شہباز شریف کی عدم موجودگی، مرکزی پی اے سی غیر فعال ہوکر رہ گئی

شہباز شریف کی عدم موجودگی، مرکزی پی اے سی غیر فعال ہوکر رہ گئی

  



اسلام آباد (صباح نیوز)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور چیرمین پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی شہباز شریف کی عدم موجودگی کے باعث مرکزی پی اے سی غیر فعال ہوکر رہ گئی تین ماہ سے مرکزی کمیٹی کا کوئی اجلاس نہ ہوسکا۔ ماضی کی طرح پٹرولیم مصنوعات بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافے سمیت دیگر اہم عوامی ایشوز کا نوٹس لینے کا سلسلہ رک کر رہ گیا پبلک اکانٹس کمیٹی کا اجلاس ساڑھے تین ماہ سے نہیں ہوسکا،آخری اجلاس 14فروری کو ہوا تھا۔رپورٹ کے مطابق پی اے سی کی سترہ سب کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔ سب کمیٹیوں کے اجلاس ہوئے ہیں۔ جب کہ مرکزی کمیٹی کا آخری اجلاس 14 فروری کو ہوا تھا۔ ماضی میں عوام کے سلگتے مسائل کا پپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی طرف سے نہ ٖ صفر نوٹس لیا جاتارہا ہے بلکہ متعلقہ سیکرٹریز سے اس حوالے سے جواب طلب کیا جاتا رہا ہے اورکئی ایک اعلی ترین افسران کی پی اے سی میں سرزنش ہوچکی ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سمیت اہم عوامی ایشوز پر پی اے سی میں نوٹس لینے کا سلسلہ رک کر رہ گہا ہے اہم بات یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ(ن) میں شہباز شریف کی جگہ رانا تنویر کوچیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی نامزد کرنے کی اطلاعات تو سامنے آئی تھیں لیکن تاحال اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آسکی ہے کسی اور چیرمین نامزدکرنے کی تجویز پر حکومت کے علاوہ اپوزیشن کی دیگر جماعتیں بھی تحفظات کا اظہارکرچکی ہے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کو بھی پی اے سی کے غیر فعال ہونے پر تحفظات ہیں۔ پیپلزپارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈرکی سربراہی میں پی اے سی کو پہلے کی طرح متحرک ہونا چاہئے۔یاد رہے کہ 2مئی کو مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی طرف سے رانا تنویر حسین کو چیرمین پی اے سی نامزد کردیا گیا تھا۔ اسی اجلاس میں خواجہ آصف کو پارلیمانی رہنما مقرر کرنے کی منظوری دی تھی۔

اے پی سی

مزید : صفحہ اول


loading...