ہمارا لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے؟

ہمارا لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے؟

الیکشن کا عمل مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں ہمیشہ یہ روایت رہی ہے کہ ہارنے والوں نے نتائج قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ دولتانہ، ممدوٹ کشمکش کے بعد یہ سلسلہ اب تک جاری ہے، کیونکہ سرکاری اداروں کو غیر جانبدار اور توانا نہیں کیا گیا۔ ہر جماعت سرکاری ملازموں کو ذاتی ملازم سمجھتی ہے۔ میڈیا نے اس ٹرینڈ کو کافی حد تک تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔دھرنوں کے ذریعے بھی مطالبات منوانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ دیکھتے ہیں یہ سلسلہ کہاں جا کر رکتا ہے۔ میاں نواز شریف کا تیسری بار وزیراعظم بننے کا خواب حقیقت کے قریب ہے۔ میاں نواز شریف کو شروع ہی میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا، لوڈشیڈنگ کا مسئلہ سرفہرست ہے۔ انتہائی کم وقت میں بجٹ کی تیاری بھی کسی چیلنج سے کم نہیں۔ انتخابی وعدے پورے کرنے کے ساتھ اندرونی و بیرونی مسائل سے نبرد آزما ہونا پڑے گا۔

 میاں نواز شریف کا اصل امتحان اب شروع ہونے والا ہے، جہاں انہیں عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے ساتھ ساتھ امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے کہیں پاک ایران گیس پائپ لائن کی قربانی نہ دینی پڑ جائے؟ اس صورت میں میاں نواز شریف کو قلیل مدت میں بجلی اور گیس کی کمی کو دُور کرنے کے لئے کوئی حل تلاش کرنا ہو گا، کیا امریکہ اور سعودی عرب پاکستان کو سستے نرخوں پر بجلی اور گیس حاصل کرنے مےں مدد فراہم کریں گے؟ یہ سوال تو آنے والا وقت ہی حل کرے گا۔ دوسری طرف چین کے ساتھ تعلقات کیا رُخ اختیار کریں گے؟ طالبان کے ساتھ مذاکرات اگر ہوتے ہیں تو کیا اثرات لائیں گے؟ یہ تو وقت ہی ثابت کرے گا کہ نعروں اور حقیقت میں کتنا فاصلہ ہوتا ہے۔ گوادر کے ٹھیکے کا مسئلہ بھی دوسرے ممالک کے تحفظات کی نذر تو نہیں ہو جائے گا۔

ویسے صدر آصف علی زرداری کو داد دینا پڑے گی کہ پہلے حکومتوں میں مخالفوں کو ساتھ ملاتے رہے، پھر آنے والی حکومت کے لئے ایسے تیر برسا دیئے جو اگلی حکومت کو چھلنی نہ سہی ، لیکن درد کی شدت کا احساس ضرور دلائیں گے۔ میاں نواز شریف نے عمران خان کی تیمارداری کر کے جہاں اچھی روایت قائم کی، وہاں انہوں نے مستقبل کے خطرات کو بھانپتے ہوئے اس کے اثرات کو کم کرنے کے لئے ”زبان سے لگے زخموں“ کو بھلا کر اچھے تعلقات کی ابتدا کی ہے۔ آنے و الے کچھ عرصے میں میاں نواز شریف کو کچھ ایسے اہم فیصلے کرنے پڑ سکتے ہیں، جو کسی بھی تحریک کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اگر ان فیصلوں کے خلاف چلنے والی تحریک کو مفاہمتی پالیسی کے ذریعے کنٹرول نہ سہی، اس میں کمی ضرور لائی جا سکتی ہے، کیونکہ یہ بات طے ہے کہ اب جو تحریک چلے گی، وہ فرینڈلی نہیں ہو گی، بلکہ اصلی اور نتیجہ خیز ہو گی، اس لئے میاں نواز شریف ماضی سے سبق حاصل کرتے ہوئے ایسے معاملات کی طرف نہیں بڑھیں گے، جو ان کو وقت سے پہلے اقتدار سے علیحدگی اور طاقت ور حلقوں سے دوری کی طرف لے جائیں۔ آرمی چیف سے ملاقات بھی شاید ماضی کو بھلانے اور مستقبل میں اچھے فیصلے کرنے کی نوید ہے۔

میاں نواز شریف کو خارجہ، خزانہ، دفاع اور داخلہ جیسے شعبوں میں ایسی ٹیم کا انتخاب کرنا ہو گا، جو کم عرصے میں بہترین حکمت عملی سے مثبت نتائج دے سکے۔ اس بار آزاد اور طاقت ور میڈیا ان کے ہر فیصلے اور کام کو انتہائی باریک بینی سے دیکھے گا۔ صدر کی مدت ختم ہونے کے بعد نیا صدر متفقہ طور پر منتخب کروانا بھی ایک امتحان ہو گا۔ میاں نواز شریف نے الیکشن کا امتحان تو پاس کر لیا ہے، لیکن:

”ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں

میاں برادران نے جس طرح موٹروے ، میٹرو بس منصوبے مکمل کئے، اگر اِسی طرح بلٹ ٹرین چلانے میں کامیاب ہو گئے اور کراچی میں میٹرو بس کا وعدہ پورا کر دیا، تو یقین جانئے اگلی بار الیکشن میں خیبر اور کراچی میں بھی شیر ہی دھاڑے گا۔ پنجاب کو ایک بار پھر میاں شہباز شریف کے حوالے کر دیا گیا تو پنجاب میں مسلم لیگ (ن)مزید مضبوط ہوگی۔ یہ بات طے ہے کہ شہباز شریف کی میرٹ پالیسی اور شب و روز محنت نے ہی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو فتح دلوانے میں اہم کردا ادا کیا ہے۔ اگر اس بار نوجوانوں کی مایوسی ختم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے گئے تو پی ٹی آئی کی طرف جانے والے نوجوان دوبارہ مسلم لیگ(ن) کے گیت گائیں گے۔ آنے والے وقت میں مریم نواز اور سلیمان شہباز بھی میاں برادران کے ساتھ کندھا ملاتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کروائیں گے۔ عمران خان کا نعرہ ”نیا پاکستان“ تو شاید ان کے اپنے ہاتھوں مکمل ہو، لیکن اب میاں برادران اس کی اصل بنیاد یوتھ کو اپنی طرف لانے میں کامیاب ہو گئے، تو ”نئے پاکستان“ کی ابتدا ہو جائے گی۔

اب جہاں حکومت مسائل کے حل کی طرف گامزن ہو گی، وہاں عمران خان جیسی قیادت بھی اسے ہر موڑ پر آئینہ دکھائے ملے گی، شاید آنے والے الیکشن میںیہ سننے کو ملے ۔ایک بات تو طے ہے کہ اب پاکستان کے جسم پر لگے کرپشن کے داغ صاف نہ بھی ہوئے تو کم از کم ان میں کمی ضرور آ جائے گی۔ اب فرینڈلی اپوزیشن کا نعرہ تو شاید سنائی نہ دے، لیکن اب احترام کا رشتہ میرٹ کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنے گا اور ہونا بھی ایسے ہی چاہئے، کیونکہ میرٹ اور انصاف ہی ایسے راستے ہیں، جو کسی ملک کو بلندی کی طرف لے جاتے ہیں۔

مزید : کالم