داعش نے اپنے ہی 38 کارکنوں کو تیزاب میں ڈبودیا، وجہ یہ نہیں کہ وہ بھاگ رہے تھے بلکہ۔۔۔

داعش نے اپنے ہی 38 کارکنوں کو تیزاب میں ڈبودیا، وجہ یہ نہیں کہ وہ بھاگ رہے تھے ...
داعش نے اپنے ہی 38 کارکنوں کو تیزاب میں ڈبودیا، وجہ یہ نہیں کہ وہ بھاگ رہے تھے بلکہ۔۔۔

  

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) شام و عراق میں برسرپیکار شدت پسند تنظیم داعش کے کمانڈروں نے اپنے ہی شدت پسندوں کو بڑی تعداد میں قتل کرنا شروع کر دیا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق کمانڈر اپنے ان شدت پسندوں کو امریکہ کے لیے جاسوسی کے شبے پرقتل کر رہے ہیں۔ اب تک درجنوں ایسے شدت پسندوں کو انتہائی اذیت ناک موت دی جا چکی ہے جن پر جاسوسی کا شبہ تھا۔ ان درجنوں افراد کو تیزاب میں ڈبو کر قتل کیا جا رہا ہے جس سے ان کا وجود ہی باقی نہیں رہتا بلکہ ان کا جسم اور ہڈیاں تک تیزاب میں گھل جاتی ہیں۔

عراقی فوج کے گھیرے میں پھنسی داعش نے شہریوں کو ’انسانی ڈھال ‘بنا لیا:اقوام متحدہ

رپورٹ کے مطابق اب تک داعش کے کئی سینئر کمانڈروں کو امریکی فوج ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بنا چکی ہے جن میں داعش کا ”وزیربرائے جنگی امور“عمر الشیشانی بھی شامل ہے اور داعش کو شبہ ہے کہ خود اسی کے شدت پسند امریکہ کو ان کمانڈروں کی موجودگی کی مخبری کر رہے ہیں۔مارچ میں داعش کا ایک اعلیٰ کمانڈرابوحیجاءالتیونسی(Abu Hayjaa al-Tunsi) شام کے شمالی علاقے میں سفر کر رہا تھا۔ اسے وہاں لڑنے والے شدت پسندوں کی قیادت کا حکم دیا گیا تھا۔ سفر کے دوران ڈرون طیارے نے اس کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس سے اس کی ہلاکت ہو گئی۔ اتنے بڑے کمانڈر کی ہلاکت پر داعش کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی اور اس نے اپنی صفوں میں موجوداس جاسوس کی تلاش شروع کر دی جس نے ممکنہ طور پر امریکی فوج کو بوحجاءکی جاسوسی کی تھی۔تب سے تنظیم ابوحیجا ءکی جاسوسی کے شبے میں اپنے 38سے زائد شدت پسندوں کو تیزاب کے ٹب میں دھکا دے کر ہلاک کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ ہلاک ہونے والے کئی اہم کمانڈروں کی مخبری کے شبے میں بھی درجنوں شدت پسندوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جن شدت پسندوں کے پاس موبائل فون اور انٹرنیٹ ہو ان پر زیادہ شک کیا جاتا ہے۔ تنظیم ان میںسے کئی شدت پسندوں کو سرعام بھی قتل کر چکی ہے تاکہ دوسرے لوگ ان سے عبرت حاصل کریں۔

مزید : بین الاقوامی