ففتھ جنریشن وار کے جھٹکے

ففتھ جنریشن وار کے جھٹکے
ففتھ جنریشن وار کے جھٹکے

  



ففتھ جنریشن وار کیا ہے؟یہ سوال جناب چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے پوچھ لیا۔آرمی چیف کوتوسیع کے کیس میں عدلیہ کو جس قسم کے رد عمل کا سامنا کرنا پڑا،وہ شاید فاضل جج صاحبان کے لئے بالکل غیر متوقع تھا۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دوران سماعت یہ تک کہہ دیاکہ ہم نے آئین کو کیا دیکھا،ہمیں سی آئی اے اور ”را“ کا ایجنٹ بنا دیا گیا۔ ویسے تو جج حضرات کو ہمیشہ سے اس مشکل صورت حال کاسامنا کرنا پڑ تا ہے کہ جب وہ کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ دیں تو دوسرا ناراض ہو جاتا ہے۔جب معاملہ ملک کے سب سے طاقتور عہدیدار کا ہو تو یقینا لوگوں کی دلچسپی اور مختلف حلقوں میں حساسیت بہت زیاد ہ بڑھ جاتی ہے۔ اس کیس میں عدلیہ کے خلاف اعلانیہ ہتک آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔ ایک بڑے اینکرنے اپنی ٹویٹ کے ذریعے کھلی دھمکی دی کہ اگر موافق حکم نہ آیا تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ریاستی پروپیگنڈے کے لئے قائم کردہ ایک چینل نے تو اپنے اینکر کے ذریعے بے ہودہ ادا کاری کرتے ہوئے سلپ آف ٹنگ (زبان پھسلنے) کی آڑ لے کر اعلیٰ عدالتی شخصیت کے ساتھ ایک جانور کا نام جوڑ کر رکیک حملہ کیا۔اسی طرح سوشل میڈیا پربہت کچھ آیا۔ایک صاحب کا کلپ وائرل ہے،جو بظاہربہت مذہبی نظر آتے ہیں۔

موصوف نے ذکر اذکار سے اپنی گفتگو کا آغاز کرنے کے بعد اعلیٰ عدلیہ پر مغلظات کی بوچھاڑ کر دی۔ظاہر ہے اس طرح کی حرکات بہت بڑے پیمانے پر ہو رہی تھیں۔سب کچھ بھانپ کر ہی سپریم کورٹ کے فاضل چیف جسٹس کو یہ کہنا پڑا کہ ان کے ساتھ آخر ہو کیا رہا ہے؟……یہ وہی کچھ ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے خصوصاً سیاست دانوں کے ساتھ ہوتا آ رہاہے، ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ان میں سے کئی حکومت میں رہنے کے باوجود کچھ نہیں کر سکتے، حالانکہ انہیں بخوبی علم ہوتا ہے کہ ”مہم“کہاں سے چلائی جا رہی ہے۔اب اگر اعلیٰ ترین عدلیہ کو بھی اس کا عملی تجربہ ہو گیا ہے تو امید کی جانی چاہئے کہ اداروں کے تعاون سے اس بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کی کوشش کی جائے گی اور اگر ایسا نہ ہو اتو وہ وقت دور نہیں جب اس کی لپیٹ میں وہ بھی آ جائیں گے جو باہر بیٹھ کر مزے لے رہے ہیں۔ کبھی کسی کی بیماری کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور کبھی کسی کی مجبوریوں کا تمسخر اڑایاجا تاہے، کبھی کسی کو غدار قرار دیا جاتا ہے اور کبھی کسی کو ملک دشمن بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ویسے اب تک تو کسی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری نہیں ہوا۔پچھلے دور میں تو بات بات پر ایسا ہو جاتا تھا۔خصوصاً پچھلی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن)تو یہ کہتی تھی کہ ہمیں نااہل لیگ بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے،اسی لئے ہمارے ارکان کو ڈس کوالیفائی کیا جا رہا ہے۔

خوب یاد آیا انہی دِنوں طلال چودھری نے اپنی پانچ سالہ نا اہلی ختم کرانے کے لئے نظر ثانی کی درخواست دائر کی تھی جو مسترد کردی گئی۔ بہرحال سپریم کورٹ کے اس تین رکنی بنچ نے، جس کی سربراہی چیف جسٹس خود کررہے تھے۔ سماعت کے تیسرے روز تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے آرمی چیف کو ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع دینے کا حکم جاری کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو قانون سازی کی ہدایت کردی۔اس سے پہلے یوں لگ رہا تھا کہ شاید کوئی واضح فیصلہ آئے گا،نئی تاریخ رقم ہو گی…… لیکن اب تو یہ طے ہو چکا ہے کہ جناب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا نام سب سے زیادہ نواز شریف نا اہلی کیس کے حوالے سے ہی یاد رکھا جائے گا۔اس کے ساتھ ہی ان کے ریمارکس کا بھی ذکر ہوتا رہے گا،جس میں سابق وزیراعظم کو سسیلین مافیا اور گاڈ فادر کہا گیا تھا۔ آرمی چیف توسیع کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے حکومت کی نالائقیوں کو کھول کررکھ دیا۔ یہ بھی واضح ہو گیا کہ اس سرکار کے پاس اب تک ایسا کوئی بندہ موجود نہیں جو ڈھنگ کی سمری ہی تیار کر سکے۔ فاضل چیف جسٹس کو ایک موقع پر یہ کہنا پڑا کہ بہتر ہو گا حکومتی لیگل ٹیم میں شامل ارکان کی ڈگریاں چیک کرائی جائیں،کیونکہ نظر آرہا ہے کہ کیس خراب کرنے کے لئے بہت محنت کی گئی ہے اور آرمی چیف کو شٹل کاک بنادیا گیا۔

اس اہم ترین مقدمے کے حوالے سے سمریاں باربار بنتی رہیں اور ہر بار غلط نکلیں۔ایک مرحلے پر وزیر قانون نے استعفیٰ دیا تو یو ں محسوس ہوا کہ حکومت کو اپنی کوتاہی کا احساس ہو گیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ خبر آ گئی کہ موصوف سپریم کورٹ جا کر آرمی چیف کی جانب سے خود پیش ہوں گے۔فروغ نسیم کو اچھی طرح سے علم تھا کہ پاکستان بار کونسل نے ا ن کا لائسنس معطل کررکھا ہے۔خیر عدالت میں انہوں نے کچھ کیا بھی نہیں اور سارا کیس عدالتی تحمل کی پالیسی کے تحت نمٹا یا گیا۔ اس کے باوجود فروغ نسیم کو پھر سے وزیر قانون بنا دیا گیا۔ملک کے اہم ترین عہدے کے حوالے سے حکومتی نا اہلی، بوکھلاہٹ اور غیر ضروری بھرتیوں نے پوری دُنیا میں ملک کی جگ ہنسائی کرائی۔ابھی معاملے کی گرد بیٹھی نہیں تھی کہ وزیر اعظم عمران خان نے مضحکہ خیز دعویٰ کر دیا کہ اداروں کو آپس میں لڑانے کی سازش نا کام ہو گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس گھناؤنے منصوبے کے پیچھے وہ عناصرتھے جن کی دولت بیرون ملک پڑی ہے اور وہ ملکی حالات خراب کر کے اصل معاملات سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔

عمران خان کا بیان دراصل اسی پالیسی کا حصہ ہے کہ بارش بھی ہو جائے تو اپوزیشن پر ڈال دو۔سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کھل کر واضح کیا کہ آرمی چیف کی توسیع جیسے حساس ترین معاملے پر ساری غلطیاں حکومت نے کیں۔ سمریاں کسی جواز اور حوالے کے بغیر بنائی گئیں۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ کون سا قانون لاگو ہو گا؟ عدالت عظمیٰ نے حکومت کو مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرا دیا۔عمران خان نے ہر بات پچھلی حکومت پر ڈالنے کی پالیسی کے تحت اسے بھی ”کرپٹ مافیا“ کی جانب دھکیل دیا۔جیسے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لئے مشورے اور سمریاں اپوزیشن نے تیار کی ہوں۔ ایک ٹی وی پروگرام میں سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ نے دعو یٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے یہ سب جان بوجھ کر کیا ہے تو پروگرام بیچ میں ہی رکوا دیا گیا۔ لوگوں کا سیاسی شعور جس سطح پر پہنچ چکا ہے، وہاں ممکن ہی نہیں کہ کسی کی بھی کوئی غلط بات یا جھوٹا دعویٰ تسلیم کر لیا جائے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے اب یہ معاملہ پارلیمنٹ کے حوالے کر دیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اتفاق رائے پیدا کر کے کوئی مناسب حل نکالا جاتا،مگر عمران خان اپوزیشن پر ہی پل پڑے۔لگتا ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ یہ معاملہ آبرو مندانہ طریقے سے حل ہو……یا پھر انہیں اپنی طاقت کا بہت زیادہ زعم ہے کہ جس طرح سے چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد نا کام ہوئی،

اسی طرح سے اپوزیشن کے ارکان گردنیں جھکا کر ایک بار پھر حکومتی موقف کے حق میں ووٹ دے دیں گے۔ یقینا ایسا ہواتو ہر گز غیر متوقع نہ ہو گا۔دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں فاختہ گروپوں نے کمان سنبھال رکھی ہے۔معمولی ریلیف کے عوض پارٹی کی سطح پر ہی غیر مشروط حمایت حاصل کی جا سکتی ہے،ورنہ طاقتوروں کے پاس دوسرے راستے تو ہیں ہی۔ کبھی کبھار تو لگتا ہے کہ اپوزیشن کو پوراا دراک ہی نہیں کہ پچھلے کئی سال سے جاری مشق کا اصل مقصد عمران خان کو اقتدار میں لانا نہیں،بلکہ ٹارگٹ ایسے تجربہ کار سیاست دانوں اور ان کی پارٹیوں سے جان چھڑانا ہے،جوجان چکے ہیں کہ ملک کے مسائل کیا ہیں اور حل کی جانب پیش قدمی کب اور کیسے کرنی ہے؟احتساب وغیر ہ کے نعرے،کرپشن کے قصے،غداری کی باتیں دراصل اسی مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش ہے۔

سادہ سی بات ہے کہ اگر ملک میں احتساب کا شفاف عمل شروع ہوگیا تو کچھ دیر بعد ہی سہی،لیکن کوئی بھی دائرے سے باہرنہیں رہ سکے گا۔کون طاقتورچاہتا ہے کہ وہ کسی کے سامنے جوابدہ ہو؟ ملک میں سیاسی بحران ہے اور ا س کا اندازہ جمعہ کو ملک بھر میں ہونے والے ان اجتماعات سے لگایا جا سکتا ہے، جو سٹوڈنٹس یونینز کی بحالی کے لئے منعقد کئے گئے۔اس سے یہ تاثر مزید پختہ ہوا کہ بڑی سیاسی جماعتیں اپنا کردار ادا کرنے سے گریز کر رہی ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے ایک بہت بڑے مارچ اور دھرنے کی صورت میں ملک میں تمام سیاسی جماعتوں کو گیم میں ان ہونے اور مخالفین کو آؤٹ کرنے کا موقع دیا، مگرآرام طلب اور مصلحت پسند سیاسی قائدین ہاتھ باندھ کر نکل گئے۔ویسے اب بھی یہ امیدیں لگائی گئی ہیں کہ برسر اقتدار ٹولہ آپس میں لڑے گا تو ہماری لاٹری نکل آئے گی۔ہو سکتا ہے حکومت کرنے والوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہوں اور آنے والے دنوں میں بڑھ جائیں، لیکن یہ کہاں لکھا ہے کہ فائدہ اپوزیشن جماعتوں کو ہی ہوگا؟ سیاست دان جب تک اپنا حق لینے کے لئے خود میدان میں نہیں آئیں گے، عوام بھی ان کے پیچھے چلنے پر تیارنہیں ہوں گے۔ملک مسائل کے گرداب میں دھنستا چلا جائے گا۔سی پیک پر امریکہ اور چین کی کھلی بیان بازی دھماکہ خیز حالات کی نشاندہی کر رہی ہے۔

ملک میں تجربہ کار اور سنجیدہ قیادت کی کمی ہی نہیں، قحط الرجال ہے۔ اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے بزدلی کا سلسلہ جاری رکھا تو خلا کو کوئی اور پُر کر لے گا۔ خاموش ہو کر سائیڈ لائن پر بیٹھنے والوں کے لئے گراؤنڈ میں کوئی جگہ ہی نہیں رہے گی۔موجودہ حکومتی ٹیم فارغ ہو گئی تو کوئی اور آ جائے گا۔ملک کو ہر محاذ پر چیلنج درپیش ہیں۔ تمام تر دعوؤں کے باوجود پیچیدگیاں ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہیں۔سیاسی جماعتیں کمزور ہو ئیں تو سب کچھ کمزور ہو جائے گا۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کوئی ایک طاقتور ہو جائے گا، بلکہ گیم آؤٹ آف کنٹرول ہو جائے گی۔اس مقدمے میں رانا صاحب معصوم ہو سکتے ہیں اور امکانی طور پر ذمہ دار بھی، انہیں نیکو کار یا گنہگار ٹھہرایا جانا قبل از وقت ہو گا، ان کی قسمت یا واقعیت کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، اور عدالتوں پر ہمیں اعتماد کرنا پڑے گا، جیسا کہ تمام لوگوں کے مقدمات میں فیصلوں پر کیا جاتا ہے۔ ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ دیگر عوام کی طرح رانا ثناء اللہ صاحب کے خلاف کسی سطح پر کسی طرح سے بھی کوئی زیادتی یا انتقامی کارروائی نہیں ہونی چاہئے!……اے کاش! پاکستان میں دوست دشمن، چھوٹے بڑے اور خاص و عام کے لئے ایک ہی قانون ہو! دو قانون ملک و قوم کے لئے تباہ کن ہوتے ہیں، اور دو قوموں پر گواہ!

مزید : رائے /کالم