جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر79

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر79
جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر79

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سامنے بیڈ پر صائمہ سو رہی تھی۔ حیرت کی بات اس کی نیند نہیں بلکہ گہرا میک اپ تھا۔ حیرت کا دوسرا جھٹکا مجھے اس وقت لگا جب میں نے دیکھا اس کے بالوں میں بیلے کی کلیاں گندھی ہوئی ہیں جبکہ ہمارے لان میں بیلے کے پھول توکیا پودے بھی نہ تھے۔ اس نے نہ صرف گہرا میک اپ کیا ہوا تھا بلکہ اپنی پسندیدہ گلابی رنگ کی ساڑھی بھی باندھی ہوئی تھی۔

وہ سر تاپا قیامت بنی محو خواب تھی۔ خوابیدہ حسن غضب ڈھا رہا تھا مدھرسی مسکان اس کے نرم و نازک ہونٹوں پر تھی جیسے سوتے میں وہ حسین خواب دیکھ رہی ہو۔ میں حیرت سے کنگ کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ وہ اکثڑ کہاکرتی عورت کو صروف اپنے خاوندکے لئے بننا سنورنا چاہئے پھر۔۔۔؟ پھر وہ میرے جانے کے بعد کس کے لئے سج سنور کر بیٹھی ہوئی تھی؟ شک کا ناگ میرے اندر پھن پھیلا کر کھڑا ہوگیا۔ لباس کی بے ترتیبی ایسی کہانی سنا رہی تھی جس پریقین کرنا مشکل تھا۔ صائمہ کی شرافت مسلم تھی میں کسی طور ماننے کو تیارنہ تھا کہ کوئی ’’ایسی ویسی‘‘ بات ہو سکتی ہے۔ آج کل اسے نیند بھی بہت آتی۔ ایک بارپہلے بھی فون اٹینڈ نہ کرنے پر میں پریشانی میں گھر آیا تھا۔ تو بیڈ روم سے خود اپنی آواز اور صائمہ کی ہنسی سن کر میں لپک کر بیڈ روم میں داخل ہونے لگا تھا کہ وہ سنگین حادثہ رونما ہوا تھا جس کے نتیجے میں میں بری طرح زخمی ہو کر ہسپتال پہنچ گیا تھا۔ آج بھی میں نے پریشانی کی حالت گھر کا رخ کیا لیکن یہاں آکر میری پریشانی اور بڑھ گئی تھی۔ آہستہ سے چلتاہوا میں بیڈکے پاس بچھی کرسی پر بیٹھ گیا۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر78 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’صائمہ‘‘ میں نے آہستہ سے اسے آواز دی وہ اسی طرح سوتی رہی۔

’’صائمہ‘‘ اس بارمیں نے ذرا بلند آوااز سے اسے پکارا اور بازو سے پکڑ کر بلایا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ اسکی آنکھیں سرخ انگارہ ہو رہی تھیں۔ کھوئے کھوئے انداز میں اسنے میری طر ف دیکھا۔

’’صائمہ‘‘ میں نے بڑے پیار سے کہا۔

’’جی۔۔۔‘‘ اسکی آواز نیند سے بوجھل تھی۔

’’صائمہ! کیا کہیں جانے کی تیاری تھی؟‘‘ میں نے اس کی توجہ لباس کی طرف دلائی۔

’’اس نے تو کہاتھا وہ یہیں آئے گا؟‘‘ وہ جیسے خود سے ہمکلام تھی۔ میں بری طرح چونک گیا۔

’’وہ کون؟‘‘ میں نے تیزلہجے میں پوچھا۔

’’تم کس کی بات کر رہی ہو؟ کس نے کہا تھا وہ یہاں آئے گا؟‘‘

اس بار وہ جیسے نیند سے جاگ گئی۔ اسنے میری جانب دیکھا پھر جیسے اس کی نظر اپنے لباس پر پڑی وہ گھبرا کر کھڑی ہوگئی۔ حیرت سے اس کی آنکھیں ممکن حد تک پھیل گئیں ۔ وہ کبھی اپنے لباس کی طرف دیکھتی کبھی میری طرف پھر تحیر زدہ اپنے سراپے پر نظر ڈالنے لگی۔

’’یی۔۔۔یہ۔۔۔کک۔۔۔کیا؟‘‘ حیرت سے اس کی آواز بند ہوگئی۔

’’فاروق! یہ لباس میں نے کب بدلا؟‘‘ وہ لباس پر نظر ڈال کر پوچھ رہی تھی اسی وقت اس کی نظر آئینے پر پڑی جس میں اس کا چہرہ نظر آرہا تھا وہ بھاگ کر ڈریسنگ ٹیبل کی طرف گئی اور اپنے چہرے پر ہاتھ لگا کر دیکھنے لگی۔ میں غور سے اس کی حرکات دیکھ رہا تھا درحقیقت وہ حیران تھی یہ ادکاری نہ تھی۔ حیرت سے اس کے چہرے کے نقوش بگڑ گئے تھے۔

’’فاروق! یہ سب ۔۔۔یہ سب کیا ہے؟‘‘ وہ اس قدر حیران تھی جتنا بھی نہ ہوا تھا۔

’’میں تو صفائی کر رہی تھی کہ اچانک مجھے چکر آیا اور میں بیڈ پر لیٹ گئی۔ کئی دن سے مجھے کمزوری سی محسوس ہو رہی تھی۔ اس کے بعد اب آنکھ کھلی ہے لیکن فاروق! کیا آپ نے ۔۔۔؟ نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ میرا لباس تبدیل کریں اور میں سوتی رہوں۔ بتائیں نا یہ سب کیا ہے؟ ‘‘ وہ روہانسی ہوگئی۔ ٹپ ٹپ آنسو اس کی آنکھوں سے بہنے لگے۔ میں نے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔

’’شاید تمہیں نیند میں چلنے اور کام کرنے کا مرض لاحق ہوگیا ہے‘‘ میں نے اپنا خیال ظاہر کیا۔

’’نیند میں چلنے کا مرض؟‘‘ اس نے بے یقینی سے میری طرف دیکھا۔

‘‘ہان اور یہ ناممکن نہیں۔ بڑے بڑے نامور لوگ نیند میں چلنے اور کام کرنے کے مرض میں مبتلا رہے ہیں کئی معروف سائنسدانوں نے نیند کی حالت میں کامیاب تجربات کیے بلکہ ایسے کارنامے سر انجام دیئے جو وہ جاگتی حالت میں کبھی نہ کر پاتے۔‘‘ میں نے سنجیدگی سے کہا

’’لیکن فاروق! یہ کیسے ممکن ہے کہ مجھے کچھ پتا ہی نہ چلے اور سب کچھ کر لوں۔ مثلاً میک اپ وہ بھی ایسا‘‘ اس نے اپنے چہرے کی طرف اشارہ کیا۔

’’یہی تو اس مرض کی خصوصیت ہے کہ انسان کو پتا ہی نہیں چلتا وہ ایسا کام کر گزرتا ہے جسے وہ شعور کی حالت میں کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ مثلاً تم عام حالت میں کبھی اتنا اچھا میک اپ نہیں کر سکتیں جیسا کہ تم نے کیا ہے۔‘‘ میں نے دلیل دی۔

’’میری تو عقل گم ہوگئی ہے اگر یہ سب کچھ میرے ساتھ نہ ہوا ہوتا تو میں کبھی یقین نہ کرتی‘‘ وہ کچھ مطمئن ہوگئی تھی۔ اسے اطمینان دلاکر میں خود بے سکون ہو گیا تھا۔ اس کاجملہ ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہا تھا۔

’’اس نے تو کہا تھا وہ یہیں آئے گا‘‘ وہ کس کے بارے میں کہہ رہی تھی۔ وہ کون تھا جس کا صائمہ کو انتظار تھا؟ کسی بات کی سمجھ نہ آرہی تھی۔

’’کیا سوچ رہے ہیں؟‘‘ اس نے میری طرف دیکھا۔

’’کچھ نہیں میں سوچ رہا تھا کہ تمہیں کسی اچھے سے ڈاکٹر کو دکھا دوں‘‘ میں نے کہا۔

’’ڈاکٹر کیا کرے گا؟‘‘ وہ حیران رہ گئی۔

’’تمہارا علاج کرے گا اور کونسا ایسا لاعلاج مرض ہے؟ تم فکر نہ کرو میں آج ہی عمران سے کسی اچھے سے سائیکٹرسٹ کے بارے مییں پوچھتاہوں‘] میں نے اسے تسلی دی۔

’’نہیں فاروق ! پلیز عمران بھائی کونہ بتائیے گا وہ کیا سوچیں گے آپ خود ہی کسی ڈاکٹر کا پتا کریں‘‘ وہ جلدی سے بولی۔

’’اچھا ٹھیک ہے تم جاؤ چینج کر لو پھر اچھی سی چائے بنا کر لاؤ دونوں ساتھ پیتے ہیں‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔

’’فاروق آپ کتنے اچھے ہیں میرا کتنا خیال رکھتے ہیں۔ ارے۔۔۔میں تو پوچھنا ہی بھول گئی آپ اس وقت گھرکس لئے آئے تھے؟‘‘

’’تمہاری یاد آئی تو اٹھ کر چلا آیا کہ تمہیں سے تھوڑا سا پیار کر لوں‘‘ میں نے شرارت سے اسے دیکھا۔

’’نہیں۔۔۔ایسا نہیں کرنا‘‘ میری بات سنتے ہی اس کا رنگ زرد ہوگیا۔ وہ بری طرح گھبرا گئی۔ میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔

’’کیا مطلب؟ کیا کہہ رہی ہو تم‘‘۔

’’کک۔۔۔کچھ نہیں‘‘ وہ بری طرح گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی۔

’’نہیں بتاؤ کیا کہہ رہی تھیں تم؟‘‘ میں نے اصرار کیا۔

’’وہ۔۔۔وہ میری طبیعت خراب ہے نا اس لئے میں کہہ رہی تھی آ۔۔۔آج نہیں پھر کسی دن‘‘ وہ اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔

’’میں چینج کرکے ابھی آتی ہوں‘‘ یہ کہہ کر وہ باہر نکل گئی۔ میں سوچوں کی بھنور میں ڈوبتا ابھرتا رہا۔ قرین قیاس بات یہی نظر آتی تھی کہ واقعی اسے نیند میں چلنے اور کام کرنے کی عادت پڑ گئی ہو۔ تو کیا وہ صائمہ ہی تھی جو رات کو میرے پاس آکر دوسرے دن انکاری ہو جاتی۔ لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ رادھا نے خود تسلیم کیا تھا۔ صائمہ کا صرف جسم استعمال ہوتا تھا لیکن اصل میں وہ رادھا ہی تھی۔ اس کا ذکر آتے ہی میں چونک گیا۔ کتنا احمق ہوں میں بھی خود سر کھپانے کے بجائے رادھا سے کیوں نہیں پوچھ لیتا۔ میں نے سوچا اس کے ساتھ ہی مجھے یاد آیا کہ کافی دن ہوگئے ہیں رادھا نہ تو مجھ سے ملنے ہی نہ آئی کوئی رابطہ کیا۔ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ آج رات کو ہی رادھا کو بلاؤں گا۔ یہ سوچ کر مجھے کچھ اطمینان ہوا۔ تھوڑی دیر بعد صائمہ چائے کی ٹرے اٹھائے آگئی۔ چائے پینے کے بعد میں نے کہا۔

’’چلو بچوں کو سکول سے لے آئیں۔‘‘

’’ہاں یہ ٹھیک ہے دونوں چلتے ہیں‘‘ وہ چادر اٹھاتے ہوئے بولی۔ جب ہم سکول پہنچے تو چھٹی ہو چکی تھی۔ بچے ہم دونوں کودیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ میں نے عمران کو فون کرکے بتا دیا تھا کہ میرے سر میں درد ہے میں واپس نہیں آؤں گا۔ صائمہ کچھ کھوئی کھوئی سی تھی۔ وہ بات کرتے کرتے چپ ہو جاتی۔ بیٹھے بیٹھے چونک جاتی۔ کبھی گھبرا کر ادھر ادھر دیکھنے لگتی میرے پوچھنے پر کوئی بہانہ کر دیتی۔ اس کا دمکتا ہوا رنگ ماند پڑ چکا تھا۔ چہرے کی تازگی اور شادابی کہیں کھو سی گئی تھی۔ میں عشاء کی نماز پڑھ کر فارغ ہوا تو صائمہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔ بچوں کو ہوم ورک کروا کر اس نے سلا دیا تھا۔

’’نماز پڑھ لی؟‘‘ میں نے پوچھا۔ اس نے جیسے میری بات سنی ہی نہیں۔

’’صائمہ۔۔۔!‘‘ میں نے دوبارہ اسے آواز دی۔

’’آں۔۔۔مجھ سے کچھ کہہ رہے ہیں؟‘‘ اس نے چونک کر پوچھا۔

’’کیا سوچ رہی ہو؟‘‘ میں نے مسکرا کر اسے دیکھ۔ا

’’کچھ نہیں۔۔۔آپ کیا پوچھ رہے تھے؟‘‘ اس کی سوالیہ نظریں میری طرف اٹھی ہوئی تھیں۔

’’میں پوچھ رہا تھا عشاء کی نماز پڑھ لی؟‘‘ اس کا جواب مجھے حیرت کے سمندر میں غرق کر گیا۔

’’ہر روز تو پڑھتی ہوں ایک دن نہیں پڑھی تو کیا قیامت آگئی۔‘‘ اس نے بڑی بیزاری سے کہا اور کروٹ بدل کر منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ میں نے اس پیش نظر کچھ نہ کہا کہ کہیں وہ کوئی ایسی بات نہ کہہ دے جو کفر کا باعث بن جائے۔

’’کل انشاء اللہ ڈاکٹر کے پاس چلیں گے میں نے پتا کیا ہے ایک بہت اچھا سائیکٹرسٹ ہے میں نے فون پر وقت لے لیا ہے کل شام پانچ بجے چلیں۔۔۔‘‘

’’یہ کیا ڈاکٹر ڈاکٹر لگا رکھی مجھے کوئی بیماری نہیں سنا تم نے؟ اگر اب ایسی بات کی تو تمہاری خیر نہیں‘‘ اس کی دھاڑ نے مجھے لرزا دیا۔ بچے بھی گھبرا کر جاگ گئے میں اس کے جواب سے ششدر رہ گیا۔ جلدی سے آگے بڑھ کر بچوں کو تھپک کر دوبارہ سلا دیا۔

’’صص۔۔۔صائمہ یہ تم کیا کہہ رہی ہو کیا تم ہوش میں ہو؟‘‘ میں نے سخت لہجے میں کہا۔ وہ اپنی بڑی بڑی سرخ انگارہ آنکھوں سے مجھے دیکھتی رہی پھر قہر میں بھری تکیہ اٹھا کر کارپٹ پر لیٹ گئی۔ میں کچھ دیر اسے دیکھتا رہا پھر خاموشی سے لیٹ گیا۔ یقیناًاس کی طبیعت خراب تھی ورنہ اس طرح تو وہ کبھی بات نہ کرتی تھی میں نے اس وقت اسے چھیڑنا مناسب نہ سمجھا اور اس کے سونے کا انتظا کرنے لگا۔ رادھا سے بات کرنے کے بعد میں کوئی قدم اٹھانا چاہتا تھا۔ بارہ بجے کے قریب دیکھا صائمہ سو چکی تھی۔ میں دبے پاؤں کمرے سے باہر نکلا۔ لان میں آکر میں نے رادھا کو آواز دی۔

’’پریم! تم نے بلانے میں کتنا سمے لگا دیا۔ میں ہر روز اس آشا میں آتی تھی تم مجھے بلاؤ گے پرنتو تم تو شاید اپنی داسی کو بھول ہی گئے۔‘‘ وہ جھٹ میرے سامنے حاضر ہوگئی۔ نیلی ساڑھی میں اس کا تراشا ہوا بدن کچھ اور دلکش نظر آرہا تھا۔

’’میں نے تمہیں ایک کام کہا تھا اس کا کیا ہوا؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’شما چاہتی ہوں موہن! ابھی تک میں اس شکتی بارے جانکاری پراپت کرنے میں سپھل نہ ہو سکی‘‘ اسنے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔

’’کیا مطلب۔۔۔؟ یہ تم کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ میں حیران رہ گیا۔

’’موہن! میں نے بڑی اوشکتا کی پرنتو نہ جان سکی کہ وہ پاپی کون ہے؟ کوئی دوجی شکتی اس کی سہائتا کر رہی ہے۔ جس نے اس کے گرد کڑا پھیر لیا ہے تم جانتے ہو کڑا توڑنا میرے بس میں نہیں۔ پونتو میں اتنا جان گئی ہوں تمری پتنی کسی شکتی کے گھیرے میں ہے۔‘‘ اس نے کہا۔

’’میں سمجھا نہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’تمرے وچار کے انوسار(تمہارے خیال کے مطابق) تمری پتنی کو کوئی روگ (بیماری) لگ گیا ہے۔ پرنتو یہ روگ نہیں۔۔۔کسی شکتی نے اسے اپنے بس میں کرنے کے کارن سب کچھ کیا ہے‘‘

’’تمہارے کہنے کا مطلب ہے صائمہ کو نیند میں چلنے کی بیماری نہیں ہے‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔

’’ہاں موہن! یہی بات ہے‘‘ اس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔’’وہ کون ہے؟ یہ میں ابھی نہیں بتا سکتی‘‘ شرمندگی سے اس نے سر جھکا لیا۔

’’اب کیا ہوگا رادھا! میں تو سخت پریشان ہوں‘‘ میں نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔ مجھے یقین تھا رادھا اس مشکل کا حل ضرور تلاش کر لے گی لیکن اس نے بھی فی الحال مجبوری ظاہر کر دی تھی۔

’’تم چنتا نہ کرو موہن! میں ایک جاپ کر رہی ہوں زیادہ سمے نہیں لگے گا‘‘ اس نے مجھے تسلی دی۔

’’رادھا! صائمہ کی حالت دن بدن خراب ہوتی جا رہی ہے آج تو حد۔۔۔‘‘

’’میں جانتی ہوں تم اپنی پتنی کے کارن بہت دکھی ہو۔ میرا وشواس کرو میں جلد ہی اس پاپی کو ڈھونڈ نکالوں گی۔ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ تمری پتنی کس کارن ہارسنگھار کرکے بیٹھتی ہے۔ وہ یہاں آتا ہے پرنتو میں اسے دیکھنے میں سپھل نہ ہو سکی۔ کوئی شکتی میرے آڑے آجاتی ہے۔‘‘

’’کیا صائمہ مجھ سے جھوٹ بول رہی ہے؟‘‘ میں نے بے یقینی سے پوچھا۔

’’نہیں وہ کھد نہیں جانتی سب کچھ کیوں کرتی ہے؟ اس کے شریر کو کسی نے اپنے بس میں کر لیا ہے۔ پرنتو وہ اسے چھو نہیں سکتا اس کارن یہ ہے کہ تمری پتنی ہر سمے پوجا پاٹ(عبادت) میں مگن رہتی ہے جس کارن وہ پاپی اسے چھونے میں سپھل نہیں ہو پا رہا۔ پرنتو اس نے اس کاپربند کر لیا ہے۔ وہ تمری پتنی کو پوجا سے روکنے کے کارن جیادہ سمے اس کے شریر میں رہنے کا وچار کر رہا ہے۔‘‘ رادھا نے مجھے تفصیل بتائی۔

’’رادھا جلدی سے اس کا مشکل کا کوئی حل بتاؤ میں بہت پریشان ہوں‘‘ میں نے بے بسی سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔

’’پریم! تم چنتا مت کرو جب تک رادھا جیوت ہے تمری پتنی کو کوئی کشٹ نہیں دے سکتا‘‘ اس نے میرا ہاتھ تھپتھپایا۔ بے اختیار میرا دل بھر آیا۔

’’رادھا میں صائمہ کے بغیر جی نہ پاؤں گا۔‘‘ میری آواز بھرا گئی۔

’’کیا رادھا تمرے بن نہ جی پائے گی؟ تھوڑا سمے انتجار کر لو میں جس جاپ میں لگی ہوں مجھے وشواس ہے کہ میں اس میں سپھل ہو جاؤں گا پھر دیکھنا اس پاپی کا حشر بنستی سے بھی برا ہوگا۔ سنسار میں اسے میرے شراپ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا‘‘ وہ چکھ دیر خاموش رہی پھر جیسے اسے کچھ یاد آیا۔

’’موہن یدی وہ منش جس نے تمہیں کالی داس کے شراپ سے بچایا تھا تمری سہائتا کرنے پر مان جائے تو تمری پتنی کی سمسیا کھتم ہو جائے گی‘‘

’’کون۔۔۔ملنگ؟‘‘ میں نے چونک کر پوچھا۔

’’ہاں وہ بہت شکتی مان ہے کالی داس کی شکتی بھی اسکے آگے کچھ نہیں۔‘‘ رادھا نے مجھے بتایا۔

’’لیکن میں اسے کہاں تلاش کروں‘‘ میں نے بے بسی سے پوچھا تو اسکا جواب سن کر پھر چونک جانا پڑا۔(جاری ہے)

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر80 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : رادھا