فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں سست روی کا شکار

فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں سست روی کا شکار

ملتان ( سٹاف رپورٹر) جنوبی پنجاب میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کے دعووں کے برعکس کارروائیاں سست روی کا شکار ہیں ۔ ہزاروں فوڈ پوائنٹس(بقیہ نمبر21صفحہ12پر )

مضر صحت اشیا فروخت کر رہے ہیں جبکہ محض چند فوڈ پوائنٹس کے خلاف کارروائی اور جرمانہ کرکے کارکردگی شو کر دی جاتی ہے ۔ہزاروں ہوٹلز ‘ریسٹورنٹس‘ تنوروں‘بیکریوں‘ دکانوں پر مضر صحت اشیا فروخت ہو رہی ہیں مگر فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں محدود ہونے کے باعث ملاوٹ مافیا و کھانے پینے سمیت مضر صحت اشیا فروخت کرنے والے کھل کھیل رہے ہیں ۔ فوڈ اتھارٹی کی ناکامی کا ثبوت ہے کہ ملاوٹ شدہ و مضر صحت کھانے و اشیا کھانے و پینے سے ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں روزانہ ایک ہزار سے زائد افراد گیسٹروسمیت پیٹ کے امراض میں مبتلا ہو کر ہسپتال داخل ہو رہے ہیں ۔ روزانہ سرکاری ہسپتالوں میں گیسٹرو کے ایک ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہو رہے ہیں ۔ یہ تعداد تو سرکاری ہسپتالوں میں داخل ہونے والوں کی ہوتی ہے جبکہ سیکڑوں مریض پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکس میں علاج کراتے ہیں ۔ فوڈ اتھارٹی کے حکام کی غفلت اور لاپروائی کا یہ عالم ہے کہ نشاندہی کے باوجود مضر اشیا کی تیاری و فروخت کے مراکز کے خلاف کارروائی میں تساہل برتا جاتا ہے ۔عوامی و سماجی حلقوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی فوڈ اتھارٹی پنجاب نور الامین مینگل سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا نوٹس لیاجائے اور صورتحال بہتر کی جائے ۔ اس بارے میں موقف لینے کے لئے فوڈ اتھارٹی کے حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر ان کا فون اٹینڈ نہ ہو سکا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر