تحصیل شاہ بندر میں لاکھوں من گنا سوکھنے لگا،شوگر ملزمافیا نے حکومتی نرخ مسترد کر دیئے

تحصیل شاہ بندر میں لاکھوں من گنا سوکھنے لگا،شوگر ملزمافیا نے حکومتی نرخ ...

کراچی (خصوصی رپورٹ )تحصیل شاہ بندر میں لاکھوں من گنا سوکھنے لگا،شوگر ملز مافیا نے حکومتی گنے کے نرخ مسترد کردیئے۔مل مالکان نے شاہ بندر کے کاشتکا روں کی10کروڑ سے زائد کی بقایاجات بھی ادا نہیں کیئے۔ضلع کی تین میں سے ایک شوگرمل تاحال بندہے۔کاشتکاروں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعظم سے فوری طور پر گنے کا مقرر کیا گیا سرکاری ریٹ دلوانے میں مدد کرنے کا مطالبہ کیاہے۔تفصیلات کے مطابق سندھ میں ہرسال کی طرح شوگرمل مالکان اور کاشتکاروں کے مابین گنے کے نرخ کا تنازعہ جاری ہے،اس دفعہ بھی لاکھوں ایکڑز پر کروڑوں من گنا کاشت کیا گیا ہے،ریٹ کے تنازعے کے باعث گنے کی کٹائی احتجاجاً بند کی ہوئی ہے، جس کے سبب گنا کمزور اور خشک ہونے لگا ہے جبکہ سجاول ضلع کی تحصیل شاہ بندر میں بھی کاشتکاروں نے ہزاروں ایکڑز اراضی پر گنا کاشت کیا ،جو بھی مل مالکان کی طرف سے فی من 182 روپے ریٹ مقرر کیے جانے کے باوجود سرکاری نرخ دینے سے انکار کردیا ہے۔اب ملرز نے 130/140 روپے فی من پر خریداری شروع کردی ہے ۔اسی تنازعے کے پس منظر میں چوہڑ جمالی اور شاہ بندر کے گنے کے کاشتکاروں نے بھی گنے کی کٹائی احتجاجاً بند کر رکھی ہے۔دوسری جانب آبادگار رہنماؤں نے کہا کہ گذشتہ سال کے بقایا جات جو دس کروڑ سے تجاوز ہیں ابھی تک نہیں ملے اور گنے کا سندھ حکومت کی طرف سے 182 روپیفی من کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیاگیا ہے۔اس پر عمل نہیں ہوپایا ۔کاشتکاروں سے بہت بڑی زیادتی کی جارہی ہیں۔حکومتی رٹ ناکام ہونے کے باعث 130 اور 140 فی من گنا خریدا جارہا ہے.جس سے کاشتکاروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوگا ، کاشتکار طبقے سے ہر بار اسی ہی طرح زیادتیاں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اور وزیر اعظم سے فوری طور پر نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ حکومتی رٹ کو بحال کرواتے ہوئے کاشتکاروں کو گنے کا مقرر کیا گیا سرکاری ریٹ دلوانے میں مدد کریں۔دوسری جانب سجاول ضلع کی 3 شوگرملز میں سے اومنی گروپ کی لاڑ شوگرمل سجاول تاحال بند ہے اس کے علاوہ دیوان شوگرمل اور شاہ مراد شوگرملز نے بوائلر جلاکر کریشنگ کا تو آغاز کردیا ہے مگر ریٹ کا معاملہ حل نہ ہونے کے باعث ملیں نوکین کاشکار ہوگئی ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر