سیاسی ماحول تلخی اور بڑھی،معیشت اب تک ڈانوا ڈول،مہنگائی سے عوام کا بُرا حال

سیاسی ماحول تلخی اور بڑھی،معیشت اب تک ڈانوا ڈول،مہنگائی سے عوام کا بُرا حال

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو قائم ہوئے ایک سال گذر گیا،لیکن اس عرصہ میں سیاست کی حدت و شدت اسی طرح برقرار رہی جیسے کہ عام انتخابات کے دوران تھی،جبکہ ملکی سیاست کے اس مدو جزر میں معیشت کی کشتی بھنور میں پھنسی ہوئی نظر آتی ہے۔حکومتی دعوؤں کے مطابق نیا پاکستان بن رہا ہے، جس کے تحت بہت ساری اصلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں۔ملکی معیشت کو درست ڈگر پر ڈال دیا گیا ہے۔ مدینہ منورہ کی ریاست زیر تشکیل ہے۔ صدر پاکستان عارف علوی نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنی دھن کے پکے ہیں اور وہ پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنا کر ہی دم لیں گے،لیکن تعجب ہے کہ زمینی حقائق ان دعوؤں سے کوسوں دور نظر آتے ہیں۔عام آدمی کی زندگی مہنگائی سے مشکل سے مشکل ترین ہوتی جا رہی ہے،ملک میں افراطِ زر کی شرح بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔حکومت افراطِ زر کو قابو میں کرنے کے لئے شرح سود میں اضافہ کئے جا رہی ہے،جس سے ملکی معیشت مزید سست روی کی طرف مائل نظر آ رہی ہے۔اپوزیشن تو اپوزیشن ملک کے نامور معیشت دان حکومت کی ناقص اقتصادی پالیسیوں پر دہائی دے رہے ہیں، حتیٰ کہ حکومت کے طرف دار ماہرین معیشت بھی اقتصادی پالیسیوں پر سٹپٹا رہے ہیں۔دلچسپ امر یہہ ے کہ جس معاشی ماڈل اور اس مال کے پیروکاروں نے ملکی معیشت کو70 سال میں اس نہج پر پہنچایا ہے، وہی لوگ حکومت کی معاشی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔اب امیروں سے بھی ٹیکس لینے کی بات ہو رہی ہے،متوسط طبقہ پر غیر ضروری بوجھ ڈالا جا رہا ہے، لیکن اس کا مقصد انتہائی امیروں کو بیل آؤٹ کرنا ہے۔قرضے بھی سابقہ حکومتوں کی رفتار سے لئے جا رہے ہیں اور سارا بوجھ عام اور متوسط طبقہ پر ڈالا جا رہا ہے۔ حکومت نے ملکی معیشت کے بنیادی ڈھانچہ میں کوئی تبدیلی کی نہ ہی اس حوالے سے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی سامنے آئی ہے۔دوسری جانب سیاست کی طرف نظر ڈالیں تو حکومت نے کرپشن کے خلاف نعروں کو عملی جامہ پہنانے کا عتاب صرف حکومت مخالف اپوزیشن رہنماؤں پر گرتا نظر آتا ہے۔حکومت بلاامتیاز احتساب کا تاثر قائم کرنے میں مکمل ناکام نظر آ رہی ہے۔ حکومت کی احتسابی پالیسی اختلاف کرنے والوں کی آوازوں کا گھلا گھونٹا جانے کا تاثر عام ہے۔اس کی سب سے دلچسپ اور مضحکہ خیز مثال ایک قلم کار اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما عرفان صدیقی کے ساتھ پیش آنے والا خوفناک واقعہ ہے، جس نے حکومتی رٹ، ضلعی انتظامی مشینری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ ملک کے عدالتی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں،ان کی گرفتاری ایک بڑا معمہ اور ان کی رہائی اس سے بھی بڑا ایک معمہ بن کر سامنے آئی ہے،اس طرح کے واقعہ کے بارے میں شاید کسی شاعر نے کہا تھا کہ کیا اسیری ہے، کیا رہائی ہے! عرفان صدیقی کو جس طرح سے اور جس مقدمہ میں گرفتار کیا گیا اس کی برصغیر پاک و ہند کی عدالتی و قانونی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی، کیونکہ برصغیر پاک و ہند میں انگریز دور کا قانون ہی چل رہا ہے توا س کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں یہ ایک انوکھا کیس ہو گا۔ ضلعی انتظامیہ اسلام آباد جس میں آئی جی اسلام آباد اور کمشنر اسلام آباد سے لے کر تمام افسران نے کس کے ایماء پر انتہائی عجلت میں معمول کے قانونی طریقہ کار کو پامال کرتے ہوئے عرفان صدیقی کو گرفتار کیا؟ تاہم ملک گیر سطح پر اس واقعہ کا جو ردعمل سامنے آیا اس کے بعد پہلے سے زیادہ عجلت میں دوبارہ قانونی عمل اور طریقہ کار کی رسمی کارروائی کے ذریعے عرفان صدیقی کی رہائی عمل میں آئی۔ بعدازاں وزیراعظم عمران خان کی طرف سے اس امر کا اظہار کیا گیا کہ وزیراعظم اس واقعہ کا نہ صرف نوٹس لیاہے،بلکہ اس واقعہ کی انکوائری کا بھی حکم دیا ہے کہ اسلام آباد پولیس اور سول مشینری میں سے جو لوگ بھی اس واقعہ میں ملوث ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔اب دیکھنا ہے کہ یہ کیس آئندہ کیا رخ اختیار کرتا ہے۔ ملک کے گرما گرم سیاسی ماحول میں قومی اسمبلی کا جاری اجلاس شاید سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بنے۔ایوان میں اپوزیشن سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پر زور ڈال رہی ہے کہ تمام اسیر ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں،جس میں سپیکر اسد قیصر بظاہر لیت و لعل سے کام لیتے نظر آ رہے ہیں۔ حکومتی اور اپوزیشن بنچ سے جوش کا مظاہرہ کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایوان میں وزیراعظم کے دورہئ امریکہ پر بھی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔اپوزیشن وزیراعظم عمران خان کے دورہئ امریکہ کو آڑے ہاتھوں لے رہی ہے،جبکہ حکومتی حلقے اس دورہ کی مدح سرائی میں مصروف ہیں،تاہم وزیراعظم عمران خان کا دورہ نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے مستقبل کے حوالے سے نہایت اہم ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ٹرمپ کے مابین ملاقات کا نقطہ عروج درحقیقت افغان طالبان اور امریکہ کے مابین افغانستان کے مستقبل کے تعین کے حوالے سے جاری امن مذاکرات میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے ”ڈو مور“ ہی تھا، لیکن شاید پاکستان کے خطے کے حوالے سے اپنے مفاد میں بھی ”ڈو مور“ ہی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے بھی بلاواسطہ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان اپنے اثرو رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے طالبان پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ افغانستان میں پائیدار امن کے لئے امریکہ سے مذاکرات کو نتیجہ خیز بنائیں۔امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کو اس ہوم ورک کے بدلے میں پاکستان کے لئے بعض آسانیاں پیدا کرنا شروع کر دی ہیں۔امریکہ نے پاکستان کے لئے بعض شعبوں میں امدادی پروگراموں کے آغاز کا عندیہ دے دیا ہے جو کہ پاکستان کے لئے ایک خوش آئند بات ہے۔افغان طالبان کا حتمی مذاکرات کے لئے پاکستانی قیادت سے صلاح و مشورے کے لئے ایک دورہئ پاکستان جلد متوقع ہے،کیونکہ جہاں ایک طرف افغان طالبان افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے مذاکرات کر رہے ہیں تو دوسری جانب کابل میں نتخابی عمل بھی چل رہا ہے۔اس حوالے سے افغان طالبان کا دورہئ پاکستان افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت ہو گی۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...