شاہ سلمان کا کرونا متاثرہ کمپنیوں کے ملازمین کو مالی مد دینے کا حکم

  شاہ سلمان کا کرونا متاثرہ کمپنیوں کے ملازمین کو مالی مد دینے کا حکم

  

ریاض(این این آئی)خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے کرونا کی وباء سے متاثر ہونے والی پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیوں اور ان کے ملازمین کے تحفظ کے لیے حکومت کو مالی مدف فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق شاہ سلمان نے آئین کے آرٹیکل 8، 10 اور 14 پر عمل درآمد کرتے ہوئے نجی شعبے میں کام کرنے والے ملازمین کی ملازمتوں کے تحفظ کے لیے ان کی تنخواہوں کا 60 فی صد ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ سعودی عرب کے آئین کے تحت کسی بھی مشکل صورت حال میں حکومت پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین کی سوشل سیکیورٹی، انشورنس اور ان کی مالی مدد کی پابند ہے۔ اس سلسلے میں حکومت تین ماہ تک پرائیویٹ کمپنیوں کے ملازمین کی تنخواہوں کا 60 فی صد ادا کرے گی جس کی زیادہ سے زیادہ مالیت فی کس 9 ہزار ریال بنتی ہے جب کہ سعودی عرب میں اس مد میں 9 ارب اریال کی رقم فراہم کی جائے گی۔درایں اثنا سعودی عرب کے وزیر خزانہ اور سوشل سیکیورٹی فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین محمد بن عبداللہ الجدعان نے کہا کہ خادم الحرمین الشریفین کی طرف سے جاری کردہ حکم نامے کا مقصد کرونا وباء سے متاثر ہونے والی کمپنیوں اور ان کے ملازمین کی بحالی میں ان کی مدد کرنا ہے۔ حکومت نجی شعبے میں کام کرنے والے کمپنیوں کو ان کے ملازمین کے تحفظ کیلیے تین ماہ تک رقوم فراہم کرے گی تاکہ کرونا بحران کے خاتمے کے بعد یہ کمپنیاں کسی قسم کی مالی مشکلات کا سامنا نہ کریں اور اپنا کام جاری رکھ سکیں۔ اس طرح نہ صرف کمپنیوں پر کوئی نیا بوجھ نہیں پڑے گا اور ان کے ساتھ کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہیں بھی ادا کی جاسکیں گی اور انہیں بے روزگار ہونے سے بچایا جائے گا۔امدادی پیکیج کے تحت سعودی حکومت ایسی کمپنیوں کے تنخواہوں کے لیے 100 فی صد رقم فراہم کرے گی جہاں سعودی ملازمین کی تعداد پانچ یا اس سے کم ہے جب کہ اگر سعودی ملازمین کی تعداد پانچ سے زیادہ ہے تو ان کمپنیوں کو 70 فی صداخراجات فراہم کیے جائیں گے۔

اس عرصے کے دوران کوئی کمپنی اپنے ملازمین کو زبردستی کام نہیں کرائے گی۔خیال رہے کہ سعودی کابینہ نے 20 مارچ کو ہونے والے اجلاس میں چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں اور نجی شعبے میں کام کرنے والی فرموں اوران کے ملازمین کے تحفظ کیلئے 70 ارب ریال کے پیکیج کی منظوری دی تھی۔

مزید :

عالمی منظر -