گناہ کے بعد اللہ سے معافی مانگنے کا وہ درست طریقہ جو ہر مسلمان کو ازبر ہونا چاہئے

روشن کرنیں

انسان خطا کا پتلا ہے اور وہ روزمرہ معاملات میں غلطیاں کرکے گناہ کر بیٹھتا ہے ۔اللہ کریم و رحم اپنے بندے کو جب اپنی جانب رجوع کرتے دیکھتے ہیں تو اسکی خطا معاف فرمادیتے ہیں ۔جو لوگ سہواً گناہ کربیٹھتے ہیں انہیں معافی مانگنی چاہئے اور اللہ سے اپنے گناہ کی معافی مانگنے کا درست طریقہ کیا ہے اس بارے میں مسند احمد میں حضرت علیؓ سے منسوب اس حدیث مبارکہ سے رہ نمائی لی جاسکتی ہے
مسند احمد میں مرقوم ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ میں جب بھی نبی علیہ السلام سے کوئی حدیث سنتا تھا تو اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا تھا، مجھے اس سے فائدہ پہنچاتا تھا، اور جب کوئی دوسرا شخص مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرتا تو میں اس سے اس پر قسم لیتا، جب وہ قسم کھا لیتا کہ یہ حدیث اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تب کہیں جا کر میں اس کی بات کو سچا تسلیم کرتا تھا۔
مجھ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے اور وہ یہ حدیث بیان کرنے میں سچے ہیں کہ انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی کوئی گناہ کر بیٹھے، پھر وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے، اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ کو یقیناً معاف فرمادے گا۔