شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی زبانی ,انکی اپنی کہانی. . . پانچویں قسط‎

شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی زبانی ,انکی اپنی کہانی. . . پانچویں قسط‎
شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی زبانی ,انکی اپنی کہانی. . . پانچویں قسط‎

  

شہنشاہ بالی ووڈ دلیپ کمار کی زبانی انکی اپنی کہانی،دلچسپ ،حیرت انگیز۔۔۔ روزنامہ پاکستان میں قسط وار۔ترجمہ : راحیلہ خالد

پشاور میں گھر اس طرز پر بنے ہوتے تھے کہ ان کی چھتیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہوتی تھیں۔ اگر خواتین پڑوس میں جانا چاہتیں تو انہیں صرف ایک یا دو چھتوں سے ہی گزرنا پڑتا۔ گھروں کی تعمیر اس طریقے سے کی جاتی تھی کہ جو خواتین پردہ کرتی تھیں وہ باہر گلی میں نکلے بغیر ہی جس گھر جانا چاہتیں،وہاں آ جا سکتی تھیں۔

ایک لمحے میں اماں کچھ فاصلے پر موجود اس حصے تک پہنچیں جو ہمارے گھر کو دوسرے گھر سے جوڑتا تھا۔ وہ اس بات سے قطعی بے خبر تھیں کہ میں بڑی خاموشی سے ان کا پیچھا کر رہا تھا۔ وہ ایک ایسے گھر پہنچیں جہاں اداسی اور خطرناک قسم کی خاموشی کا ڈیرہ تھا۔ وہاں وہ ایک گول مٹول سی خاتون کے پاس جا کر کھڑی ہو گئیں جو اونچی آواز میں بین کر رہی تھی۔ اماں نے اسے نرم الفاظ میں دلاسہ دینے کی ناکام کوشش کی۔ پھر وہ ایک کمرے میں گئیں جہاں تین میتیں ایک قطار میں رکھی ہوئی تھیں اور انہیں سفید کپڑے سے ڈھانپا ہوا تھا۔ ان کے اطراف سے خون رس رہا تھا اور سفید کپڑے کو داغدار کر رہا تھا۔ فرش پر خون ایسے بہہ رہا تھا جیسے سرخ رنگ کا ربن ہو۔ اور اس سے ایسی بدبو اٹھ رہی تھی جو ناقابل برداشت تھی۔ اماں نے اپنی ناک کو اپنے ہاتھ سے ڈھانپا ہوا تھا۔ وہ پردے میں تھیں لیکن اس کے باوجود میں دیکھ سکتا تھا کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے لبالب بھری ہوئی تھیں۔

چوتھی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اماں کو ہرگز اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ میں ان کا پیچھا کرتے ہوئے اس گھر تک آیا تھا یا اس کمرے تک جہاں سرد و ساکت میتیں رکھی ہوئی تھیں۔ تفتیشی افسر ایکدوسرے سے پشتو میں بات کرتے ہوئے اندر باہر آ جا رہے تھے۔ ان میں سے ایک کے پاس کاغذ قلم تھا اور وہ اس پر اپنے سب سے بڑے افسر کی طرف سے بتائی جانے والی تفصیلات محفوظ کر رہا تھا۔ یہ بات ظاہر تھی کہ وہ اپنے تفتیشی عمل میں اس قدر مصروف تھے کہ انہیں اماں کی موجودگی کا احساس تک نہیں ہوا تھا۔ اچانک ایک انگریز افسر دونوں دروازوں کو دھکیل کر پورا کھولتے ہوئے،مقامی پولیس افسران سے باتیں کرتا ہوا اندر داخل ہوا۔

میں ان وردی میں ملبوس افراد کے چلنے پھرنے،بات کرنے اور میتوں پر افسوس بھری نگاہیں ڈالنے کے انداز میں اس قدر مگن تھا کہ مجھے اماں کی غیر موجودگی کا احساس تک نہ ہوا اور مجھے احساس تب ہوا جب وہ کمرے سے جا چکی تھیں۔ وہ انگریز افسر مقامی پولیس والوں کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گیا اور تبھی کمرے کا دروازہ بھی ایک زوردار آواز سے بند ہو گیا۔ اور میں کمرے میں موجود میز،جو ان میتوں سے زیادہ فاصلے پر نہیں تھی،کے پیچھے گھٹنوں کے بل اکیلا بیٹھا تھا۔

خوف و دہشت اور پریشانی و گھبراہٹ نے مجھے اپنے شکنجے میں جکڑ لیا۔ میرے ذہن میں طرح طرح کے خیالات نے جنم لینا شروع کر دیا تھا کہ اگر کسی کو پتہ نہ چلا کہ میں اندر پھنس گیا ہوں تو مجھے رات وہیں اسی کمرے میں گزارنی پڑ سکتی تھی۔ میں نے خود کو ان دلائل سے مطمئن کیا کہ ہمارے گھر میں شام کی چائے کیلئے جب سب ایک کمرے میں اکٹھے ہوں گے تو کوئی اور میری کمی محسوس کرے نہ کرے،میرے دادا،دادی ضرور میری کمی کو محسوس کریں گے۔

ہمارے گھر ہر شام پورے لوازمات کے ساتھ چائے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ اور جیسے ہی شام کا اختتام ہوتا تو میں اپنے دادا کی پیٹھ پر بیٹھ کر گھوڑے کی سواری کرنے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا۔ یہ میرے دادا کا اپنے پوتوں کو خوش کرنے کا طریقہ تھا اور پھر میں تو انکا چہیتا تھا،اس لئے میں انکی پیٹھ پر زیادہ دیر سواری کرتا اور وہ سواری کے دوران،میرا انکی داڑھی اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑنے کا بھی برا نہیں مناتے تھے۔

اس خیال نے مجھے بہت سکون دیا لیکن یہ میری اپنی سوچ تھی۔ یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ دادا شام کی چائے کے وقت گھر پر ہی نہ ہوتے اور دادی بھی کسی وجہ سے چائے کیلئے اس کمرے میں نہ آتیں۔ اگر ایسا ہوا تو پھر میری کمی کون محسوس کرے گا؟ اماں تو ہرگز نہیں کریں گی کیونکہ وہ کچن میں چائے اور اس کے ساتھ لوازمات بنانے میں بہت زیادہ مصروف ہوں گی۔

جیسے جیسے میرا دماغ کام کرتا جاتا تھا،ویسے ویسے میرے خوف و گھبراہٹ میں بھی اضافہ ہوتا جاتا تھا۔ اور حالانکہ کمرہ ٹھنڈا نہیں تھا،میں نے محسوس کیا کہ میں ہلکے ہلکے کانپ رہا تھا۔ کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی اور اس سے آتی ہوا نے غیر متوقع طور پر ان لاشوں میں سے ایک لاش کے چہرے پر سے سفید کپڑا ہٹا دیا تھا۔ وہ ایک نوجوان تھا،جسے میں نے اکثر مارکیٹ میں دیکھا تھا اور اس کے سیاہی مائل زرد چہرے کو دیکھنا ایک دہشت ناک عمل تھا۔ ایک لمحے کیلئے مجھے لگا جیسے اس نے اپنی پلکیں جھپکی تھیں اور اگر میرا گلہ خشک نہ ہوا ہوتا اور خشکی کی وجہ سے میری آواز دب نہ گئی ہوتی تو میں بہت اونچی آواز میں چلاّتا۔ صرف ایک کام جو میں اس وقت کر سکتا تھا وہ تھا صدق دل سے دعا کرنا۔ اسی وقت دروازہ پوری طاقت سے کھلا اور وہی انگریز افسر کمرے میں گھسا۔ اب اس کی نظریں مجھ پر پڑیں۔ اس نے مجھے گھورا اور پھر زور سے چلاّیا،

’’ یہ لڑکا کون ہے؟ یہ یہاں کیا کر رہا ہے؟ ‘‘

اب میں خوف سے کانپنے لگا تھا۔

جاری ہے۔ چھٹی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : میں ہوں دلیپ کمار