پاکستانی فوج نے جب بھی مدد کی درخواست کی ایساف نے فورس بھیجی:نیٹو ترجمان

پاکستانی فوج نے جب بھی مدد کی درخواست کی ایساف نے فورس بھیجی:نیٹو ترجمان

برسلز (ثناءنیوز )نیٹو نے امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر شیری رحمان کے ان دعووں کو غلط قرار دیا ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران پاکستان سے افغانستان میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کے بارے میں مغربی دفاعی اتحاد کو 52 مرتبہ مطلع کیاگےا۔ پاکستانی فوج نے جب بھی مدد کی درخواست کی ہے، ایساف نے معاملے سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر فورس بھیجی ہے۔نیٹو کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کے ساتھ تعلقات میں حالیہ بہتری کے تناظر میں ایساف سرحد پار نقل و حرکت کی ہر رپورٹ کو سنجیدگی سے دیکھے گی اور جب اور جہاں بھی ممکن ہوا، معاونت کرے گی۔نیٹو نے اتوار کے بیان میں مزید کہا: ہمارے متعدد مشترکہ مفادات ہیں جن میں حقانی نیٹ ورک کی جانب سے سرحد پار حملوں کے خلاف باہمی تعاون پر مبنی کارروائی سے وابستگی بھی شامل ہے۔نیٹو نے حقانی نیٹ ورک کو افغانستان، پاکستان اور خطے کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔نیٹو کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر السلام امریکا کا دورہ کرنے والے ہیں۔ وہاں وہ اپنے امریکی ہم منصب جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔ ظہیر السلام یکم اگست کو امریکا پہنچ رہے ہیں۔امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر شیری رحمان نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے حالیہ مہینوں کے دوران باون مرتبہ نیٹو کو ایسے واقعات سے آگاہ کیا جب شدت پسندوں کو افغان علاقے میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔شیری رحمان نے یہ بات کولوراڈو میں ایسپن سکیورٹی فورم کے موقع پر کہی۔ وہ ویڈیو کانفرنسگ کے ذریعے خطاب کر رہی تھیں۔

مزید : صفحہ آخر