’ایسی بات ہے تو سعودی عرب جاﺅ اور وہاں یہ کام کرکے دکھاﺅ‘ فرانسیسی شہر کے حکمران نے عورتوں کے لباس پر پابندی برقرار رکھنے کا اعلان کردیا، سعودی عرب کے بارے میں ایسی بات کہہ دی جس کی کسی کو توقع نہ تھی

’ایسی بات ہے تو سعودی عرب جاﺅ اور وہاں یہ کام کرکے دکھاﺅ‘ فرانسیسی شہر کے ...
’ایسی بات ہے تو سعودی عرب جاﺅ اور وہاں یہ کام کرکے دکھاﺅ‘ فرانسیسی شہر کے حکمران نے عورتوں کے لباس پر پابندی برقرار رکھنے کا اعلان کردیا، سعودی عرب کے بارے میں ایسی بات کہہ دی جس کی کسی کو توقع نہ تھی

  


پیرس(نیوز ڈیسک)فرانس میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے و الے ایک میئر کا کہنا ہے کہ وہ برقینی (مغربی ممالک میں مسلم خواتین کا باپردہ لباس، جو عموماً ساحل سمندر پر پہنا جاتا ہے) پر پابندی کی معطلی کے عدالتی فیصلے کے باوجود برقینی پر پابندی برقرار رکھیں گے۔کوگولین کے میئر مارس ایٹنی لینسیڈ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو چاہئے کہ وہ جس ملک میں ہیں وہاں کی مقامی روایات اور اقدار کے مطابق رہیں۔انہوں نے کہا کہ روایات سے مطابقت نہ رکھنے کی بات کرنے والے سعودی عرب جائیں اور وہاں برہنہ ہو کر دکھائیں، پھر دیکھیں ان کا کیا حال ہوتا ہے۔

’داعش کا مطلب سعودی عرب‘ ایک جملہ جس نے مائیکروسافٹ کو سب سے بڑی مشکل میں ڈال دیا، سعودی شہری غصے سے سیخ پاکیونکہ۔۔۔

ڈیلی میل کے مطابق مسلمان تارکین وطن کے خلاف انتہائی متنازعہ بیان دیتے ہوئے میئر کوگولین نے متنبہ کیا کہ ”اگر آپ نہیں چاہتے کہ ویسے رہیں جیسا کہ ہم رہتے ہیں تو ،یہاں مت آﺅ۔“سی این این سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا آپ کو چاہئے کہ ان لوگوں کی طرح زندگی گزاریں جیسا کہ اس ملک میں موجود وہ لوگ گزار رہے ہیں جنہوں نے آپ کوقبول کیا۔انہوں نے مزید کہا ”اگرتمہیں روم میں قبول کیا جائے تو رومیوں کی طرح رہو ۔برہنہ ہو کرسعودی عرب جاﺅ تو پھر دیکھو تمہارے ساتھ ہوتا کیا ہے۔“

خیال رہے کہ نیس میں ایک عدالت نے برقینی سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ کینس میں برقینی پر پابندی غیر قانونی ہے۔عدالت کا کہنا تھا کہ برقینی سے امن عامہ کے متاثر ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...