شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 23

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ ...
شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 23

  

غروب سے ذرا قبل جنگلی مرغیوں کی کک کک اور تیتروں کی آوازوں نے ماحول کو نغمہ زار بنادیا۔ غروب ہوتے ہوئے سورج کی گلنار روشنی سے جنگل قرمزی رنگ میں ملبوس ہوگیا۔ سامنے پہاڑیوں کو بلند چوٹیوں پر اب بھی سنہری شعاعیں رقص کررہی تھیں اور ہوا کے اٹھکیلیاں کرتے ہوئے جھونکے طبیعت کو فرحت پہنچارہے تھے۔

اْ دھر خورشید جہاں تاب نے اپنا رخ چھپایا اور ادھر شب بیدار جانوروں اور پرندوں میں جان آگئی۔سب سے پہلے چمگا ڈر اور گیدڑ اپنے اپنے مقامات سے نکلتے ہیں۔مالوے کے ان جنگلوں میں بعض چمگاڈر بھی چیلوں کے برابر ہوتے ہیں،جن کو ممالک متوسط میں’’بڑباگل ‘‘کہا جاتا ہے۔۔۔یہ بڑباگلیں باغوں کو بہت نقصان پہنچاتی ہیں۔

رات کواندھیرے کا تسلط ہوجانے کے بعد ہم لوگ زیادہ محتاط ہوگئے۔ستاروں کے دھندلے اجالے میں بیس گز پر بندھے ہوئے کھلگے کا ہلکا سا خاکہ نظر آرہا تھا اور میں سوچ رہا تھا اگر ایسے میں شیر آبھی جا ئیں تو کوئی آواز یا آہٹ سنے بغیر ان کی آمد کا اندازہ مشکل ہوگا۔لیکن رات بڑھی تو ستاروں کی روشنی میں اضافہ ہوگیااور نظریں بھی ماحول کی عادی ہو گئیں۔

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 22 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

چند آوارہ گیدڑوں ،ایک دو چیتلوں اور ایک سانبھر کے سوا اس طرف صبح تک کوئی جانور گزرا نہ شیر وں کا ہی کوئی پتہ لگا۔صبح اچھی طرح روشنی ہوجانے اور گاوں والوں کے آجانے کے بعد ہم لوگ درخت سے اترے اور گاوں واپس آگئے۔تمام راستے میں شیر کے تازہ ماگھ ڈھونڈتا رہا،لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔

دوسری رات بھی اسی طرح گزری اور تیسری بھی۔۔۔دونوں بھینسے اپنی اپنی جگہ پر بندھے اطمینان سے چارہ کھاتے رہے۔میں ایک رات ایک مچان پر گزارتا اور دوسری دوسری مچان پر۔لیکن کسی طرف سے بھی کوئی شیر نہ گزرا۔۔۔چھٹی رات کومیں یہ فیصلہ کرکے بیٹھا کہ اگر اس رات بھی شیر نہ آئے تو یہ طریقہ تبدیل کردیا جائے گا۔اس رات مچان سے تقریباًایک میل کے فاصلے پر جدھر پہاڑوں کی گہری وادیاں تھیں۔دونوں شیروں کے دہاڑنے کی آواز آئی اور اس رات میں مجسم امیدبنا شیروں کے کھلگے تک آنے کا منتظر رہا۔لیکن شیر نہ آئے۔چونکہ میں نے اس رات شیروں کی آواز سنی تھی،اس لیے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے ساتویں رات پھر اسی مچان پر گزارنے کا ارادہ کیا۔۔۔اس وقت گرمی کافی تھی ،لیکن غروب سے ذرا قبل مغربی کھاٹ کی طرف سے ٹھنڈی ہوا چلنے لگی اور موسم خوشگوار ہوگیا۔اوراسی وقت میں نے ایک بہت ہی غیر معمولی اور نادر منظر بھی دیکھا۔۔۔۔

ایک چھدری جھاڑی میں ایک سانپ کی غضب ناک پھنکارکی آواز نے میری توجہ اپنی طرف منعطف کرلی۔

دوسرے ہی لمحے تقریباًچار فٹ لمبا ایک ناگ جھاڑی سے نکل کر سامنے آگیا۔ اس کا پھن اٹھا ہوا تھا۔زبان تیزی سے نکل رہی تھی اور پھنکارایسی غضب کی تھی بھینس بھی بدکنے لگا اس کے فوراًبعد ہی جھاڑی میں سے ایک موٹا تازہ نیولا نکلا اور سانپ کی زد سے بچ کر اس کے گرد چکر لگانے لگا۔سانپ کی یہ حالت تھی کہ جوشِ غضب میں مسلسل گھوم رہا تھا۔

دونوں ہی اپنے اپنے وار کے لیے موقع تلاش کر رہے تھے۔سانپ کی ہیئت اور خوفناک حالت کے پیشِ نظر میں تو سمجھاکہ نیولا اپنی جان گنوارہا ہے۔نیو لے کے چکر جاری رہے اور سانپ بھی اسی رفتار سے گھومتا رہا۔پہلے تو سانپ کا پھن زمین سے کوئی ڈیڑھ فٹ بلند تھا ۔پھر ایک فٹ رہ گیا اور جب کافی دیر گزر گئی تو شاید مشکل دس انچ اٹھا ہوا ہو۔سانپ تھکتا جا رہا تھا اور نیولے کی دوڑ اور چلت پھرت میں بظاہر کوئی کمی معلوم نہیں ہوتی تھی۔

پھر یکبا ر گی نیو لے نے ٹھہر کر اپنی دم آگے کی اور سانپ نے پو رے جوش و غضب سے وار کیا ،لیکن نیولے کی دم صاف ہٹ گئی ۔ سانپ کا منہ زمین پر پڑا ۔ساتھ ہی نیولا ا چھلا اور اس نے سانپ کا پھن پکڑنا چاہا،سانپ کی بھی جان پر بنی تھی ،اس نے تیزی سے پھن ہٹایا اور دوسرا وار کیا ۔نیولااس دفعہ بھی صاف بچ گیا ۔اس وقت سانپ نے پھن نیچاکیااور تیزی سے جھاڑی کی طرف بھاگا۔۔۔نیولا بھلاکب جانے دیتا تھا ۔لپک کر اس کی دم پکڑ لی۔سانپ بل کھا کر پلٹا اورنیولے پر وار کیا،لیکن نیولادم چھو ڑ کر الگ ہوگیا اور سانپ کا پھن زمین پر پڑا۔

اب تو نیولے نے باقاعدہ زیادتی شروع کر دی۔بار بار اس کی دم سامنے آتی اور سانپ شدید پھنکار کے ساتھ وار کرتا۔۔۔ایک دفعہ تو نیولا عین سانپ کی گردن کے نیچے سے بچ نکلا۔ایک بار سانپ کا وار بھی چل گیا ۔نیولے کی پشت پر اس نے پوری طاقت سے کاٹا ،مگرگھبرا کر منہ ہٹالیا ۔نیولے کے سخت اور نوکدار بال اس کے تالو او ر زبان میں چبھ گئے تھے سانپ زخمی ہو کر نڈھال ہو گیا تھا۔ تقریبا بیس منٹ کی اس خوفناک جنگ کے بعد اس کی یہ حالت ہو گئی کہ ،بے چارہ پھن اٹھا نے سے بھی معذور ہوگیا۔جب نیولا اس کے جسم پر کسی جگہ اپنے تیز دانت گاڑتا تو تکلیف سے بے چین ہو کر وہ زمین سے مشکل تین انچ اوپر پھن اٹھاتا اور بڑی کمزوری سے وار کرتا۔۔۔دو ایک منٹ بعد اس میں یہ طاقت بھی نہیں رہی اور نیولے نے لپک کر اس کی گر دن دبالی ۔سانپ دیر تک پھڑکتا اور بل کھاتا رہا ،لیکن نیولے نے گرفت ڈھیلی نہ کی اور ذرا دیر بعد سانپ کو گھسیٹ کرجھاڑی میں لے گیا ۔اس لڑائی کو دیکھ کر مجھے انسان کی حیوانی فطرت کا وہ پہلو نظر آگیا جو اپنے دشمن کو مارنے کے لئے اپناتا ہے۔(جاری ہے )

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ..۔ قسط 24 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -شیروں کا شکاری -