کمرشل بینکوں کی بجائے مرکزی بینک سے زیادہ قرض لینے ،شرح سود میں کمی کے باعث بینکوں کا منافع کم ہو گیا

کمرشل بینکوں کی بجائے مرکزی بینک سے زیادہ قرض لینے ،شرح سود میں کمی کے باعث ...
کمرشل بینکوں کی بجائے مرکزی بینک سے زیادہ قرض لینے ،شرح سود میں کمی کے باعث بینکوں کا منافع کم ہو گیا

  

لاہور( این این آئی)حکومت کی طرف سے کمرشل بینکوں کی بجائے مرکزی بینک سے زیادہ قرض لینے اور شرح سود میں کمی کے باعث بینکوں کا منافع کم ہو گیا تاہم اثاثے بڑھ گئے ۔رپورٹ کے مطابق بینکوں کو سال 2016 کے دوران ٹیکسوں کی ادائیگی کے بعد مجموعی طور پر بعد از ٹیکس 190 ارب روپے کا منافع ہوا ہے جبکہ اس سے ایک سال قبل کا منافع 199 ارب روپے تھا۔

رپورٹ کے مطابق سال کی چوتھی سہ ماہی کے دوران نجی شعبے کے قرضوں میں ریکارڈ اضافے کے باعث آخری سہ ماہی کا منافع تو پہلے سے بڑھ گیا ہے تاہم پورے سال کا منافع کم رہا۔تین ماہ کے دوران نجی شعبے کے قرضوں میں 10.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیاجو گزشتہ دس سال کی بلند ترین شرح ہے ۔ایک سال میں بینکاری شعبے کے مجموعی اثاثے 4.6 فیصد اضافے سے 158 کھرب 31 ارب روپے تک پہنچ گئے ۔اس دوران بینکوں کے ڈیپازٹس میں 13.6 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ غیر فعال قرضوں کی شرح 10.1 فیصد رہ گئی جو 8 سال کی کم ترین شرح ہے۔

مزید : بزنس