قومی خزانے کو،لوٹنے والے عناصر سے بچایا جائے

ہماری دانستہ کوتاہیوں کی بنا پر وطنِ عزیز کو کرپشن کی بنا پر ہر سال کروڑوں، اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، سرکاری دفاتر میں کام چوری کا رجحان بھی خاصی قابلِ ذکر حد تک کار فرما ہے۔ خزانے کو لوٹنے میں بددیانتی اور فراڈ کے مرتکب افراد کے علاوہ وہ لوگ بھی شامل ہیں جو دفتری اوقات میں اپنی نشست یا دفتر میں موجود ہونے کے باوجود کام چوری کی روش پر گامزن ہیں۔یہ اندازِ فکر وعمل بدقسمتی سے سرکاری دفاتر میں معمول کا طریقہ اختیار کر گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین اگر مروجہ کرپشن اور ملکی وسائل کی لوٹ مار کا سدِ باب کرنے میں مخلص ہوں، تو پھر یہ ناجائز رجحان اور شیطانی اندازِ کار ہے، کم و بیش ہر شعبۂ حیات میں، سالہا سال سے بلا روک ٹوک کیوں جاری ہے؟ کیا اس بدعملی سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ وطنِ عزیز میں بڑی سیاسی جماعتیں،غیر قانونی کارروائیوں کو مستقل مزاجی سے روکنے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے سے تاحال قاصر رہی ہیں۔ اگر چند رہنما اس کارِ خیر میں خلوص نیت اور عزم صمیم سے کام کرنے کو بھی تیار ہوتے ہیں تو پھر ان کی راہ میں دیگر ہم منصب اور مقتدر قائدین کی قوت اور اتحاد، آڑے آ رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح عوام کے ٹیکسوں کے کروڑوں روپے ’’ مالِ مفت، دلِ بے رحم‘‘ کے مصداق بااثر اور بددیانت افراد کی حمایت سے خورد برد کرنے کے منظم اور محفوظ طریقے اختیار کئے جاتے ہیں۔ حد یہ کہ ان اداروں کے سینئر اور جونیئر ملازمین بھی، خوف یا بھائی چارے کے تعاون کے اصول کو اپنا کر خاموش رہنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔
سلطنتِ خداداد میں گزشتہ70سال سے ہمارے بیشتر اداروں میں روزانہ، دن دہاڑے ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ اُن کو قانونی طور پر روکنے کے ادارے، نیب اور اینٹی کرپشن وغیرہ اکثر اوقات موثر اور کارآمد نہیں ہوتے۔ اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ان اداروں کے سینئر اور ماتحت ملازمین اپنی بددیانتی یا بزدلی کی بنا پر خاموش رہنے کو ہی ترجیح دے کر وقت گزارنا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔کیا یہ خاموش رہنے کی روش، مجرموں کی غیر قانونی کارروائیوں کو دانستہ چھپانے اور پناہ دینے کی سرگرمیوں کی اعانت اور حوصلہ افزائی کا شاخسانہ نہیں ہوتی؟ اگرچہ ان افراد نے بذاتِ خود مذکورہ بالا جرائم کا ارتکاب نہیں کیا،لیکن ان غلط کاروں کا جلد یا بدیر علم تو، اُن حضرات کو ہو جاتا ہے، جس پر وہ قانونی گرفت کرنے والے متعلقہ اداروں کو ذمہ دار مرتکب افراد کی اطلاع دے دیں تو بلا شبہ مجرموں کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جا سکتاہے۔
بعض احتسابی ادارے مجرمان کی گرفت اور نشاندہی پر اطلاع دہندہ افراد کو جان و مال کا تحفظ اور کچھ معاوضہ بطور انعام دینے کے اعلانات تو کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح مجرمان کو متعلقہ اداروں اور عدالتوں سے سزائیں دِلانے کے امکانات قوی ہو سکتے ہیں۔ عدالتوں میں مضبوط گواہان اور ٹھوس دستاویزی ثبوتوں پر مبنی شہادت دینے سے ہی مجرمان کو سزائیں مل سکتی ہیں۔ بعض ملزمان اپنے مقدمات میں مخالف گواہان کو ڈرا دھمکا کر عدالتوں میں شہادت دینے سے باز رکھنے کی کوششیں کرتے ہیں، بدقسمتی سے ایسے عناصر اپنے عزائم میں اکثر اوقات کامیاب نظر آتے ہیں، کیونکہ وہ مالی اور سماجی طور پر زیادہ اثرو رسوخ کے حامل ہوتے ہیں، جبکہ عام لوگ ان کی شیطانی عادات سے اکثر خائف ہو کر کھلے عام ان کی مخالفت اور مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں کرتے۔ اس طرح، مجرمان اپنی تخریبی کارروائیوں کی وجہ سے عدم شہادت کی بنا پر عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں،پھر وہ اپنے علاقوں میں آزادی سے دندناتے پھرتے ہیں۔
کراچی میں گزشتہ تین دہائیوں میں سماج دشمن عناصر بڑی دیدہ دلیری سے قتل، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور ڈاکہ زنی کے واقعات میں سزائیں پانے کی بجائے عدالتوں سے بری ہو رہے ہیں، حتیٰ کہ ایک فیکٹری میں بھتہ نہ ملنے پر ملزموں نے259افراد کو آگ لگا کر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، کیا کوئی عام آدمی ایسی سنگین واردات کر کے گرفت اور سزا سے محفوظ رہ سکتا ہے؟ امید ہے کہ مستقبل قریب میں اِس غیر انسانی واردات کے عدالتی فیصلے کا کوئی نتیجہ سامنے آ سکے گا۔