چیف جسٹس کا جنرل راحیل شریف اور جنرل شجاع پاشا کی بیرون ملک ملازمتوں کا نوٹس،سیکرٹری دفاع سے تفصیلات طلب

چیف جسٹس کا جنرل راحیل شریف اور جنرل شجاع پاشا کی بیرون ملک ملازمتوں کا ...
چیف جسٹس کا جنرل راحیل شریف اور جنرل شجاع پاشا کی بیرون ملک ملازمتوں کا نوٹس،سیکرٹری دفاع سے تفصیلات طلب

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے جنرل راحیل شریف اور جنرل شجاع پاشا کی بیرون ملک ملازمتوں کا نوٹس لے لیا اور سیکرٹری دفاع کو 27 اگست تک تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے اعلی سرکاری افسران کی دہری شہریت کیس کی سماعت کی۔اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اعلی عہدوں پر 27 ایسے افسران ہیں جن کی دہری شہریت ہے ۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عدالتی معلومات کے برعکس کسی پاکستانی سفیر کی دہری شہریت نہیں ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف آئی اے نے بہت سارے افسران کی دہری شہریت کی شناخت کی ہے، ایسے افسران بھی ہیں جن کے رشتہ داروں کی دہری شہرہت ہے، افسران کے رشتہ داروان کی دہری شہریت پر بھی تحفظات ہیں ۔

سماعت کے دوران سیکرٹری دفاع عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ فوج میں دہری شہریت والا شخص بھرتی نہیں ہو سکتا کیونکہ قواعد اس کی اجازت نہیں دیتے۔ سیکرٹری دفاع نے بتایا کہ فوج میں کوئی بھی اہلکار یا افسر دہری شہریت کا حامل نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک پرفارما بنا کر تمام افسران سے معلومات حاصل کر کے عدالت کو آگاہ کریں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا فوجی افسران کی بیگمات غیر ملکی شہریت رکھ سکتی ہیں؟ سیکرٹری دفاع نے جواب دیا کہ غیر ملکی خاتون سے شادی کیلئے افسران کو آرمی چیف سے اجازت لینا پڑتی ہے۔عدالت کو معاون وکیل نے بتایا کہ سابق سرکاری ملازمین کی ملازمت پابندی کے قانون 1966 کا ہے جس کے تحت ریٹائرمنٹ کے دو سال بعد کسی جگہ نوکری کی جا سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال کے اندر ملازمت نہیں کی جا سکتی، کیا فوجی افسران بھی سرکاری ملازم تصور ہوں گے؟۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جنرل پاشا ریٹائرمنٹ کے چند دن بعد دبئی میں ملازمت کرنے چلے گئے، وہ آئی ایس آئی کے ڈی جی تھے، ان کے پاس اہم معلومات ہیں، اسی طرح جنرل راحیل شریف بھی سعودی عرب چلے گئے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ کیا قانون میں ایسی ملازمت کیلئے کسی این او سی کی گنجائش ہے؟۔ اٹارنی جنرل نے ہاں میں جواب دیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ این او سی وفاقی حکومت نے دینا تھا اور وفاقی حکومت کا مطلب کابینہ ہے۔ افسران کے پاس اہم معلومات ہوتی ہیں خدانخوستہ بیرون ملک جاتے ہوئے ان کے ساتھ کچھ ہو جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ وفاقی حکومت نے جنرل راحیل کو اجازت دی تھی۔ سیکرٹری دفاع نے کہا کہ حکومت نے این او سی دیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کس نے، کس طرح اور کس نوعیت کا این او سی دیا ہوگا۔

عدالت نے غیر ملکی شہریت والے 27 افسران کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا جبکہ جنرل راحیل کو جاری کئے گئے این او سی کا ریکارڈ اور فوجی افسران کی غیرملکی شہریت والی بیگمات کی تفصیل فراہم کرنے کیلئے سیکرٹری دفاع کو ہدایت کرتے ہوئے سماعت 7 اگست تک ملتوی کر دی ہے۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد


loading...