خلا ،انسان اور عبادت

خلا ،انسان اور عبادت

زمین سے اوپر خلا سچ مچ ایک الگ دنیا ہے ۔خلا میں جانے والے پہلے مسلمان رائل سعودی ائیر فورس کے پایلٹ شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز تھے۔شہزادہ سلطان نے 1985ء میں یہ اعزازا حاصل کیا ۔انہوں نے اس سفر کو ایک معجزے کے طور پر بیان کیا ہے۔مسلم خواتین میں یہ اعزاز ایران کی انوشے انصاری نے حاصل کیا۔ انوشے الیکٹرانک انجنئیر تھی اور ایران سے ہجرت کرکے امریکہ میں مقیم ہوگئیں اور وہیں سے انہیں یہ موقعہ ملا جسے انہوں نے ضائع نہیں ہونے دیا۔ انوشے نے یہ موقعہ سلف فنانس سکیم کے تحت بیس ملین ڈالر دے کر حاصل کیا۔انوشے نے اس سفر پر کتاب بھی تحریر کی ہے جس کا نام ’’مائی ڈریم آف سٹارز‘‘ ہے۔ان دونوں مسلمانوں کو خلا میں نماز کے حوالے سے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا جسے انہوں نے بیان کیا۔

انتہائی دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب 2007میں ملائیشیا کے ماہر فلکیات ڈاکٹر مظفر شکور کو ملائیشین گورنمنٹ نے خلا میں بھیجنے کا فیصلہ کیا تو ان کے اس ٹرپ میں رمضان کے روزے بھی آرہے تھے اور انہیں اپنی سب سے اہم عبادت نماز بھی پڑھنا تھی جس کی چھوٹ کسی مسلمان کو نہیں ہے۔ڈاکٹر مظفر دیندار آدمی ہیں اس لئے انہوں نے اپنا مسئلہ ملائشین گورنمنٹ کے سامنے رکھا کہ میں وہاں نمازیں کیسے ادا کروں گا اور روزے کس طرح رکھ سکوں گا کیونکہ اجرام فلکی کے مدار کے مطابق زمین کی حرکت 17136 میل فی گھنٹہ( 27577 km/h)کی رفتار سے ہے وہاں سے مکہ کی طرف منہ کرکے نماز ادا کروں گا، وہ خلا میں ہوں گے اور مکہ زمین پر۔

دوسرا وہاں چوبیس گھنٹوں میں 16 بار دن اور رات کا نقشہ بدلتا رہتا ہے۔اگر میں سورج کے طلوع و غروب کے مطابق نمازیں ادا کروں تو ہراٹھارہ منٹ بعد ایک نماز پڑھنی پڑے گی اس طرح ایک دن میں80 نمازیں ادا کرنا ہوں گی۔اور اسی طرح روزے بھی ایک دن میں 16 رکھنے ہوں گے۔ملائشین گورنمنٹ کے لئے بھی شرعی مسئلے پرانتہائی دلچسپ صورتحال تھی کہ ڈاکٹر مظفر شکور کی کیسے راہنمائی کی جائے جس سے وہ خلا میں اپنی عبادت شرعی طریقہ سے کرسکیں اور ان کا ٹرپ بھی منسوخ نہ ہو۔

ملائشیا میں ڈاکٹر مظفر شکور کے اس مسئلے کو لے کر دلچسپ بحث چھڑ گئی۔کوئی کہے کہ خانہ کعبہ تو زمین پر خانہ کعبہ کی چھت پر جیسے نماز جائز نہیں اسی طرح خانہ کعبہ کے اوپر بھی نماز جائز نہیں۔ کسی نے نکتہ اٹھایا کہ نماز روزہ تو انسان کے لئے زمین پر فرض ہے جب وہ زمین پر ہی نہیں اور زمین کی کشش سے باہر نکل گیا ہے تو پھر زمینی عبادت کرنے سے وہ آزاد ہے۔کسی نے کہا خانہ کعبہ کو نیچے تصور کرکے نماز پڑھنا خانہ کعبہ کی بے حرمتی ہے غرض جس عالم کے پاس جتنا علم تھا اس نے اس کے مطابق فتوے داغ دئیے۔

ڈاکٹر مظفر شکور اس بات پر قائل تھے کہ ایک صحت مند عاقل و بالغ شخص کو اسلام میں نماز کی چھوٹ نہیں ہے اس لئے وہ ہرحال میں اپنی نماز اداکریں گے۔ملاؤں کے دلچسپ اور عجیب و غریب فتووں سے جب صورتحال مضحکہ خیز بن گئی تو ملائیشین گورنمنٹ نے انتہائی تدبر سے اس مسئلے کاحل نکالنے کے لئے ایک سو پچاس(150) اسلامی سکالرز کی ایک کانفرنس بلا لی اور ان کے سامنے ڈاکٹر مظفر شکور کا مسئلہ رکھا ۔ سکالرز نے اس پر تمام شرعی اصولوں پر بحث کی اور مستقبل میں خلا میں جانے والے تمام مسلمان سائنسدانوں کی راہنمائی فرما دی۔

کعبہ کی سمت کے لئے ڈاکٹر خلیل محمد جن کا تعلق سان ڈیگو یونیورسٹی سے تھا نے کہا۔’’ اگر کعبہ نظر آرہا یا اس کی صیح ڈائریکشن کا علم ہے تو اس طرف منہ کرلیں اگر آپ اس میں کامیاب نہیں ہوتے توزمین پر جس بھی سمت کا اندازہ کر لیں نماز پڑھ سکتے ہیں۔‘‘

اس کے بعد یہ مسئلہ کہ خلا میں نماز کی ادائیگی کیسے کی جائے کیونکہ زمین مسلسل متحرک ہے اور اگر سمت کا انداز کر لیا جاتا ہے تو اگلے لمحے خانہ کعبہ کا مقام تو وہاں سے حرکت کرکے اپنی سمت بدل چکا ہوگا تو کیا نماز پڑھنے والا شخص بھی اپنی پوزیشن اسی رفتار سے کیسے بدلتا رہے گا اور خلا میں جم کر کھڑا ہونا بھی ممکن نہیں ۔سکالرز نے اس نکتے کا بھی بڑا خوبصورت حل بتایا اورپانچ مختلف طریقوں سے نماز کی ادائیگی کا بتا کر سارے مسئلے کو آسان کر دیا۔

1۔ اگر سیدھا کھڑا ہو کر نماز ادا نہیں کیا جا سکتی تو پھر جس بھی طرح اور جتنا بھی کھڑا ہو جا سکتا ہے کھڑے ہو سکتے ہیں۔

2۔ بیٹھ کر یا بیٹھنے کے پوزیشن جس میں تھوڑی گھٹنوں کو لگ رہی ہو یاایسے جیسے سجدے میں گر رہا ہو نماز پڑھ سکتے ہیں

3۔دائیں کروٹ لیٹ کر اور قبلہ رخ منہ کرلیں(اگر سمت معلوم ہوتو) اور نماز اداکرلیں

4۔ سیدھا لیٹ کر۔۔آنکھوں کے اشارے سے ، آنکھوں کو ایسے حرکت دیں جیسے قیام ،رکوع اور سجود کررہے ہیں۔

5۔اگر کوئی اعضاء نہیں ہلا سکتے تو ذہن میں نماز پڑھنے کاخیال کریں اور خیال میں نماز کی ادائیگی کرلیں۔

سکا لرز نے کہا کہ جس جگہ پر آپ ہوں اور نماز کی ادائیگی کا ان میں سے کوئی بھی طریقہ جس کے مطابق آپ ادا کر سکتے ہوں کر لیںآپ کی نماز ہو جائے گی۔سکالرز نے یہ بھی کہا کہ نماز کوئی ورزش نہیں ہے یہ عبادت ہے جس کے لئے اعضا ء سے زیادہ اس بات کی اہمیت ہے کہ آپ کی اپنے خدا کی طرف توجہ کتنی ہے اور آپ کس دلجمعی اور عقیدت سے عبادت کر کے اس کا حکم بجا لارہے ہیں۔ ڈاکٹر مظفر کو انہوں نے کہا کہ آپ زمین کے جس حصے سے خلا میں جائیں گے خلا میں جا کر اس علاقے کے اوقات کے مطابق اپنی نمازیں ادا کریں اور روزے رکھیں۔ کعبہ کی سمت کا تعین بھی اسی علاقے کے مطابق کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر مظفر کیونکہ قازقستان سے خلا میں گئے تھے اس لئے انہوں نے تمام نمازیں اور روزے قازقستان کے اوقات کے مطابق ہی ادا کئے۔روزوں کے لئے سکالرز نے یہ بھی کہا کہ اگر انہیں اپنے کام کی وجہ سے خلا میں روزوں میں کوئی دشورای پیش آ رہی ہو تو وہ روزے زمین پر قضا رکھ سکتے ہیں ،جبکہ نمازیں جس بھی ممکنہ حالت میں ادا کرسکیں وہ قازقستان کے اوقات کے مطابق اداکریں۔

ڈاکٹر مظفر شکور کے اس ٹرپ سے پیدا ہونے والی دلچسپ صورت حال کا مسلمان سکالروں نے علمی بحث کے بعد خوبصورت حل نکال دیا۔اسلام علم کا دین ہے کاش ہمارے تمام مسلکی اور فرقہ ورانہ مسائل کے حل کے لئے ملاؤں کی بجائے سکالرز کو دعوت دی جائے کہ وہ امہ کی راہنمائی کریں۔بدقسمتی سے ہمارا دین ملاؤں نے یرغمال بنا لیا ہے اور فرقوں کو سیاسی گروہوں میں بدل کر نفرتوں کو ہوا دے رہے ہیں۔ایک اللہ ، ایک قرآن ، ایک نبیﷺ اور فرقے کئی، یہ سب اس لئے ہے کہ ہم نے دین کو سمجھنے کے لئے علم کا رستہ اپنانے کی بجائے نیم ملاؤں کے حوالے اپنی امہ کو کردیا ہے جنہوں نے چھوٹے چھوٹے مسائل کواس قدر مضبوط کر دیا ہے کہ ان کی وجہ سے امہ میں پھوٹ پڑ چکی ہے۔

یہ بڑے دلچسپ لوگ ہیں سیاسی مفاد کے لئے ایک دوسرے کو گلے لگا لیں گے لیکن دین کے لئے ان کے دلوں میں محبت پیدا نہیں ہوتی۔ کاش اس دین کو اسلامی سکالرز کی راہنمائی مل جائے اور ہم فتوؤں،تہمتوں اور ایک دوسرے کو کافر کہنے کی بجائے ایک مسلمان امہ بن جائیں۔

مزید : رائے /کالم