تینتالیسویں قسط،بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم پٹھان کی چونکا دینے والی تاریخ

تینتالیسویں قسط،بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم پٹھان کی چونکا دینے ...
تینتالیسویں قسط،بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم پٹھان کی چونکا دینے والی تاریخ

  

کیرو لکھتا ہے :

’’عرب کابل کے علاقہ میں داخل ہوئے اور اس سے پہلے گندھارا میں لاہور کے قریب دریائے سندھ کے ساحل تک بھی جا پہنچے۔ پشاور کے یوسفزئی سمہ میں ہنڈ کے پاس موجود لاہور، ہنڈ کے مقام پر دریائے سندھ کے گھاٹ سے چار میل اندر کی طرف واقع ہے یقینی طور پر یہی وہ جگہ ہے کہ جس پر عربوں نے حملہ کیا تھا آگے لکھتا ہے:

بیالیسویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی تاریخ، تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں۔

یہ جگہ کابل سے ملتان جانے والی سڑک پر واقع ہے اور فرشتہ نے اپنی تاریخ کے دیباچہ میں جس لاہور کو ہندو شاہیہ جے پال کا دارالحکومت بتایا ہے وہ پنجاب کا شہر نہیں ہے بلکہ یہی لاہور ہے۔ راورٹی نے اس نظریہ کا مذاق اڑایا ہے کہ یہ مقام لاہور ہے انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مقام اہواز ہونا چاہئے جو بصرہ کے قریب واقع ہے۔ انہوں نے یہ بھی دلیل پیش کی ہے کہ مہلب پنجاب کے موجودہ صدر مقام لاہور تک پیش قدمی نہیں کرسکتا تھا۔ بظاہر اسے یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ گندھارا میں دریائے سندھ کے قریب لاہور نام کا ایک گاؤں واقع ہے۔ جس سے میں اچھی طرح واقف ہوں۔ دوسری طرف یہ بات قریب قریب ثابت ہو چکی ہے کہ قندھار سے مراد گندھارا یعنی قدیم ہندوستان کا وہ علاقہ مراد ہے جو زیریں دریائے کابل کی وادی پر محیط تھا۔ عرب مورخ گندھارا کو قندھار لکھتے تھے۔ مسعودی اور بیرونی نے جہاں جہاں قندھار کا لفظ استعمال کیا ہے اس کا موجودہ قندھار شہر سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ دریائے سندھ کے کنارے پر آباد لاہور نے رفتہ رفتہ اپنی اہمیت کھو دی اور جب مغلوں نے اس شاہراہ کو چھوڑ کر اٹک کا راستہ اختیار کیا تو یہ مقام اور بھی غیر معروف ہوگیا اور دریائے راوی کے کنارے لاہور کو چونکہ مسلسل شہرت حاصل ہوتی رہی اس وجہ سے اکثر لکھنے والے اسے ہی قدیم لاہور سمجھ کر غلطی کے مرتکب ہوتے رہے۔

کتاب الہند اور لاہور

لاہور کے سلسلے میں ہم کچھ اور ثبوت اور دلائل کتاب الہند سے پیش خدمت کرتے ہیں۔

۱۔ ملک سندھ ہندوستان کا جز ہے اور اس سے پچھم (مغرب) میں ہے۔ ہمارے یہاں سے سندھ پہنچنے کا راستہ ملک نیم روز یعنی سجستان ہو کر ہے اور ہندوستان پہنچنے کا کابل ہوکر۔ لیکن یہی راستہ لازمی نہیں ہے اگر موانع رفع ہو جائیں تو وہاں ہرطرف سے پہنچنا ممکن ہے۔ ان پہاڑوں میں جو ہندوؤں کے ملک کوگھیرے ہوئے ہیں ان حدود تک جہاں پر ہندو قوم کا سلسلہ منقطع ہوتاہے اسی قوم یا ان کے مشابہ دوسری قوم کے سرکش لوگ آباد ہیں۔

۲۔ ہندوستان کے پچھم کے پہاڑوں میں مختلف افغانی قبیلے رہتے ہیں جن کا سلسلہ ملک سندھ کے قریب ختم ہوتا ہے۔

۳۔ شہر قنوج سے غزنی: قنوج سے پچھم کی طرف دیا موتک دس فرسخ ہے اور ہر فرسخ چار میل اور میل مساوی ہے ایک کروہ کے۔ دیاموسے کئی تک دس، اہار تک دس، میرت تک دس، پانک پت تک دس، ان دونوں کے درمیان دریائے جون (جمنا) واقع ہے۔ کوتیل تک دس، اور سنام تک دس فرسخ ہے۔ پھر پچھم اور اتر (شمال) کے درمیان آدت ہورتک نو، جبنیرتک چھ، لوہارو کے صدر مقام ’’مندکوہور‘‘ تک جودریائے ایرادہ (راوی) کے پورب (مشرق) میں ہے۔ (یعنی موجودہ شہر لاہور) آٹھ فرسخ، دریائے جندراہ (پنجاب) تک بارہ،جہلم تک جو دریائے بیت کے پچھم میں ہے آٹھ، قندھارکے صدر مقام دیہندتک جو دریائے سندھ کے پچھم میں ہے۔ بتیس، برشادر(پشاور) تک چودہ، دنبور(یادیبور) تک پندرہ، کابل تک بارہ، اور غزنہ تک سترہ۔

(۴) دریائے سندھ کا منبع اس کے پہاڑ اور شہر

دریائے سندھ اننگ پہاڑوں سے جو ترکوں کے حدود میں ہے، نکلتا ہے ،اگر تم مدخل کی گھاٹیوں سے (مغرب کو) صحرامیں نکلو توتمہارے بائیں طرف دو دن کی راہ پر بلور اور شمیلان ترکوں کے پہاڑ ہیں جوبھتا دریاں کہلاتے ہیں۔ ان کا بادشاہ بہت شاہ ہے۔ ان کے شہر گلگت، اسورہ اور ثلتاس ہیں (جو اس وقت ہنزہ اور بلتستان سے موسوم ہیں) اور ان کی زبان ترکی ہے۔ ان کی لوٹ مار سے کشمیر مصیبت میں رہتا ہے۔ (اس کے متصل بدخشان کی سرحد تک شکنان شاہ اور دخان شاہ ہیں) بائیں جانب چلنے والا آبادیوں میں ہوتا ہوا (مغرب میں) قصبہ تک جا پہنچتا ہے اور (دریا کے) دائیں جانب چلنے والا چند متصل دیہاتوں سے ہوتا ہوا قصبہ کے دکھن میں نکلتا ہے اورپھر کلار جگ پہاڑ (یعنی مہابن) تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ گنبدنما پہاڑ جبل دنباوند کے مشابہ ہے اس کی برف گھلتی نہیں اور ہمیشہ تاکیشر(چکیسر) اور لاہور سے دکھائی دیتی ہے۔ اس کے صحرا اور کشمیر(یعنی جس زمانہ میں موجود ایبٹ آباد اور مانسہرہ کی تحصیلیں کشمیر میں شامل تھیں) کے درمیان دو فرسخ کافاصلہ ہے۔ قلعہ راج گری اس کے دکھن(جنوب) اور قلعہ ’’لہور‘‘ اس کے پچھم (مغرب ) ہے ہم نے ان دونوں سے زیادہ مضبوط قلعہ نہیں دیکھا۔

حقیقت یہ ہے کہ مورخین جس لاہورکا ذکر کرتے ہیں وہ یہی گندھارا میں دیہند والا لاہور ہے۔ یہاں وہ سب نشانیاں موجود ہیں جو ایک مضبوط قلعہ اورمرکزی مقام کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ اسکے علاوہ بڑی دلیل یہ ہے کہ مجدود بن سلطان مسعود اور اس کے اتالیق ایازکی قبریں اسی خطہ میں موجود ہیں۔ ایازکی قبر کا ذکر ہو چکا ہے اور مجدود کا مزار لاہور سے شمال میں وادی سوات کے سخرہ درہ میں بمقام نوخارہ(نوشارہ) کے شمال میں پہاڑ کے دامن میں عام راستے کے جنوبی کنارے پر واقع ہے۔ یہ مقام اس کے زمانہ میں ایک اہم تفریح گاہ تھی جہاں وہ تفریح کے طور پرمقیم تھا کہ اچانک وفات پا گیا۔(جاری ہے)

قسط نمبر 44 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پٹھانوں کی تاریخ پر لکھی گئی کتب میں سے ’’تذکرہ‘‘ ایک منفرد اور جامع مگر سادہ زبان میں مکمل تحقیق کا درجہ رکھتی ہے۔خان روشن خان نے اسکا پہلا ایڈیشن 1980 میں شائع کیا تھا۔یہ کتاب بعد ازاں پٹھانوں میں بے حد مقبول ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ پٹھان بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے آباو اجداد اسلام پسند تھے ۔ان کی تحقیق کے مطابق امہات المومنین میں سے حضرت صفیہؓ بھی پٹھان قوم سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہودیت سے عیسایت اور پھر دین محمدیﷺ تک ایمان کاسفرکرنے والی اس شجاع ،حریت پسند اور حق گو قوم نے صدیوں تک اپنی شناخت پر آنچ نہیں آنے دی ۔ پٹھانوں کی تاریخ و تمدن پر خان روشن خان کی تحقیقی کتاب تذکرہ کے چیدہ چیدہ ابواب ڈیلی پاکستان آن لائن میں شائع کئے جارہے ہیں تاکہ نئی نسل اور اہل علم کو پٹھانوں کی اصلیت اور انکے مزاج کا ادراک ہوسکے۔

مزید :

شجاع قوم پٹھان -