برطانوی میڈیا ایان علی کے دفاع میں آگے آگیا

برطانوی میڈیا ایان علی کے دفاع میں آگے آگیا
برطانوی میڈیا ایان علی کے دفاع میں آگے آگیا

  

لندن (نیوز ڈیسک) منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار خوبرو ماڈل ایان علی کے دفاع میں برطانوی میڈیا نے شور مچانا شروع کردیا ہے اور یکطرفہ رپورٹنگ کے بعد اسے بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ برطانیہ میں جہاں منی لانڈرنگ کے خلاف سخت قوانین ہیں کے میڈیا میں منی لانڈرنگ کیس کی مرکزی ملزم کے حق میں رپورٹنگ نے کئی سوالیہ نشان کھڑے کردئیے ہیں۔

حال ہی میں ”میل آن لائن“ میں اداکارہ کے حق میں ایک بہت بڑا مضمون شائع کیا گیا ہے جس میں ایان کو اس طرح مظلوم بنا کر پیش کیا گیا ہے کہ جیسے اس نے کوئی جرم نہیں کیا اور اسے خام خواہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دھر لیا ہے۔ برطانوی اخبار نے ملزمہ کے وکیل کا موقف شائع کیا ہے جب کہ سرکاری وکیل کے موقف کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے ان سے رابطہ بھی نہیں کیا گیا۔ اخبار لکھتا ہے کہ معروف ماڈل کو 14 مارچ کو بینظیر ایئرپورٹ کے وی آئی پی لاﺅنج سے 5 لاکھ ڈالر بیرون ملک لے جانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور اس کے بعد اسے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے۔ سابقہ ماڈل و اداکارہ فریحہ الطاف کا کہنا ہے کہ ایان کو بلاوجہ جیل میں ڈال دیا گیا ہے حالانکہ وہ بے قصور ہے۔ فریحہ پر الطاف جو ایلیٹ کلاس میں کافی مشہور شخصیت ہیں کا کہنا تھا کہ ایان ایک خوبرو اور باہمت اداکارہ ہے۔ اپنے موقف میں فریحہ الطاف نے ایان کے کیس پر بات کرنے کی بجائے پاکستانی معاشرے کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا معاشرہ مذہبی رہنماﺅں کی عزت کرتا ہے لیکن پاکستانی معاشرہ کبھی بھی ان لوگوں کی عزت نہیں کرتا جو ہماری ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے کام کررہے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: ایان علی نے جیل میں نماز اور تسبیح شروع کر دی

ایان کے وکیل خرم لطیف کھوسہ جو پنجاب کے سابق گورنر لطیف کھوسہ کے بیٹے ہیں کا کہنا تھا کہ ایان کو یہ رقم ایک پراپرٹی کو بیچنے کے بعد حاصل ہوئی تھی اور وہ یہ رقم بیرون ملک نہیں لے جارہی تھیں بلکہ وہ ایئرپورٹ لاﺅنج میں بیٹھی اپنے بھائی کا انتظار کررہی تھی تاکہ یہ رقم اس کے حوالے کرے۔ دوسری جانب اخبار نے سرکاری وکیل سے بات کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس