شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 21

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ ...
شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 21

  

یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ پچیس تیس گز کے بعد نالہ پھر جنوب کی طرف گھوم گیا ہے۔اب میں دوسرے موڑ پر آیا۔یہاں سے تقریباًپچاس گز تک نالہ سیدھاگیا تھا اورسطح صاف نظر آرہی تھی۔۔۔لیکن کوئی جانور نظر نہیں آیاتو میں آگے بڑھا اور ایک اور موڑ پر آگیا ۔۔۔نالہ پھر کسی قدر مغرب کی طرف مڑگیا تھا اور سامنے بمشکل بیس گز سیدھا بہہ کر جنوب کی طرف گھو م گیا تھا ۔

میں نے یہ بیس گز کا قطعہ بھی طے کیا اور آگے بڑھا تو سامنے تقریباًڈیڑھ سو گز تک کھلی اور صاف سطح تھی ۔میں اسی جگہ ٹھہر گیااور گھٹنا زمین پر ٹکا کر فائر کے لیے بیٹھ گیا۔چونکہ آدم خور کا خطرہ ہر لمحہ موجود تھا ،اس لیے میں نے بیٹھنے سے پہلے چاروں طرف دیکھ کراطمینان کر لیا کہ مجھ سے کم ازکم چالیس گز تک کوئی ایسی آڑ یا نشیب نہیں کہ آدم خور چھپ کر حملہ آور ہو سکے ۔اب میں پوری توجہ سے نالے کو اندر دیکھنے لگا۔

مجھے بیٹھے ہوئے چند سیکنڈ ہی گزرے ہوں گے کہ نالے کے اندر سے شیر کی آواز آئی۔لیکن یہ آواز وہ نہیں تھی جو شیر غصے یا حملے کے وقت کرتا ہے۔وہ ایسی آواز تھی جو فر حت و اطمینان کی حالت میں فرما نروائے صحرا کے خونخوارحلق سے نکلتی ہے ۔دوسرے ہی لمحہ سانبھر بھاگتا ہواسامنے آگیا۔وہ اس قدر حواس باختہ تھاکہ چیخنا چلانا بھی بھول گیا تھا۔لیکن دُم اُٹھی ہوئی اور جسم تیز بھاگنے کے لیے تُلا ہُوا تھا۔

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 20 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اس حالت میں سانبھر کو دیکھ کر سارا ماجرا میری سمجھ میں آگیا ۔ابتدا میں شیر مجھ سے خلاف رُخ پر نالے کا دہانہ روکے سانبھر کا منتطر تھا ۔جب سا نبھرپہلی مرتبہ گاڑی کی آواز سن کر بھاگاتو اسے شیر نظر آیااور اس نے خوف کی آوازیں کرنا شروع کیں ۔اور مجبوراًمیری طرف واپس ہوا،مگرمیں نے سانپ کو پھینکنے کے لیے جو حرکات کیں ،ان سے ڈر کر اسے پھر نالے میں پلٹنا پڑا۔اس مرتبہ شیر نے سانبھر کو دیکھ لیا اور مسرت آمیزانگڑائی لی اور خوشی کی آواز نکالی ۔سانبھر کا مذکورہ بالا ہیئت سے دوڑنا اس بات کا ثبوت تھا کہ شیر نے اپنی جگہ سے حرکت کی ہے۔

سانبھر میرے سامنے سے گزرکر نالے کے موڑمیں غائب ہوگیا۔فوراًٍہی سامنے والے موڑ سے چار شیر وں نے سر نکالے ۔پھر سامنے آگئے ۔۔۔۔۔ان میں سے ایک بوڑھی شیرنی اوراس کے پیچھے پیچھے تین بالکل جوان پٹھے تھے۔چاروں دبے دبے موڑ سے نکلے اور قریب آتے گئے۔

وہ چاروں سانبھر کے تعاقب میں تھے اور ان چاروں کے ساتھ ہونے سے ہی مجھے یقین ہوگیا تھا کہ یہی کراریہ کے آدم خور ہیں ۔ بوڑھی شیرنی پیچھے پیچھے تھی اور بار بار سر اٹھاکر نالے کے دونوں کناروں کو دیکھتی جاتی تھی ۔مجھ سے ان کا فاصلہ سو گز تھا۔پھر نوے گز رہا،پھر اسی گز ،پھر ستر گز،اور پھر ساٹھ گز۔۔۔۔میں اس تمام عرصے میں سب سے آگے آنے والے شیر کو رائفل کی مکھی پر لیے رہا۔۔۔فائر اس لیے نہیں کیا کہ میں نے سوچا،جتنی کھلی جگہ پر آجائیں ،اتنا ہی اچھا ہے۔۔۔۔

اب فاصلہ کم اور موقع مناسب تھا ۔۔۔میں نے آگے آنے والے شیر کی گردن اور شانوں کے درمیان ریڑھ اور گردن کی ہڈی کا نشانہ لیا۔یہ نشانہ اگرچہ عام حالات میں اچھا نہیں ،لیکن شیر نشیب میں تھااور میں کافی بلندی پر۔۔۔

چشم زدن میں انگلی نے ٹریگر کو دبایا ۔۔۔۔نالے کے اندر فائر کی آواز بُری طرح گونجی اور ایک شیر کھڑے کھڑے پولی دیوار کی طرح گرگیا۔دوسرے شیروں نے زبردست آواز کی اور اُ لٹے بھاگے ۔۔۔شیرنی بھاگنے والوں میں سب سے آگے تھی ۔۔۔۔میں نے دوسرے شیر کا نشانہ لیا اور ٹریگر دبایا ،لیکن گولی چند انچ ہٹ کر نالے کی ریت پر پڑی ۔۔۔۔اور دوسرے ہی لمحے شیر نالے کے موڑ میں غائب ہوچکے تھے ۔

نالے سے شیر کو باہر نکال کر میں نے ٹیپ سے ناپا ۔۔۔آٹھ فٹ تین انچ ۔۔۔۔نوجوان شیر ۔۔۔۔اس کی آدم خور ی کی وجہ سمجھنا اب مشکل نہ تھا۔اس کی ماں آدم خور تھی ۔اسی سے ان تینوں نے آدم خور ی کی عادت ورثے میں پائی ۔یہ بات ضرور تعجب خیز ہے کہ اس عمر کو پہنچنے جانے کے باوجود چاروں یک جا تھے ۔۔۔شیر تو تنہا زندگی گزارنے کا عادی ہے اور خاص حالات ومدت کے علاوہ کسی مادہ شیرنی کے ساتھ رہنا بھی گوارا نہیں کرتا ۔۔۔میرے خیال میں آدم خور ی کی لت نے ان چاروں کو یکجانی پر مجبور کیا ہو گا ۔۔۔لیکن یہ شیرنی کو اریہ کے جنگلوں کی رہنے والی نہیں تھی ۔۔۔کسی اور جنگل سے چل کر یہاں آبسی اور آدم خوری شروع کردی تھی ۔ (جاری ہے )

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 22 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -شیروں کا شکاری -