مزید ڈیموں کی تعمیر بہت ضروری ہے

مزید ڈیموں کی تعمیر بہت ضروری ہے

مکرمی !پاکستان میں ہر سال سیلاب آتے رہتے ہیں، جن سے لاکھوں لوگ بے گھر اور سینکڑوں کی تعداد میں لوگ اپنی قیمتی جانے کھو دیتے ہیں۔تاریخی حوالے سے دیکھا جائے تو 2010ء میں سب سے بڑا سیلاب آیا تھاجو سب کچھ اپنے ساتھ بہا کر لے گیاتھا۔ رواں سال میں بھی مون سون بارشوں کی وجہ سے سیلاب جیسی آفت ہم پر ٹوٹ پڑی ہے، اس نے ہر طرف تباہی مچا دی ہے۔سیلاب تو دوسرے ملکوں میں بھی آتے ہیں لیکن انہوں نے ان سے نمٹنے کے لئے اقدامات کئے ہوئے ہیں،جس سے نقصان کی شدت بہت کم ہوجاتی ہے۔پاکستان میں بھی حکمت عملی تو ہو تی ہے، مگر وہ بھی کاغذی۔ سیلاب آنے کے بعد لوگ سینکڑوں کی تعداد میں ڈوب جاتے ہیں اور ان کی کھڑی فصلیں برباد ہو جاتی ہیں۔ہمارے ملک کا المیہ یہ رہا ہے کہ تربیلا اور منگلا ڈیم کے بعد کوئی بڑا ڈیم نہیں بنایا گیاکیونکہ جب سیلاب آتے ہیں تو ڈیموں کی صورت میں ان پر قابو پایاجاسکتا ہے یا پھر پانی کو ڈیموں میں ذخیرہ کر لیا جائے جو کہ بعد میں بجلی پیدا کرنے اور آبپاشی کے لئے استعمال کیا جا سکے۔کالاباغ ڈیم بن گیا ہو تا تو اس سیلابی ریلے پر بآسانی قابو پایاجاسکتا تھا۔بارشوں نے پنجاب ،آزاد کشمیر ،خیبرپختوانخوااور بلوچستان میں تباہی مچادی ہے۔سیلاب سے متاثرہ علا قوں میں تباہی والے شہر چترال،وادی کیلاش اور سندھ کے علاقے ہیں۔چترال میں تو سیلاب نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔

اس مشکل کھڑی میں ہماری پاک فوج نے سول حکومت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے امدادی سرگرمیوں کو تیزکر دیا ہے اور متاثرہ علاقوں تک امدادی سامان ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء فراہم کر رہی ہے۔ہم پاک فوج کی ان کاوشوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ اپوزیشن اور ذمہ دار افراد کا کہنا ہے کہ بھارت بغیر اطلاع کے پانی چھوڑ دیتا ہے جس کی وجہ سے پتہ نہیں چلتا۔ صرف کاغذی کارروائی ہوتی ہے، کیونکہ انہو ں نے تو بجٹ کو خود ہضم کرناہوتا ہے۔ لیکن اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ناگہانی آفت سے بچا کیسے جائے؟ حکومت کو چاہیے کہ وہ بھارت کی طرف والے دریاؤں پر ڈیم اور بیراج بنائے اور ان کو جلد ازجلدپایا تکمیل تک پہنچائے تاکہ ہر سال شدید نقصانات سے بچا جا سکے یا پھر دریاؤں کو گہرا کیا جائے اور ان سے مزید نہریں نکالی جائیں تاکہ پانی کے بہاؤ کی شدت کم ہوسکے۔ وزیراوعلیٰ پنجاب جو کہ خود کو خادم اعلیٰ کہتے ہیں متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں، کیونکہ امدادی سہولتیں صرف چند لوگوں تک محدود ہیں۔جو انتظامیہ کی نا اہلی ہے۔ امدادی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے، آبی گزرگاہوں پر آبادغیر قانونی بستیوں کو ختم کیا جائے اور دریاؤں کے بند مزید اونچے اور مضبوط کئے جائے۔ (محمد شکیل بسرا، لاہور)

مزید : اداریہ