وزیراعلیٰ پنجاب کی غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے کوششیں

وزیراعلیٰ پنجاب کی غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے کوششیں

                                                                                        وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے غیر ملکی سرمایہ کاروں سے کہا ہے کہ پاکستان میں ا ن کے لئے ان کی توقع سے بڑھ کر منافع کے مواقع موجود ہیں۔غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے، جس کا کوئی حل ممکن نہیں۔ انڈونیشیا ، ترکی اور سری لنکا اس مسئلے سے بخوبی عہدہ برآ ہوچکے ہیں۔ہم نے ان ممالک سے بہت کچھ سیکھا ہے۔انہوں نے مسلم ممالک کے سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ پاکستان میں انرجی، آئی ٹی،ٹیلی کمیونی کیشن اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے شفافیت کے اعلیٰ ترین معیار قائم کئے ہیں۔ ہمارے بدترین مخالفین بھی ہماری حکومت سے کوئی سیکنڈل منسوب نہیں کر سکتے۔ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو خصوصی مراعات دے رہے ہیں۔سولر انرجی کو اولیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ توانائی کے بحران پر جلد قابو پالیا جائے گا۔ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے گا۔ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے پُرجوش ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے صوبے اور ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور بجلی بحران ختم کرنے کی کوششیں قابل قدر ہیں۔ انہوں نے لندن اور جرمنی میں مختلف افراد سے ملاقاتوں کے علاوہ سیمنارز میں شرکت کر کے بھی سرمایہ کاروں کے سامنے پاکستان میں میسر سرمایہ کاری کے پُرکشش مواقع کا معاملہ رکھا۔ انہوں نے اس سلسلے میں کامیابی سے متعلق بہت اچھی توقعات کا اظہار کیا ہے۔ سرمایہ کار ہر اس جگہ سرمایہ کاری کرنے کے لئے آمادہ ہوجاتے ہیں جہاں ان کو اپنے سرمایہ کا تحفظ اور منافع کی توقع ہو۔ اس سلسلے میں جمع تفریق کے بعد سرمایہ کاروں کو پاکستان میں بہتر حالات نظر آنے پر ان کی بڑی تعدا د سرمایہ کاری کے لئے آمادہ بھی ہو سکتی ہے، لیکن اس راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ بیوروکریسی اور متعلقہ محکمے بن جاتے ہیں، جو سرمایہ کاروں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے، ان کی ہر طرح سے رہنمائی اور معاونت کرنے کی بجائے ان کے راستے میں طرح طرح کے روڑے اٹکانے شروع کردیتے ہیں۔ سرمایہ کاری کے لئے تو بیرون ملک بیٹھے ہوئے بڑے بڑے بزنس کرنے والے تارکین وطن پاکستانی بھی کسی سے کم نہیں، لیکن ان کو اپنے وطن کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی کسٹمز اور دوسرے محکموں کی طرف سے جس طرح کے رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کے بعد وہ پاکستان میں آنے ہی سے گھبرانے لگتے ہیں یہاںسرمایہ کاری کرنے والے کمزور لوگوں کو ان گنت محکموں کے رشوت خور اور بددیانت کارندوں کا جس طرح سے سامنا کرنا پڑتا ہے اس کی تشہیر وہ اپنے سب جاننے والے دوسرے تارکین وطن میں بھی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اپنے لوگ جو اپنے وطن میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی پوزیشن میں ہیں وہ پاکستان کا رُخ کرنے سے کتراتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں اپنے ان سرمایہ کاروں کے متعلق بھی سوچنا چاہئے جو اربوں روپے ملک سے نکال کر بیرون ملک لے گئے ہیں۔ ہمیں معیشت اور قومی حاکمیت کے تصور کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

یہ پہلو بھی ہمارے سامنے رہنا چاہئے کہ کسی ملک میں جن لوگوںکو بھاری منافع کمانے کے مواقع حاصل ہوں وہی لوگ ملک کے میڈیا اور سیاست کو بھی کنٹرول کر رہے ہوتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ غیروں کے بجائے ہمارے ملک میں خود ہمارے ہی لوگوں کو بھاری منافع کمانے اور سرمایہ کاری کے اچھے مواقع حاصل رہیں، انہیں اس طرح سے آئینی تحفظ حاصل رہے کہ وہ مختلف خدشات اور بیورو کریٹس کی کھڑی کی ہوئی رکاوٹوں سے نجات پائیں اور اپنا سرمایہ اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں صرف کریں اور اپنی قوم میں شرف و عزت کا مقام حاصل کریں۔ اپنے ملک سے دولت لوٹ کر غیر ملکی بنک بھرنے والوں کو ایسے سینکڑوں بین الاقوامی لٹیروں کی مثالوں سے عبرت حاصل کرنی چاہئے جن کی غیر ممالک کے بنکو ں میں بھری ہوئی دولت بیرونی بینکوں یا وہاں کی حکومتوں نے مختلف بہانوں سے ضبط کر لی یا جن کے پورے خاندان عوامی غیظ و غضب کا شکار ہو کر اس دنیا سے فارغ ہوگئے اور ان کی بیرونی بنکوں میں بھری دولت کا کوئی دعوے دار بھی باقی نہیں رہا۔ اگر کوئی بچا بھی تواس نے اپنی ساری زندگی اس پچھتاوے کے ساتھ گزاری کہ کاش وہ اپنے وطن کی دولت کو اپنے ہی وطن کے لوگوں کے کام آنے دیتا۔ لٹیرے حاکموں کی طرف سے اگر لوٹی ہوئی دولت بیرون ملک لے جانے میں عافیت سمجھی جاتی ہے، تو اپنے خون پسینے سے بیرون ملک میں بیٹھ کر دولت بنانے والے تارکین وطن اپنی دولت ملک میں لاکر اپنا کردار ادا کرنے کے لئے حالات کے ساز گار ہونے کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ ہمارا اپنا سرمایہ اور اس سے بھی بڑھ کر ہمارے قیمتی لوگ بیرون ملک میں ہیں اور ہم غیروں کی سرمایہ کاری کے لئے دنیا میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ جب بیرونی سرمایہ کار ہمارے ملک میں پُرکشش شرائط پر سرمایہ کاری کے ذریعے بھاری منافع کما رہے ہوں گے، تو اپنی اندرون ملک مارکیٹنگ کے لئے اربوں روپے تشہیری مہموں کے لئے میڈیا کو بھی دے رہے ہوں گے۔ ہمارے قومی میڈیا میں اپنے اشتہاری بزنس کی وجہ سے پیدا کردہ اپنے اثرو رسوخ کی بناءپر یہ بیرونی ادارے ہمارے کلچر اور ہماری سیاست پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ اثر و رسوخ ہمارے قومی مفادات کے لئے نہیں ان کے اپنے قومی مفادات کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے نتائج ہم اس وقت بھی بھگت رہے ہیں اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ بیرونی سرمایہ کار ہمارے ہاں کام کرنے والی اپنے ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کی ہمارے ہی ملک سے کمائے ہوئے منافع سے اپنے خفیہ مقاصد کی تکمیل کے لئے کس حد تک مدد کررہے ہیں۔

اس کے برعکس بیرونی سرمایہ کاری کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بڑے ملکوں کے سرمایہ کار ہمارے ہاں جتنی زیادہ سرمایہ کاری کریں گے ہم ان بڑی طاقتوں کی چیرہ دستیوں سے اتنے ہی محفوظ ہوتے چلے جائیںگے ۔ بھاری بیرونی سرمایہ کاری کی وجہ سے ہم بیرونی جارحیت اور اپنی سالمیت کے سلسلے میں بے فکر ہو سکتے ہیں۔ اس صورت میں ہمیں کسی بھی طرح کی بدامنی اور جارحیت سے محفوظ رکھنے کی کوشش خود ان بڑے سرمایہ داروں کی طرف سے کی جائے گی۔ اگر ہم امریکہ کے ساتھ چین کے سرمایہ کاروں کو بھی سرمایہ کاری کے برابر مواقع فراہم کرتے ہیں ، سعودی عرب کے ساتھ ترکی اور روس کی سرمایہ کاری بھی آتی ہے تو اس صورت میں ہم کسی ایک طرف کے تسلط و غلبہ سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں اور یہ صورت حال ہمیں بین الاقومی تعلقات کے سلسلے میں بھی مضبوط اور مستحکم کر سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے کرپشن کو جڑسے اکھاڑدینے کی بھی بات کی ہے، لیکن اس معاملے میں میرٹ کو اپناتے، بیوروکریسی اور کرپٹ محکوں کے مافیا کو لگام دیتے ہوئے عملاؓ صورت حال بیس تیس فیصد بھی بہتر ہو جائے تواسے بہت اہم پیش رفت سمجھا جائے گا۔ اس وقت اگر سب سے اہم مسئلہ انرجی بحران سے باہر نکلنے کا ہے تو اس سلسلے میں دنیا میں سامنے آنے والے تمام جدید ذرائع اور وسائل کا پاکستان کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے مکمل جائزہ لیا جانا چاہئے ۔ یہ جائزہ اور اس سلسلے میں منصوبہ بندی حقیقی ماہرین ہی کے ذریعے ہونی چاہئے۔ محض بروکر قسم کے افراد کو ماہرین کے طور پر حاکموں کے ارد گرد نہیں ہونا چاہئے۔ اگر یہ نہ کیا گیا تو جس طرح پہلے اتنے برسوں تک ہمارے دشمن پاکستان میں توانائی اور پانی کے تمام منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے کامیابی سے کام کرتے رہے ہیں اِسی طرح اب بھی ہمیں توانائی کے غلط منصوبوں میں پھنسا کر ملکی معیشت کی بربادی کا انتظام کر سکتے ہیں۔ یہ سارے معاملے بہت زیادہ احتیاط اور گہرے غور و فکر کے متقاضی ہیں، ان میں صرف کاروباری لوگوں کی بزنس اپروچ ہی نہیں بلکہ زیرک رہنماﺅں والے تدبر کی ضرورت ہے۔ ملک میں سستی ہائیڈل پاور پیدا کرنے کے لامحدود مواقع ہیں۔ تھر کے کوئلے کے ذخائر سے گیس اور بجلی پیدا کرنے کے لئے بھرپور فائدہ نہ اٹھانا کسی حکومت کی نااہلی ہی قرار دیا جائے گا۔ ابھی تک ہم اپنے ملک میں گیس اور تیل کے نئے کنوئیں کھودنے اور اس سارے عمل کو دشمن کی سازشوں سے پاک رکھنے میں ناکام رہے ہیں، جبکہ ملک میں ان کے وسیع ذخائر کی موجودگی کے سلسلے میں ماہرین کی مضبوط رائے موجود ہے۔ ہائیڈل پاور کے بعد نیوکلیئر انرجی سب سے سستی پڑتی ہے، اس سلسلے میں بھی ہم ایک آدھ کوشش کے بعد خاموش بیٹھے ہیں۔

اپنے بیرونی دوروں کے دوران وزیراعلیٰ نے جن لوگوں کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے آمادہ کیا ہے ان کی توجہ اس پوٹینشل کی طرف بھی دلائی جانی چاہئے تھی ،کہ یہی وسائل ہماری حقیقی اور ٹھوس ترقی کی ضمانت مہیا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ دیکھنے کی بھی ضرور ت ہے کہ جب وزیر اعلی کی دعوت پر یہ سرمایہ کارپاکستان آئیں گے تو ان کے ساتھ کس طرح کا سلوک ہو گا ۔ کیا ان کے لئے ون ونڈو کلیئرنس کا کوئی انتظام کیا جائے گا ، کیاان میں سے ہر کسی کے ساتھ وزارت صنعت کے تربیت یافتہ اور مستعد افراد کو ان کے آنے کے بعد سے سرمایہ کاری کے آخری مراحل تک کسی ایک فرد کو رہنمائی اور معاونت کے لئے متعین کیا جائے گا۔ کیا ان کے ساتھ ہمارے متعلقہ محکموں کے رویے اوران کو پیش آنے والی مشکلات اور پیچیدگیوں کا جائزہ لینے کے لئے کسی طرف سے نگرانی اور جائزے کاکام کیا جائے گا؟ سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا کسی نے بیرونی سرمایہ کاری کے لئے پاکستان میں موجود قوانین اور طریق کار کو آسان اور سادہ بنانے کی کوئی کوشش کی ہے؟

اب تک وزیراعلیٰ اور وزیراعظم ملک میں سرمایہ کاری اور بیرونی تعاون کے سلسلے میں دوروں پر کافی وقت صرف کر چکے ہیں، اب ان کے ملک میں رہ کر اپنے گھر کے معاملات درست کرنے کا وقت ہے۔ وزیراعلیٰ کو ملک میں رہنے سے مختلف محکموں کے افسر اور دوسری انتظامی مشینری جتنی سیدھی رہتی ہے اور اس سے قوم کو جوفائدہ پہنچتا ہے شاید وہ ان کے دوروں کے ذریعے سے نہ پہنچتا ہو۔ حکومتوں نے اپنے کام کے لئے، جس قدر منصوبہ بندی اور غور وفکر کرنا ہوتا ہے اس کے لئے وزیراعلیٰ کو زیادہ سے زیادہ وقت نکالنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی ایک پہلو کو نظر انداز کرنے سے جو خلاءپیدا ہوتا ہے وہ تمام بڑے کاموں کے بگاڑ کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ زمانہ مربوط اور پائیدار ترقی کے لئے کوششوں کا زمانہ ہے۔ اس کے لئے مضبوط اور پائیدار بنیاد خود ہمارے اپنے وسائل ہی میں موجود ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری محض ایک سطحی اور مجبوری کا حل ہے۔ امید ہے پنجاب کی حکومت اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کرے گی۔ ٭

مزید : اداریہ