نوجوان

نوجوان
نوجوان

  


پاکستانی نوجوان آج کل پاکستانی سیاست کا محور ہیں، انہیں تبدیلی کا استعارہ مانا جارہا ہے، لیکن اگر تبدیلی کا مطلب مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی انتخابات میں شکست ہے تو یہ نہ تونوجوانوں کی طاقت کا صحیح استعمال ہے اور نہ ہی ان کے ووٹ کی طاقت کا، نوجوانوں کے ذریعے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی شکست کو کسی طور بھی تبدیلی قرار نہیں دیا جاسکتا ، کیونکہ ان دونوںپارٹیوں کے بہت سے جغادری پہلے ہی پی ٹی آئی میں آبیٹھے ہیں اور ایسی صورت حال دیکھ کر مزید آ جائیں گے، نتیجتاً تحریک انصاف جیت جائے گی، تبدیلی ہار جائے گی!

لگتا ہے کہ عمران خان کو نوجوانوں کی کم نوجوان ووٹوں کی ضرورت زیادہ ہے!

ہمارے ہاں نوجوانوں کے اختیارات ہی نہیں سوچ بھی محدود ہوتی ہے، وہ بیچارے تبدیلی یا انقلاب کے لئے اچھا ایندھن تو ثابت ہو سکتے ہیں لیکن خود سے اپنی تنظیم سازی کر کے کوئی تبدیلی یا انقلاب نہیں لا سکتے، نوجوانوں میں اتحاد ااور اتفاق کا فقدان ہوتا ہے، قیادت کا بحران ہوتا ہے، قیادت تدبیر کا دوسرا نام ہے، لاابالی پن نہیں ہوتا، بے پرواہی اور وقت کی بے قدری نہیں ہوتا، ہمارے ہاں تو نوجوانوں کی اکثریت کے لئے دل کی مرضی سب سے بڑی ترجیح ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آئین میں وزیر اعظم بننے کے لئے عمر کی کم ازکم حد 35سال اور صدر بننے کے لئے 45سال ہے، دنیا کے کسی ملک میں کسی کو 25سال کی عمر میں عنان اقتدار نہیں تھمائی جاتی ، حتیٰ کہ امریکہ میں بھی نہیں جس کے ہمارے نوجوان دل و جان سے دلدادہ ہیں!

نوجوان عمران خان اور بوڑھے عمران خان میں بڑا فرق ہے ، وہی فرق جو شہباز شریف اور حمزہ شہباز میں ہے!... نوجوان عمران خان سے خطرات اور طرح کے تھے ، بوڑھے عمران خان سے خطرات اور طرح کے ہیں!!

جوان کو ہمارے معاشرے میں کھلے بندوں حیوان کہا جاتا ہے، اس کا جنون کسی قاعدے قانون کا پابند نہ ہوتو وہ مہذب معنوں میں حیوان ہی ہوتا ہے، اس لئے پاکستانی جوانوں کو سیاست کی بساط پر بہت پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے ، ایک ذرا سی چوک انہیں حیوان کے روپ میں بدل دے گی!

دیہی علاقوں میں ہر کوئی جوان ہوتا ہے ، کوئی بھی شہری علاقوں کی طرح نوجوان نہیں ہوتا، دیہی علاقوںمیں جوان وہ ہوتا ہے جس میں طاقت ہو، ہمت ہو، گھربار سنبھالنے کا یارا ہو، جو گھر بھر میں کلکاریاں مارتے بچوں کی لائن لگا سکے، جو للکار مارسکے، کسی کی بازو پکڑ سکے اور پھر پکڑ چھوڑے ناں!

البتہ دیہی علاقوںمیں ایسے جوان کی اجتماعی ذمہ داری کوئی نہیں ہوتی، وہ گھر کے ، معاشرے کے بڑے بوڑھوں کے حکم کا پابند ہوتا ہے،ان کے حکم کا غلام ہوتاہے، وہاں تو جوان کو یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ اس کی شادی کہاںہو رہی ہے ، نہ ہی اس کے گھر کے بڑے مسائل پر مشورہ مانگا جاتا ہے، اسے بڑوں کا معاملہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ نوجوان میں ہمت تو ہوتی ہے، حکمت نہیں ہوتی!

ویسے تو شہروں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ وہ شخص بھلا کیا تیر چلائے گا جسے اپنی تعلیم اور جیب خرچ کے لئے ماں باپ کی طرف دیکھنا پڑے،ایسے نوجوانوں کے اختیارات کم اور فرض فریضے زیادہ ہوتے ہیں، یوں بھی شہروںمیں جوان کوئی کوئی ہوتا ہے ، ہر کوئی نوجوان ہوتا ہے اور نوجوانی عبور کرتے کرتے بڑھاپے میں قدم رکھ دیتا ہے!

لوگوں کو اپنے جوانوں سے امید ہوتی ہے ، توقع ہوتی ہے کہ وہ اپنی طاقت اور ہمت سے گرتی شے کو سنبھال لے گا، ہاتھ پنجہ دکھانا پڑا تو دکھائے گا، بھائیوں کا بازو اور بہنوں کا مان بنے گا، لیکن اس کے باوجود اگر گھر کے بزرگوں کی موجودگی میں گھروں کے فیصلے نوجوانوںکے ہاتھ آ جائیں تو اچھے بھلے گھر اجڑ جاتے ہیں، کیونکہ نوجوان غصے کا گولا ہوتے ہیں، ان کے غصے سے سات آسمان ڈرتے ہیں، ان کی طرح دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے کا طریقہ سلیقہ بچے کو آتا ہے نہ بوڑھے کو، لیکن غصہ عقل کو کھا جاتا ہے ، شکل کو کھاجاتا ہے، ایسے نوجوانوں کو بیوقوف بنانا آسان ہوتا ہے، آپ خود اندازہ کریں کہ اگر جون جولائی میں کوئی سخت دھوپ میں کرکٹ کھیل سکتا ہے ، اس کا دماغ کتنے فیصد کام کرتا ہوگا!

بچہ جوان بھی ہو جائے تو ماں باپ کے لئے بچہ ہی رہتا ہے لیکن کوئی جوان بوڑھا ہو جائے تو اسے کوئی جوان نہیں کہتا، ماں باپ بھی نہیں، اس کے باوجودکہ وہ بوڑھے بیٹے کو بھی بچے کی طرح لیتے ہیں!

نوجوان کاتعلق کل کے ساتھ ہوتا ہے ، وہ گزرے ہوئے کل کا آنے والا کل ہوتاہے، کل نہیں مرتا، آج مرتا ہے، آج کل بن جاتا ہے اور پھر تازہ آج، باسی کل بن جاتا ہے!تحریک انصاف نوجوانوں کو سونامی کہتی ہے، اس سے ڈرنا چاہئے ، کیونکہ جوان کا جہاں اگلے کے کھنے سینکتا ہے ، وہاں خود اس کا اپنا سر بھی پھٹتا ہے۔

مزید : کالم


loading...