب سے چھٹکارا حاصل کرے اس لئے وہ شراب کی طرف دوڑتا ہے ایک لحاظ سے یہ بھی تلخ حقائق سے فرار کا راستہ ہے، لیکن جب نشہ اترتا ہے تو اضطراب اور بے چینی، جس سے اس نے فرار کی راہ اختیار کی تھی وہ دوبارہ اس کی گرفت میں آ جاتا ہے اور اب تجزیاتی رپورٹ امریکہ کے بارے میں شائع ہوئی ہے، تو وہ حیران رہ گئے ہیں کہ امریکہ میں روزانہ سابق فوجی موت کو گلے لگارہے ہیں۔

ویت نام کی جنگ اور افغانستان کی جنگ کے بڑے مہیب اثرات ان فوجیوں پر پڑے ہیں، جو ان جنگوں میں شریک رہے ہیں یہ فوجی جب مقابلے میں اُترتے ہیں اوران کی نگاہوں کے سامنے خودکش حملے یا دوسرے حملوں میں دھماکے ہوتے ہیں اور انسانی لاشوں کو اُڑتے پھرتے دیکھتے ہیں اور ہر طرف خون ہی خون نظر آتا ہے تو ان کے ذہنوں میں منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور زندگی بعداز موت کا کوئی تصور واضح نہیں ہوتا ہے، اِس لئے یہ زندگی بے معنی محسوس ہوتی ہے جنگوں کے دوران انہیں نائٹ کلب اور محبوبائیں یاد آتی ہیں تو یہ فوجی بالکل مختلف نظر آتے ہیں نفسیاتی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ اپنی سوسائٹی میں ایڈجسٹ نہیں ہوپاتے ہیں اور یوں وہ اپنے معاشرے میں اپنا مقام نہیں بناسکتے ہیں، اِس لئے جنگ کے اثرات ان کے ذہنوں کو بہت زیادہ متاثر کرتے ہیں بعض دفعہ خودکشی کی بجائے مختلف لوگوں پر حملے کرتے ہیں مارتے اور پھر خودکشی بھی کرلیتے ہیں جنگ کے ہیجان انگیز مناظر انہیں مضطرب کئے رکھتے ہیں اس لئے حملے بھی کرتے ہیں اور خودکشیاں بھی کرتے ہیں۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراق اور افغانستان کی جنگ میں لڑنے والے ہزاروں فوجیوں نے موت کو گلے لگالیا ۔

اس جنگ میں جتنے فوجی مارے گئے ،اس سے تین گنا فوجیوں نے خودکشی کرلی ہیں اور اس خودکشی کے رحجان میں کوئی کمی نہیں آئی ہے ان دونوں جنگوں میں کئی مرتبہ تعیناتی کے عمل سے یہ فوجی گزرے ہیں۔ ان جنگوں میں آٹھ لاکھ فوجی ایسے ہیں، جنہیں کئی بار تعیناتی کے مرحلے سے گزرنا پڑا ہے۔ پورٹ لینڈ اسٹیٹ یونیورسٹی کے مارک کیلن واپولینٹ ڈیتھ رپورٹنگ سسٹم سے ملنے والے اعداد و شمار کی روشنی میں بتایا گیا ہے کہ عام شہریوں کے مقابلے میں سابق فوجیوں کی خودکشی کا رجحان دوگنا ہے ان میں سابق مرد فوجیوں میں اس عمل کا رجحان خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہے اورسابق مرد فوجی خودکشی کے لئے آتشیں اسلحہ کا استعمال زیادہ کرتے ہیں ۔مضمون نگار Anthony sowfford نے اپنے مضمون میں بیان کیا ہے کہ وہ فوج میں تھا اور جب فوج سے فارغ ہوا تو اندازہ ہوا کہ امریکی فوجی کی زندگی کس نوعیت کی ہوتی ہیں اور خودکشی کا رجحان کس طرح انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔

مَیں نے خلیج کی جنگ میں خدمات انجام دی تھیں چار سال کی خدمات کے بعد جب فارغ ہوا تو ایسے لگا جیسے زندگی میں کوئی زبردست خلا پیدا ہوگیا ہے اور سب کچھ ختم ہوتا دکھائی دیا، مَیں نے ایک ویئر ہاؤس میں ملازمت کر لی، جہاں لوگوں سے برائے نام رابطہ رہا اس کے بعدبحیثیت مصنف کام شروع کیا اور اس دوران بھی عام لوگوں سے کم رابطہ رہا، کسی نہ کسی طرح دوبارہ زندگی کو ڈھب پر لانے میں کامیاب ہو گیا، لیکن یہ سب کچھ میرے لئے اتنا آسان نہ تھا جب فوج سے نکلنے کے بعد زندگی میں بظاہر کچھ نہیں رہتا تو صرف مرنے کو جی چاہتا ہے۔ ایسے میں زندگی کوسمجھنا دشوار ہوتا ہے۔ امریکی حکومت کے محکمہ دفاع اور ویٹرن آفیسرز دونوں ہی جنگ کے دوران رونما ہونے والے واقعات اور قتل وغارت گری کے نفسیاتی مسائل کو قبول کرنے سے گریزاں ہیں، اوراس کے سماجی اثرات قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ محکمہ دفاع کے ماہرین اب تک خودکشی کے رجحان کی کوئی توجیح نہیں کرسکے ہیں۔ اب سابق فوجیوں میں خودکشی کا رجحان اس قدر زیادہ بڑھ گیا ہے کہ اب اسے وبا قرار دیا جارہا ہے۔

میدان جنگ میں کئی مرتبہ فوجیوں پر نفسیاتی دباؤ مرتب ہوتا ہے اس کا اثر ان کے مورال پر اور فوج پر مرتب ہوتا ہے ایک دور میں فوجی تربیت کافی تھی، مگر اب خودکشی سے باز رکھنے کے لئے بہت کچھ کرنا پڑے گا جب تک فوجی میدان جنگ میں قتل وغارت گری کو قریب سے دیکھتا ہے اور طاقت کے استعمال سے واقف ہوجاتا ہے تو اس کے بعد وہ ہر معاملے کو طاقت کے ذریعے درست کرنے کا اسیر ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر جوناتھن کہتے ہیں کہ جب ایک فوجی جنگ سے واپس آتا ہے تو اس میں تنہائی کا عنصر داخل ہوجاتا ہے اور اس کی نفسیاتی ساخت بری طرح متاثر ہوتی ہے موت کو بہت قریب سے دیکھتا ہے اس تکلیف دہ عمل سے وہ کئی بار گزرتا ہے یوں وہ اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہوتا ہے۔ ویت نام کی جنگ سے واپس آنے والے فوجیوں میں مایوسی اور بے چینی کے اثرات بہت نمایاں تھے۔ اب افغانستان اور عراق سے واپس آنے والے فوجیوں میں نفسیاتی مسائل اور پیچیدگیوں نے گھر کرلیا ہے اب وہ اپنے آپ کو معاشرے میں پوری طرح ایڈجسٹ نہیں کرپارہے ہیں۔

بار بار کی تعیناتی نے ان میں اخلاقی کمزوریاں پیدا کردی ہیں اخلاقی طور پر کمزور نفسیاتی ساخت ان کی زندگی کو برباد کرکے رکھ دیتی ہیں اور پھر معاشرے میں اپنے آپ کو ایڈجسٹ نہیں کر پاتے ہیں ایسے فوجی جب جنگ سے واپس اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں تو وہ بظاہر کسی پر اعتبار کرنے کوتیار نہیں ہوتے ہیں جارج واکربش کے دور میں یہ پالیسی اختیار کی گئی تھی کہ مرنے والے فوجیوں کی تصاویر شائع نہ کی جائیں ایسی تصاویر سے معاشرے میں بے چینی پیدا ہوتی ہے اب امریکی فوج کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ میدان جنگ سے واپس آنے والوں کو دوبارہ زندگی کی طرف لانے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اگر اس طرح نہ کیاگیا تو فوج کا مورال بہت گر جائے گا۔ سابق فوجیوں کے مسائل بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں اور ان کا رجحان خودکشی کی طرف ہے۔ سابق فوجی میدان جنگ میں بہت کچھ دیکھنے کے بعد وہ ہمت ہار چکے ہیں موت کو بہت قریب سے دیکھنے کے بعد ان میں زندگی کے لئے بہت عجیب و غریب تصورات جنم لے چکے ہیں یہ سب کچھ ان کی نفسیاتی ساخت کو بہت بری طرح متاثر اور مجروح کرتا ہے۔ افغانستان اور عراق سے جنگ کے بعدواپس آنے اولے فوجی ذہنی مریض بن کرلوٹے ہیں اور بے شمار نفسیاتی مسائل کاشکار ہوگئے ہیں انہیں نارمل حیثیت سے ایک شہری کی زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے(نیوز ویک)

مزید : کالم