کلام اقبال (شرح بال جبریل)غزل نمبر: 6

کلام اقبال (شرح بال جبریل)غزل نمبر: 6
 کلام اقبال (شرح بال جبریل)غزل نمبر: 6

  

پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے

جو مشکل اب ہے یارب پھر وہی مشکل نہ بن جائے

نہ کر دیں مجھ کو مجبورِ نوا فردوس میں حوریں

مرا سوزِ دُروں پھر گرمی محفل نہ بن جائے

کبھی چھوڑی ہوئی منزل بھی یاد آتی ہے راہی کو

کھٹک سی ہے جو سینے میں غم منزل نہ بن جائے

بنایا عشق نے دریائے نا پیدا کراں مجھ کو

یہ میری خود نگہداری مرا ساحل نہ بن جائے

کہیں اس عالم بے رنگ و بو میں بھی طلب میری

وہی افسانہ دنبالۂ محمل نہ بن جائے

عروجِ آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں

کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہِ کامل نہ بن جائے

قرآن مجید میں انسانی زندگی کے حوالے سے تین مراحل کا تذکرہ موجود ہے۔ سب سے پہلے پیدائش یعنی تخلیق انسانی اور زندگی کا اختتام یعنی موت، تیسرے موت و حیات کا درمیانی عرصہ جسے عملی زندگی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

پہلے دو مراحل کے بارے میں قرآن نے کہا:

’’تَبٰرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ ز وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُنِ۔الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا‘‘(الملک،1,2/67)

’’برکت والی ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ساری بادشاہی ہے اور وہ ہر چیزپر قادر ہے۔ یعنی جس کا حکم ہر چیز پر چلتا ہے۔ اسی ذات نے موت کو، زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ آزمائے کہ کون شخص ہے جو اچھے عمل کرتا ہے۔‘‘

انسان کی تخلیق کن عناصر سے ہوئی اس بارے میں ارشاد فرمایا:

’’خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ‘‘(الرحمن، 14/55)

’’انسان کو ٹھیکری کی مانند کھنکتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا گیا۔‘‘

موت کے بارے میں قرآن نے کہا:

’’موت اور حیات کا درمیانی حصہ جسے ہم زندگی کہتے ہیں۔ یہ ایک امتحانی حصہ ہے جسے قرآن’’لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا‘‘(الملک، 2/67) سے تعبیر کرتا ہے تاکہ موت و حیات پیدا کرنے والی ذات تم کو آزما کر دیکھے کہ کون اچھے اعمال کرتا ہے۔ اسی آزمائش یعنی امتحان کے بارے میں مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:

’’زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّھَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَۃِ مِنَ الذَّھَبِ ‘‘(آل عمران،14/3 )

اس درمیانی عرصہ کو ہم نے خواہشات اور خواہشات کی تکمیل کے جذبے سے بھر دیا ہے۔ ان خواہشات کی تکمیل عورتوں کی طرف رغبت ، اولاد نرینہ کی خواہش اور کھنکتے روپے پیسوں مال و دولت کی طرف رغبت یعنی کثرت مال کے جذبے کو اپنی طرف لبھاتی ہے اور انسان ان چیزوں کے شوق میں مگن ہو جاتا ہے۔

قرآن مجید کے بیان کردہ مضامین کے تناظر میں علامہ نے اپنے خیالات کو مجتمع کر تے ہوئے فرمایا:

پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے

جو مشکل اب ہے یارب پھر وہی مشکل نہ بن جائے

پہلے مصرعہ میں تخلیق انسان اور پھر موت کی حقیقت کا تذکرہ ہے۔ حیاۃ اور موت کے درمیانے حصے کو جو عارضی ہے یعنی زندگی کو واضح کیا ہے۔میں انسان ہوں میری تخلیق مٹی سے ہوئی ہے۔ جب اسی مٹی کے ذرات بکھر جائیں گے تو میری موت واقع ہو جائے گی۔

موت و حیات کی درمیانی منزل کے اندر میں عارضی زندگی بسر کر رہا ہوں۔ اس عارضی زندگی کے حوالے سے قرآن نے سورہ آل عمران میں ذکر کیا جو اوپر درج ہے۔

شاعر کہتا ہے:

اگر مر جانے کے بعد میرے تخلیقی ذرات یعنی مٹی کے ہر ذرے میں میری کیفیت دل جیسی ہو گئی اور ہر ذرے میں دنیا کی طرح لذائذ ظاہری مجھے اپنی طرف ہی کھینچتے رہے تو پھر تو میں شہوات ہی میں گھرا رہوں گااور مجھے آزاد زندگی تو حاصل نہیں ہو سکے گی۔

اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے علامہ کہتے ہیں:

نہ کر دیں مجھ کو مجبورِ نوا فردوس میں حوریں

مرا سوزِ دُروں پھر گرمی محفل نہ بن جائے

کہ اسی شکل میں حسن ظاہری جو جنت میں حوروں کی صورت میں ہو گا تو میں تو پھر حسن ظاہری ہی کا شکار ہو کر رہ جاؤں گااور میری کیفیت پھر دنیا جیسی ہی ہو گی اور میرے اندر ظاہری حسن پرستی کی آگ بھڑک اٹھے گی اور میں حسن حقیقی یعنی لقائے ربی کی لذتوں سے محروم ہو جاؤں گا۔

تیسرے شعر میں اسی کیفیت کی مزید وضاحت ہے فرمایا:

کبھی چھوڑی ہوئی منزل بھی یاد آتی ہے راہی کو

کھٹک سی ہے جو سینے میں غم منزل نہ بن جائے

میں چونکہ جنت سے نکالا گیا ہوں ، میں کچھ عرصہ جنت میں رہ چکا ہوں اور منزل کی محبت انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اب دوبارہ جنت میں جاؤں تو مجھے میرا ماضی اور اس کی یاد ستانے لگ جائے اور اس طرح جنت کا مقام اور اس کی یاد میرے لیے ایک بت کی شکل اختیار نہ کر لے۔

جنت کی طلب ہی میرا مقصد عبادت اور مقصد زندگی بن کر رہ جائے بلکہ ایک مومن بندہ کے لیے اصل مقصد تو حصول رضائے الہٰی ہوتا ہے۔ وہ جنت کی طلب اور دوزخ کے بچاؤ کے لیے عبادت نہیں کرتا بلکہ اس کا مقصد حصول رضائے الہٰی ہوتا ہے۔

علامہ چوتھے شعر میں کہتے ہیں:

بنایا عشق نے دریائے ناپیدا کراں مجھ کو

یہ میری خودنگہداری مرا ساحل نہ بن جائے

بہت سے شارحین اقبال نے لفظ عشق سے اس شعر کے عجیب معانی مراد لیے ہیں۔ ظاہری الفاظ سے معنی یہ بنتے ہیں کہ میرے اندر جذبہ عشق سمایا ہواہے اور عشق کی خاصیت یہ ہے کہ وہ عاشق کے اندر معشوق کی سی وسعت پیدا کر دیتا ہے۔ یہ وسعت انسان کی طبیعت کا خاصا بن کر عاشق کو بے کراں کر دیتی ہے اور انسان کسی طور خود ساختہ حد بندیوں میں نہیں سماتا۔

شارحین کے اخذ کردہ مطالب اپنی جگہ مقام رکھتے ہیں لیکن ہمارے نزدیک اس شعر میں اشارہ قرآن مجید کی سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 138کی طرف ہے جس میں یہودیوں کی ایک غلط رسم کی مذمت ہے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں:

’’ صِبْغَۃَ اللّٰہِ ج وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃً ز وَّنَحْنُ لَہٗ عٰبِدُوْنَ‘‘(البقرۃ، 138/2)

’’کہو اللہ کا رنگ اختیارکرو، اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہو گا اور ہم اسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں۔‘‘

اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے ایک مفسر لکھتے ہیں:

’’مسیحیت کے ظہور سے پہلے یہودیوں کے ہاں یہ رسم تھی کہ جو شخص ان کے مذہب میں داخل ہوتا اسے غسل دیتے تھے اور اس غسل کے معنی ان کے ہاں یہ تھے کہ گویا اس کے گناہ دھل گئے اور اس نے زندگی کا ایک نیا رنگ اختیار کر لیا۔ یہی چیز بعد میں مسیحیوں نے اختیار کر لی۔ اس کا اصطلاحی نام ان کے ہاں اصطباغ (بپتسمہ) ہے اور یہ اصطباغ نہ صرف ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو ان کے مذہب میں داخل ہوتا ہے بلکہ بچوں کو بھی دیا جاتا ہے۔‘‘

اسی کے متعلق قرآن کہتا ہے :

’’اس رسمی اصطباغ میں کیا رکھا ہے، اللہ کا رنگ اختیار کرو جو کسی پانی سے نہیں چڑھتا بلکہ اس کی بندگی اختیار کرنے سے چڑھتا ہے۔‘‘

قرآن کی منشاء یہ ہے کہ کسی خاص رنگ کو مقدس خیال کرنا اور اسی رنگ کے کپڑے استعمال کرنا کمال کی بات نہیں، اصل بات یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی اللہ کے رنگ میں رنگ لے، یہی کمال بندگی ہے۔

مسیحیت کی دیکھا دیکھی یہ چیز تصوف ہی کے نام سے مسلمانوں کے بعض فرقوں میں در آئی جس کے نظائر مسلمانوں کے بعض گروہوں سے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اسی غلط روش کو وہ لوگ عشق کا نام دیتے ہیں۔ جبکہ اصل عشق تو یہ ہے کہ انسان اللہ کی ذات میں کھو جائے اور اللہ کی اتباع کرتے کرتے اللہ ہی کا ہو رہے۔

یہ چیز انسان کو بے کراں بناتی ہے، لیکن اگر رنگ پرستی غالب آ جائے اور یہی رنگ پرستی خود نگہداری یعنی خود پسندی کا روپ دھار لے تو یہ عقل ہی ساحل بن جائے گا اور اس طرح ناپیداکناری کی صورت متاثر ہو جائے گی۔ اسی لئے علامہ کہتے ہیں کہ میری خود نگہداری مرا ساحل نہ بن جائے۔

پانچویں شعر میں علامہ فرماتے ہیں:

کہیں اس عالم بے رنگ و بو میں بھی طلب میری

وہی افسانہ دنبالۂ محمل نہ بن جائے

شارحین کلام اقبال کے نزدیک افسانہ دنبالۂ اور محمل تلمیحات ہیں جس میں مجنون جو لیلیٰ سے محبت کرتا تھا۔ اس نے اپنا ایک قاصد اپنی محبوبہ لیلیٰ کی طرف بھیجا اور اس کو پیغامات بھیجے تو چونکہ وہ قاصد محبوبہ کے پاس جا رہا تھا تو مجنون پر دارفتگی کا عالم طاری ہو گیا اور وہ قاصد کے ساتھ دو رتک شوق ہی شوق میں اس کی سواری کے ساتھ چلتا رہا۔

علامہ کہتے ہیں کہ کہیں مجھ پر وفات کے بعد عالم بے رنگ و بو یعنی دوسرے جہان میں بھی یہی دارفتگی کی کیفیت طاری نہ ہو جائے۔ ہمارے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ چونکہ اِس عالم فانی میں رہتے ہوئے میری حالت دنیا طلبی اس درجہ آگے بڑھ چکی ہے کہ میں یہاں کے لذائذ میں بہت زیادہ منہمک ہو چکا ہوں لیکن دوسرے عالم میں بھی میرا یہی حال مجھ پر غالب نہ آ جائے اور اُخروی لذتوں سے بے پرواہ ہو جاؤں اور دنیا طلبی کی کیفیت مجھے اُخروی لذتوں سے محروم نہ کر دے۔

چھٹے شعر میں علامہ فرماتے ہیں:

عروجِ آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں

کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہِ کامل نہ بن جائے

خاک کا پتلا یعنی آدم اور اولاد آدم کو اللہ نے جنت سے نکال دیا تھا اور یہ زمین پر آ گیا اور اب جنت سے نکالا گیا انسان پھر دوبارہ اللہ کا قرب حاصل کر کے اس کی محبوب ترین مخلوق نہ بن جائے۔

حدیث شریف میں آتا ہے کہ لیلۃ القدر کے موقعہ پر۔۔۔ ’’تَنَزَّلُ الْمَلآءِکَۃُ وَالرُّوْحُ فِیْھَا بِاِذْنِ رَبِّھِمْ‘‘(القدر، 5/97)فرشتے مع جبرائیل امین آسمان سے زمین پر نزول کرتے ہیں اور ہر اس بندے کا اکرام اور عزت کرتے ہیں جو اس رات میں اپنے رب کے حضور کھڑے بیٹھے عبادت میں مصروف ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کو دکھاتا ہے کہ یہ ہیں میرے بندے جن کی تخلیق کے وقت تم نے اعتراض کیا تھا کہ اس انسان کو دیکھو کہ تم کہتے تھے کہ یہ زمین میں شورش برپا کر دے گا، خون ریزی کرے گا، آج دیکھوکس طرح میری عبادت میں مصروف ہے۔

یہی بات فرشتوں کو پریشان کرتی ہے کہ یہ انسان اپنی اس حالت کی وجہ سے اللہ کا مقرب ترین بندہ نہ بن جائے۔ اسی خوف میں فرشتے اور دیگر مخلوق پر سہم سوار ہے۔ کہ یہ ٹوٹا تارہ پھر وہی مقام حاصل نہ کر لے۔

مزید :

کالم -