بلاول کی رونمائی:کارکنوں کی اہمیت!

بلاول کی رونمائی:کارکنوں کی اہمیت!
بلاول کی رونمائی:کارکنوں کی اہمیت!

  

وہ وقت آ ہی گیا، جس کے لئے اس گوہر نایاب کو چھپا کر رکھا گیا تھا اور کبھی کبھی رونمائی ہوتی تھی، لیکن اب ان کو باقاعدہ طور پر میدان میں اتارنے کا فیصلہ کر لیا گیا اور وہ اس بڑی جماعت کی آس اور امید ہے، جس کا بیچ ذوالفقار علی بھٹو نے بویا اور آبیاری ان کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے کی، بلاول اُسی بے نظیر کا بیٹا اور بانی ¿ جماعت ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ ہے۔ یوں بھٹوز سے اس کی نسبت پختہ ہے اس لئے اگر والد کے علاوہ اس کے نام کے ساتھ بھٹو کا لاحقہ لازم کر دیا گیا تو اس میں حرج ہی کیا، اب وہ بلاول بھٹو زرداری کہلاتا ہے، تو دونوں قبیلوں کے ملاپ کا مظہر ہے۔ ان سطور میں چند روز قبل عرض کیا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری نہ چاہنے کے باوجود سیاست میں عملی حصہ لینے پر مجبور ہے اور اب آصفہ بھٹو زرداری کو اس سے تعاون اور اپنے وقت کا انتظار کرنا پڑے گا۔

کراچی میں پیپلزپارٹی کی مرکزی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ صدارت مشترکہ طور پر سرپرست بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین(یوں چیئرمین کا عہدہ خالی ہے اور اب تک محترمہ شہید ہی چیئرپرسن ہیں) سابق صدر آصف علی زرداری نے کی اس اجلاس نے بلاول کی بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ18اکتوبر2014ءکو سانحہ کارساز کا دن منایا جائے گا اور اس روز مزار قائد پر جلسہ ہو گا اور یہی بلاول کی رونمائی اور سیاست میں لانچنگ ہو گی۔ اصل بات شروع کرنے سے قبل یہ سوال تو پوچھ لیں کہ یہ ”کور کمیٹی“ کیا اور کیوں ہے۔ پیپلزپارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کہاں گئی؟ کیا محترمہ کی شہادت کے ساتھ ہی اسے لیاقت باغ راولپنڈی کے کسی کونے میں دفن کر دیا گیا یا پھر اسے کسی سردخانے میں منجمد کر کے رکھا ہوا ہے کہ جب حدت بڑھے گی، تو اسے بھی نکال کر گرمی لگوا لیں گے۔ مرکزی مجلس عاملہ کے نہ ہونے ہی کی وجہ سے متعدد پرانے اور آزمودہ کارکن اور رہنما اس اجلاس میں موجود نہیں تھے، حالانکہ اگر یہ سارا کچھ عبدالرحمن ملک جیسے لوگوں کے لئے کیا گیا ہے، تو ایسے حضرات کو مجلس عاملہ میں بھی نامزد کیا جا سکتا تھا۔ مجلس عاملہ کی فہرست پر نظر ڈالیں تو سمجھ میں بات آتی ہے کہ بلاول نے کیسی اور کیوں معافی مانگی؟ اور اس کے متوقع اثرات کیوں مرتب نہیں ہوئے کہ ایک بہت بڑے فیصلے کے لئے جو اجلاس ہوا بلاشبہ اس میں سید یوسف رضا گیلانی، سید خورشید شاہ اور راجہ پرویز اشرف موجود تھے، لیکن متعدد حضرات کی غیر حاضری بھی چر کے لگا رہی ہے۔

بہرحال فیصلہ اس ترپ کے پتے کا ہے جسے سنبھال کر رکھا گیا تھا اور اس کے بزرگوں کے خیال میں اسے مناسب وقت پر ہی میدان میں اتارنا تھا جو ان کے خیال میں ابھی نہیں آیا تھا تاہم دھرنا سیاست نے مجبور کر دیا کہ خود سے متعین کردہ وقت سے قبل ہی یہ پتہ بھی پھینک ہی دیا جائے۔ بے شک بلاول آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو کا صاحبزادہ ہے، آصف علی زرداری اور خود محترمہ بھی تنقید کی زد میں رہیں، تاہم بلاول کی سلیٹ صاف ہے اور اگر اس مہرے کو پوری طاقت سے چلانا اور اس سے پارٹی کو پھر سے زندہ کرانا مقصود ہے تو پھر یہ بھی لازم ہے بلاول کو ان سایوں سے دور رکھا جائے، جو ماضی میں ”کرپشن“ کے الزامات کے تحت سیاہ ہو چکے ہوئے ہیں۔ خود بلاول کو بھی اب یہ سرپرستی ور پرستی چھوڑ کر پارٹی کی قیادت سنبھالنی ہو گی ہم تو کہیں گے کہ خود آصف علی زرداری کو بھی اپنے ہی فیصلے پر عمل کرتے ہوئے صاحبزادے کو فری ہینڈ دینا اور خود پس پردہ رہنا چاہئے۔

بلاول کی لانچنگ کے لئے ایک بڑے جلسے کا اہتمام اور یقین ظاہر کیا گیا ہے۔ اس مقام پر متحدہ تو اپنی جگہ، مولانا فضل الرحمن، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف بھی جلسے کر چکی ہیں۔ پیپلزپارٹی خود ایک طویل مدت کے بعد کسی جلسے کا انعقاد کر رہی ہے۔ بلاول بھٹو پُرجوش ہے۔ اس نے جو دن منتخب کیا اور جس واقعہ کی یاد میں18اکتوبر کا جلسہ رکھا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس روز بلاول کی والدہ پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو خود ساختہ جلا وطنی ختم کر کے پاکستان آئی تھیں۔ ان کے اس استقبالی جلوس میں ان کو شہید کرنے کے لئے دو دھماکے کئے گئے اور اس کے نتیجے میں ڈھائی سو سے زیادہ کارکن شہید ہو گئے تھے اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ بے نظیر بھٹو اس سے خوفزدہ نہ ہوئیں اور انہوں نے اپنی مہم جاری رکھی اور بالآخر تمام تر ممانعتوں کے باوجود لیاقت باغ کے جلسہ میں گئیں اور (27دسمبر) شہادت کا درجہ حاصل کر لیا۔

 بلاول نے18اکتوبر کا تعین کر کے خود کو کارکنوں کے ساتھ منسلک کیا وہ27دسمبر کا دن بھی مقرر کر سکتا تھا، لیکن اس نے کارکنوں کی یاد کو بہتر جانا ہے اور وہ خود بھی کارکنوں کا ذکر کرتا رہتا ہے اور پارٹی کے آج کے کرتا دھرتا حضرات کو کئی بار کہہ چکا کہ ناراض اور خاموش ہو جانے والے کارکنوں کو مناﺅ، واپس لاﺅ، اس نے بڑوں کے کردہ گناہوں کی معافی خود مانگی اور یہ ایسے ہی جیالوں سے مانگی تھی،جو بھٹو کے جاں نثار اور بے نظیر کے بھائی ہیں۔

بلاول کی رونمائی کے حوالے سے ہمیں1986ءیاد آ گیا۔ محترمہ کی وطن واپسی کا فیصلہ ہوا تو پارٹی متحرک ہو گئی تھی۔ وارڈ سے ضلع تک کارکنوں کے اجتماعات منعقد ہونے لگے اور کنونشن پر کنونشن شروع ہو گیا۔ کیا اب بھی ایسا ہو گا اور موجودہ صوبائی اور ضلعی تنظیمیں عوام میں شعور بیدار کرنے اور ان کو جلسے اور بلاول کی طرف متوجہ کرنے کے لئے اتنی متحرک ہوں گی۔ ضروری ہے کہ لاتعلق ہو جانے اور ناراض حضرات سے فوری رابطے کئے جائیں اور سب کو ساتھ لے کر کنونشن اور اجتماعات ہوں اور پھر ایک موثر قسم کی پبلسٹی مہم چلائی جائے تاکہ چشم فلک ایک مرتبہ پھر پیپلزپارٹی کے قافلوں کو مزار قائد کی طرف رواں دواں دیکھے۔ بلاول کی خواہش اور آرزو بھی تو یہی ہے۔ یاد رہے اگر یہ سب نہ کیا گیا تو پھر نتائج بھی سرکاری ہوں گے کہ مزار قائد پر جلسہ ہو رہا ہے اور سندھ میں حکمران جماعت پیپلزپارٹی ہے، لیکن یہ جلسہ سرکاری سرپرستی سے بالاتر پارٹی کے امتحان کے طور پر منعقد کرنا چاہئے کہ ایک نیم مردہ تن میں نئے سرے سے جان ڈالنا اور توانائی بخشنا مقصود ہے، یہاں بڑے جلسوں کا ریکارڈ ہے اور اس کو پیش نظر رکھنا بھی لازم ہے۔ اگرچہ ہمیں موجودہ تنظیموں سے کچھ زیادہ توقعات نہیں ہیں، اس لئے بلاول کی معافی اور پارٹی کی حقیقی پالیسی بحال کرنے کے عزم کی پذیرائی ضروری ہے۔ لاتعلق اور ناراض بھی کہیں نہ کہیں حرکت میں نظر آ رہے ہیں۔ لازم ہے کہ تبدیلیاں کی جائیں اور یہ جلسے کے بعد کر لی جائیں۔ یوں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ محترمہ شہید نے بلاول کو جن پارٹی رہنماﺅں پر اعتماد کے لئے کہا تھا۔ بلاول اب ان کو برسر عام لے آئیں اور ان کو پارٹی میں اہمیت دلائیں، کامیابی یا ناکامی کا دارو مدار بھی اسی فارمولے پر ہے کہ گئے کب اور کیسے واپس آتے ہیں۔ آپس کی ناراضیاں کیسے دور کرائی جائیں گی اور ایک متحرک تنظیمی ڈھانچہ بنایا جائے گا، جو پرانے اور نئے حضرات کا خوبصورت گلدستہ بنے گا۔

مزید :

کالم -