وزیراعظم نااہلی کیس: الیکشن کمشن نے عوامی تحریک کی درخواست مسترد کردی، پانامہ لیکس پر ثبوت مانگ لئے

وزیراعظم نااہلی کیس: الیکشن کمشن نے عوامی تحریک کی درخواست مسترد کردی، ...
وزیراعظم نااہلی کیس: الیکشن کمشن نے عوامی تحریک کی درخواست مسترد کردی، پانامہ لیکس پر ثبوت مانگ لئے

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) الیکشن کمشن نے وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی سے متعلق درخواست دینے والی سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی درخواستوں کے ہمراہ دستاویزی ثبوت لے کر آئیں۔ الیکشن کمشن نے یہ حکم اپوزیشن کی چار جماعتوں کی جانب سے پاناما لیکس میں وزیر اعظم کے بچوں کے نام آنے کے بعد نوازشریف کو نااہل قرار دینے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران دئیے۔

مقامی اخبار کے مطابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا کی سربراہی میں الیکشن کمشن کے بنچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔ اس موقع پر الیکشن کمشن کے چاروں ارکان اس بنچ میں موجود تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سردار لطیف کھوسہ نے اپنی درخواست کے حق میں دلائل میں کہا کہ وزیراعظم نوازشریف نے الیکشن کمشن میں جمع کروائے گئے اپنے اثاثوں سے متعلق غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نے اپنے اثاثے چھپائے جس کے بعد ان کے بچوں نے آف شور کمپنیاں بنائی ہیں جن کا ذکر پاناما لیکس میںآیا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے اثاثے چھپانے کے علاوہ ٹیکس بھی چوری کیا اسی لئے اب وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ بنچ کے سربراہ نے درخواست گزار سے پوچھا کہ کیا یہ درخواست وزیراعظم کو نااہل قرار دینے سے متعلق ہے یا ان کے بچوں کو جس کے جواب میں لطیف کھوسہ نے کہاکہ نوازشریف کے بچوں کے بیانات میڈیا کی زینت بنے جس میں ان کا کہنا ہے کہ وہ خرچے اور کاروبار سے متعلق اپنے والد پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ جسٹس (ر) سردار رضا خان نے پیپلز پارٹی کے رہنما سے پوچھا کہ ان کے پاس اس بارے میں جو ثبوت ہیں وہ پڑھ کر سنائیں جس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ ثبوت پڑھے نہیں جا رہے جس پر بنچ کا کہنا تھا کہ جب درخواست گزار سے یہ ثبوت نہیں پڑھے جا رہے تو عدالت ان ثبوتوں کو بنیاد بنا کر کیسے فیصلہ کرے گی؟ پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئس لینڈ کے وزیر اعظم نے پاناما لیکس میں نام آنے کے بعد عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے جس پر سردار رضا خان کا کہنا تھا کہ کیا پاناما لیکس میں وزیراعظم کا نام آیا ہے جس کا انھوں نے نفی میں جواب دیا۔

پاکستان عوامی تحریک کے وکیل کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم سانحہ ماڈل ٹاون کے مقدمے میں نامزد ملزم ہیں اس لیے ایسے شخص کو نااہل قرار دیا جائے جس پر الیکشن کمیشن نے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ فوجداری مقدمات کی سماعت کے لیے متعقلہ فورم سے رجوع کریں۔ الیکشن کمشن کے ارکان نے کہاکہ ٹرائل مکمل ہونے سے قبل کسی کو نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ الیکشن کمشن نے پاکستان عوامی تحریک کا وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کا موقف مسترد کر دیا۔چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ پانامہ لیکس کی قانونی اور اخلاقی حیثیت کیا ہے۔ چاروں وکلا کا موقف تھا کہ وزیراعظم نے اثاثے چھپائے۔ اس لئے آرٹیکل 62/63کے تحت صادق‘ امین اور عہدے کے اہل نہیں رہے۔ عوامی تحریک کے وکیل نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کا ذکر کیا تو الیکشن کمشن ارکان نے کہاکہ ٹرائل مکمل ہونے سے قبل کسی کو نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیگی رہنماﺅں نے اپوزیشن کے دلائل کو حکومتی موقف کی تائید قرار دیا۔ یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ آیا یہ درخواستیں اس فورم پر قابل سماعت ہیں یا نہیں۔ مزید سماعت 17اگست کو ہو گی۔ الیکشن کمشن نے وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کی سماعت کے دوران عوامی تحریک کے ماڈل ٹاﺅن سانحہ کو پٹیشن سے غیر متعلقہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ کریمنل ٹرائل مکمل ہونے سے پہلے کسی کو نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا با ضابطہ فوجداری کی سماعت مکمل ہونے سے پہلے ہم کوئی ایکشن نہیں لے سکتے۔

پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، عوامی مسلم لیگ سے نواز شریف اور دیگر کےخلاف پانامہ لیکس پر دستاویزی ثبوت طلب کر لئے۔ پیپلز پارٹی کے لطیف کھوسہ، پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے چودھری اشتیاق، پی ٹی آئی اور شیخ رشید کی جانب سے انیس ہاشمی پیش ہوئے۔ عوامی تحریک کی جانب سے دائر پٹیشن میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن کو بھی پٹیشن میں شامل کیا گیا تاہم چیف الیکشن کمشنر نے سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کو پٹیشن میں شامل کئے جانے کو غیر متعلقہ قرار دےدیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے پاناما لیکس پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے کہ پاناما لیکس کیا ہے ،تاریخ کیا ہے اور اس کی قانونی و اخلاقی حیثیت کیا ہے۔ لطیف کھوسہ نے کہاکہ بیرون ملک جائیداد بنانے میں وزیراعظم اور ان کے خاندان کا نام آیا ہے ، وزیراعظم مسلسل غلط بیانی کر رہے ہیں۔ کاغذات نامزدگی میں وزیراعظم نے مریم نواز کو زیرکفالت بتایا تاہم پاناما لیکس سے انکشاف ہوا کہ مریم نواز تو آف شور کمپنیوں کی مالک ہیں ۔ سٹیٹ بینک کے ریکارڈ کے مطابق یہ لوگ ڈیفالٹرز ہیں۔

بعدازاں الیکشن کمشن کے باہر مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز، نجکاری کمشن کے چیئرمین محمد زبیر اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے انسانی حقوق بیرسٹر ظفر آ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم چار جماعتوں کی جانب سے الیکشن کمشن میں وزیراعظم کی نااہلی کے بارے میں دائر درخواست پر ان کے دلائل سننے آئے تھے تاہم تمام جماعتوں نے الیکشن کمشن کے سامنے تسلیم کیا کہ وزیراعظم محمد نواز شریف کا نام پاناما پیپرز میں نہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی تحریر ہی نہیں پڑھی جا رہی تھی، اپنی درخواست کے ساتھ ان جماعتوں نے ثبوت کے طور پر کوئی ایک پیپر بھی پیش نہیں کیا۔ اپوزیشن کو پاناما لیکس کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔ چار ماہ گزرنے کے باوجود پاناما لیکس کے حوالہ سے احتجاج کرنے والی سیاسی جماعتوں نے کسی فورم پر بھی کوئی ثبوت مہیا نہیں کئے۔

مزید : اسلام آباد