بوم بوم الوداع

بوم بوم الوداع
 بوم بوم الوداع

  

اب صاحبزادہ محمد شاہد خان آفریدی کا کیا کیا جائے؟ مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے آب ِ حیات پی رکھا ہے اور اس کو صرف اپنے تک محدود رکھا ہے، ہم جیسوںکو اس پانی کی ہوا تک نہیں لگنے دی ہے۔ کئی سال سے وہ ”ایسے “ ہی ہیں ۔ عشرے بیت گئے ہیں ،مگر وہ ابھی تک کرکٹ سے نابلد ہیں۔ سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ یہ بات بہت عجیب لگتی ہے کہ انہوں نے کرکٹ کو کبھی سنجیدگی سے سیکھنے کی کوشش ہی نہیںکی ، حالانکہ ان کی عالمی شہرت، اُن کا پُر کشش کیرئیر اور اُن کی شائقین میں پذیرائی کی وجہ کرکٹ کے سوا کچھ اور نہیںہے....بات یہ ہے کہ ایک قوم ، جس میں ہیرو نہ ہونے کے برابر ہوں، اس کے لئے اندھا دھند بلا گھمانے والا ایک ” اسٹائلش “ بلے باز کہلا سکتا ہے۔ اگر ہمارے ہاں ”صاحبزادہ صاحب “ نہ ہوتے تو ہم کس کے کریز پر آنے کے بعد کھڑے ہو کرتالیاں بجاتے.... (اور چند لمحوں بعد اُن کی پیولین واپسی کو کسی عالمی سازش کا شاخسانہ قرار دیتے؟)بعض تو اس سازش کی تفتیش کے لئے صدارتی کمیشن بنائے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

جہاں تک جناب کی عمر ِ طبعی کا تعلق ہے تو اس کی تفہیم کے لئے مابعدالطبیعات کے کچھ اصولوں (وہ بھی اگر کام دیں)کی ضرورت ہے۔ اس وقت تاریخ ِ عالم ِ ارضی کے مطابق وہ 32 سال اور 212 دن کے ہیں ، تاہم جب دنوںکی گنتی 365 تک پہنچے گی تو وہ پھر سے 32 سال سے گنتی شروع کر دیںگے۔ عظیم انسان چھوٹے موٹے دنوںکو خاطر میں نہیںلاتے اور بوم بوم تو علی الا علان کہہ سکتے ہیں کہ ابھی تو 31 کاہوں اور کرکٹ بورڈ اس امید سے ٹلنے کا نہیں کہ وہ اس برس کچھ سیکھ لیںگے۔ ہمارے ارد گرد معجزات کی دنیا ہے، مگر ہم جیسے کور چشموںکو نظر ہی نہیں آتے ۔

اب بات کچھ اعدادوشمار کی بھی کر لی جائے، ویسے اس ملک میں، جہاں سوچنے کے لئے انسانی اناٹومی میں شامل دیگر اعضا کا کچھ عمل دخل ہو توہو، ذہن کو اس کام کے لئے زحمت نہیں دی جاتی، ان کا تذکرہ بے محل ہے۔ شاہد آفریدی نے 27 ٹیسٹ میچ، 349 ایک روزہ اور 53 ٹی 20 کھیلے ہیں۔ ٹیسٹ میچوں میں ان کی بیٹنگ کی اوسط 36، ایک روزہ میچوں میں 23 اور بیس اوورز کے کھیل میں 31.45 ہے۔

جہاں تک ان کی گیند بازی کا تعلق ہے....(اور کرکٹ کے نام نہاد ماہرین ہمیںیہ بتاتے نہیں تھکتے کہ آفریدی میچ ونر ہے، بالکل شعیب اختر کی طرح) ....ٹیسٹ میچوں میں ان کی وکٹ لینے کی اوسط 36، ایک روزہ میچوں میں34 اورٹی ٹوئنٹی میں 19 ہے۔ جب آپ اتنی زیادہ کرکٹ کھیل چکے ہوںتو اس سے کم اوسط حاصل نہیںکی جاسکتی۔ شاہد آفریدی نے 1998ءمیں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا۔27 ٹیسٹ کھیل کر اُن کو اس سے دستبردار ہونا پڑا۔ اپنے 349 ایک روزہ میچوں میں انہوں نے 323 اننگز کھیلی ہیں۔ اب اتنی زیادہ اننگز کھیل کر بھی ان کی بلے بازی کی اوسط 23 ہے، جبکہ ان کی ہر ایک وکٹ کے عوض پاکستانی ٹیم کو 34 رنز دینا پڑتے ہیں۔ اس طویل عرصے میں کئی کوچ آئے اور گئے، کئی کپتان بدلے، کئی کرکٹ کے ماہرین نے ان کے ساتھ سرکھپایا ،مگر ان کی سوچ اور کھیل (یعنی آﺅٹ ہونے) کا انداز تبدیل نہ ہوا۔ اگر ان کے درجنوں میچوںکی ویڈیو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ ایک دوسری کی ریکارڈنگ کاپی ہیں۔ ایک ہی انداز میں کریز پر آنا، ایک دو شاٹ کھیلنا اور پھر ایک ہی انداز میں آﺅٹ ہو نا ٹیم جائے بھاڑ میں، شائقین تو ایک آدھ شاٹ سے خوش ہو گئے۔ بس یہی کافی ہے۔

 اس میں کوئی شک نہیںکہ وہ ”میچ ونر “ ہے مخالف ٹیم اس طرح کی بلے بازی سے آسانی سے جیت جاتی ہے۔ ایک کراس بیٹ شاٹ جو وہ نہیں کھیل سکتا، وہ پہلی ہی گیند پر کھیلتا ہے۔ اگر سرخ چیری (گیند) ولو سے بنے ہوئے بیٹ سے دو ہاتھ کی دوری پر وکٹ کیپر کے محفوظ ہاتھوں میں پہنچ جائے توآفریدی کی وکٹ محفوظ رہتی ہے، تاہم اگلی ہی بال پر پھر وہی شاٹ (اوریہ کوئی دوچار برس کی بات نہیں)اور اگر گیند بضد بلے سے ٹکرا گئی تو وہ ہوا میں بلند ہو گی اور نیچے کئی ماہر ہاتھ اس کو کیچ کرنے کے منتظرہوںگے....کسی قدیم زمانے میں ،جب آفریدی صاحب 30 بہاریں دیکھ چکے تھے اور آتش قدرے جوان تھا ....(یا تھی اردو محاوروں کی تذکیر و تانیث کسی کروٹ نہیں بیٹھتی)....تو وہ کراس بیٹ سے شاٹ کھیلتے اور کبھی کبھار گیند باﺅنڈری کے باہر جا گرتی۔ زیادہ تر اسکور ایسی شاٹس پر ہی کئے گئے ہیں، تاہم اب وہ زمانہ نہیںرہا۔ آج کل کی ناہنجار گیند بلے سے دور دور ہی وکٹوں سے ٹکرا جاتی ہے اور اگر بلے کو چھو بھی لے تو کم بخت سیدھی اُڑ کر کسی فیلڈر کے ہاتھ میںپہنچ کرہی دم لیتی ہے، اور یہ دورانیہ دم بھر کا ہی ہوتا ہے۔

جب جناب کے ہاتھ میں گیند ہوتو لگتا ہے کہ مخالف بلے بازوں کا بیٹ کئی ہاتھ وسیع ہوچکاہے اور وہ گیند جہاں مرضی پھینکیں، اس نے جانا باﺅنڈری پارہی ہے۔ آج کل آفریدی صاحب کے لئے کیچ کرنا ناممکنات میںسے ہے اس کی وجہ کائناتی طاقتوںکی کوئی ملی بھگت ہے۔ کرکٹ پنڈت تو ان کو بدستور بہترین کھلاڑی ، بلکہ ٹیم کے لئے ناگزیر قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان تمام مسائل کا دماغ کے آپریشن کے سوا کوئی حل نہیںہے ،مگر ان کے مداح اس کی اجازت نہیں دیںگے۔ چند ہفتے قبل، صاحبزادہ صاحب نے ایک ٹی وی شو میںکہاکہ اب تو ان کی چھوٹی صاحبزادی نے بھی درخواست کی ہے کہ وہ دھیان سے کھیلیں، مگرایسی اپیلوںکی یہاں رسائی نہیں اور انہوں نے نہایت احمقانہ سکلاگ شاٹ کھیلنے سے باز نہیںآنا۔ ممکن ہے کہ بیٹی کی نصیحت پر کان دھرے ہوں ،مگر بلا ہاتھ میں پکڑتے ہی ذہن پر تمام بوجھ(عقل وغیرہ ) سے دستبردار ہونا ہوتا ہے، چنانچہ کریز پر آکر قدم جماتے ہوئے وہ ایک نگاہ ِ غلط انداز بالر پر ڈالتے ہیں سرہوا میں بلند ہوتا ہے اور پھر گیند دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیںہوتی۔ بالر کی بولنگ کریز پر آہٹ سن کر بلے کو اپنے چاروں طرف پوری توانائی سے گھماتے ہیں اور باقی تاریخ ہے۔

چند روز پہلے اپنے مسائل (موجودہ) پر بات کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اپنی خامیوںپر قابو پانے کے لئے کوچ اور ٹیم منیجر سے مشاورت کر رہے ہیں یعنی 349 ایک روزہ میچ کھیل کر اب بلے بازی کے ٹپس لے رہے ہیں، تاہم افسوس! یہ نایاب ٹپس بھی کریز پر ان کے جذبات کے الاﺅ میں بھسم ہوجاتی ہیں۔ جنوبی افریقہ اور انڈیا کے خلاف حالیہ میچوں کے دوران کسی ٹپس کا کوئی شائبہ تک دکھائی نہ دیا۔ کریز پر آکر انہوں نے وہی کچھ کیا جو ٹپس سے پہلے ، یا پندرہ سال پہلے، کرتے تھے اطمینان سے آنکھیں بند کیں، بے چینی سے بلا گھمایا اورنپے تلے قدموںسے یہ جا وہ جا، جبکہ پاکستان نہایت مشکلات کا شکار تھا۔ اب کرکٹ کے متوالے جو پاکستان اوردنیابھر میں ٹی وی پر نظریں جمائے بیٹھے تھے، کیا کر سکتے ہیں؟اب موجودہ ورلڈ کپ کے دوران ان سے نہ تو بلے بازی ہورہی ہے ، نہ گیند بازی اور نہ ہی فیلڈنگ مگر وہ کھیلنے پر مصر ہیں۔ اب آفریدی صاحب ایک بات سمجھ لیں کہ وہ چاہے اپنی عمر میں اکیسویں ترمیم کرکے اکیس سال کے ہوجائیں، وقت ان کے ہاتھ سے جا چکا ہے۔ کرکٹ میں سب سے اہم چیز شاٹ سلیکشن ہوتی ہے اور یہ ان کے بس کی بات نہیںہے۔ انہوں نے ہمیشہ اس بال کو ہٹ کرنے کی کوشش کی ہے، جسے سرویوین رچرڈ بھی وکٹ کیپر کے ہاتھ میںجاتا دیکھ کر خوش ہوتے۔

میدان سے باہر بھی ان کے برے رویے کی داستانیں زبان ِ زد ِ عام ہونے سے بال بال بچی ہوئی ہیں۔ بہت سے کھلاڑی آف دی ریکارڈ گفتگو میں یہ بات کرتے ہیںکہ آفریدی صاحب ٹیم میں سیاست بازی کررہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ الزام درست ہو یا غلط، اس بات کا ابھی فیصلہ نہیںکیا جا سکتا۔ یوایس اوپن ٹرافی جیتتے ہوئے ایک مرتبہ ٹینس کے عظیم کھلاڑی پیٹ سمپراس نے کہا تھا کہ ایک وقت کھلاڑیوںپر آتا ہے جب اس نے کھیل سے دستبردار ہونا ہوتا ہے۔ اس لمحے کا انتخاب کرنا ایک کڑا امتحان ہوتا ہے۔پیٹ سمپراس اپنے عروج کے زمانے میں ریٹائر ہوگئے ۔ ہمارے ہاں ایسا نہیںہوتا۔ ہمارے بہت کم کھلاڑی ایسے ہیں جو اپنے عروج کے آخری لمحات میں الوداع کہہ دیں۔ اگر آفریدی صاحب اپنے عروج، جو کچھ بھی تھا، کے زمانے میں جوتے اتار دیتے (انگریزی محاورے کے مطابق) تو ایک لیجنڈ کھلاڑی کے طور پر جانے جاتے، تاہم وہ اس کھیل سے چمٹے ہوئے ہیں، جس کو کھیلنا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ اب تو بہت سے کرکٹ کے ماہرین یہ کہنا بھی شروع ہو گئے ہیںکہ اُن کی وجہ سے بہت سے باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کا کیرئیر تباہ ہورہا ہے۔ اب آفریدی صاحب کے لئے بہتر تویہ ہے کہ وہ خود ہی کرکٹ چھوڑ دیں.... تاہم ٹھہریں! یہ مفت مشورہ ہے اور مفت مشورے کی کوئی قدر نہیںہوتی۔ سنا ہے کہ ان کی نظریں اگلے آئی سی سی ورلڈکپ پر مرکوز ہیں۔       ٭

مزید : کالم