نوجوان لڑکی سے اس کے سپروائزر کا شرمناک مطالبہ، خاتون نے چپکے سے فیس بک لائیو ویڈیو آن کردی اور پھر کچھ ایسا ہوا کہ انٹرنیٹ پر ہنگامہ برپاہوگیا

نوجوان لڑکی سے اس کے سپروائزر کا شرمناک مطالبہ، خاتون نے چپکے سے فیس بک لائیو ...
نوجوان لڑکی سے اس کے سپروائزر کا شرمناک مطالبہ، خاتون نے چپکے سے فیس بک لائیو ویڈیو آن کردی اور پھر کچھ ایسا ہوا کہ انٹرنیٹ پر ہنگامہ برپاہوگیا

  

لندن (نیوز ڈیسک) ماتحت خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنا بدقماش افسران کی پرانی عادت رہی ہے، مگر سوشل میڈیا کے دور میں یہ حرکت ایسے بدمعاشوں کو ناصرف ساری دنیا میں ذلیل و رسوا کرسکتی ہے بلکہ جیل تک بھی پہنچاسکتی ہے۔

چند دن قبل ایک ایسا ہی واقعہ 47 سالہ شخص ہیرلڈ ویلا نوئیوا کے ساتھ پیش آگیا جو اپنی نوجوان ملازمہ کو بے حیائی کے بدلے جلدی چھٹی دینے کی پیشکش کررہا تھا۔ ہیرلڈ کو معلوم نہیں تھا کہ جب وہ 21 سالہ مکانا مائلو کو یہ شرمناک پیشکش کررہا تھا تو وہ خفیہ طور پر اس کی ویڈیو ریکارڈ کرر ہی تھی جو کہ مائلو کے فیس بک پیج پر براہ راست نشر ہورہی تھی۔ مائلو کے فیس بک پیج پر یہ ویڈیو تقریباً آدھے گھنٹے تک نشر ہوتی رہی جس کے دوران متعددبار ہیرلڈ کا چہرہ بھی نظر آتا ہے جبکہ بیشتر وقت دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو سنائی دیتی ہے۔

کونسے جوڑے موبائل پر ایک دوسرے کو شرمناک تصاویر بھیجتے ہیں؟ سائنسدانوں نے انتہائی پریشان کن انکشاف کردیا

مائلو نے جریدے دی بیسٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ واشروم میں موجود تھیں کہ ہیرلڈ ان کے پیچھے آگیا اور انہیں قابل اعتراض انداز میں چھوا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہیرلڈ نے انہیں اپنے ساتھ کار پارکنگ کے ایک خالی گوشے میں جانے کو کہا، جس پر انہیں کچھ گڑبڑمحسوس ہوئی تو انہوں نے اپنے موبائل فون پر فیس بک لائیو ویڈیو آن کر دی۔ ہیرلڈ انہیں کارپارکنگ میں موجود اپنی گاڑی کے اندر لے گیا اور باتوں باتوں میں کہنے لگا کہ اگر وہ ایک کام کریں تو انہیں جلدی چھٹی مل سکتی ہے ۔ ہیرلڈ کا کہنا تھا کہ ویسے تو ان کی چھٹی کا وقت ایک بجے ہے لیکن اگر وہ اس کی خواہش پوری کرنے پر تیار ہوجائیں تو بہت جلدی چھٹی مل سکتی ہے۔

مکانا اس شرمناک پیشکش پر خاصی گھبراگئیں لیکن اپنے حواس پر قابو رکھتے ہوئے ہیرلڈ کو ادھر اُدھر کی باتوں میں لگانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل گفتگو کے دوران ہیرلڈ نے جو بھی شیطانی باتیں کیں وہ سب کی سب فیس بک پر لائیو چلی گئیں۔ بعدازاں یہ ویڈیو یوٹیوب پر بھی عام ہوگئی اور اب تک تقریباً دو لاکھ افراد اسے دیکھ چکے ہیں۔

یہ ویڈیو دیکھنے والوں میں پولیس بھی شامل تھی، جس نے جلد ہی ہیرلڈ کو گرفتار کرلیا۔ ویڈیو کی صورت میں دستیاب ہونے والے ثبوت کی بناءپر اب اس بے حیا شخص کے خلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے جس کے نتیجے میں اسے طویل قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -