چین دوران امتحان نقل روکنے کے لئے ڈورون استعمال کرے گا

چین دوران امتحان نقل روکنے کے لئے ڈورون استعمال کرے گا

  



بیجنگ (نیوز ڈیسک) طلبا میں نقل کا رجحان کم کرنے کے لئے تعلیمی حکام کی کوششیں کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن چینی حکومت نے نقل کے خلاف جو ایکشن لیا ہے اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔چینی یونیورسٹیوں میں داخلے کے لئے ایک خصوصی ٹیسٹ لیاجاتا ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ اسے پاس کرنا انتہائی مشکل ہے جس کی وجہ سے طلبا نقل اور دیگر ممنوعہ ذرائع کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ اس ٹیسٹ میں ہر سال تقریباً 90 لاکھ طلبا شرکت کرتے ہیں اور اتنی بڑی تعداد کی نگرانی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ چینی وزارت تعلیم نے اس مسئلے کے حل کے لئے ڈرون ٹیکنالوجی کا سہارا لے لیا ہے اور اب امتحان میں شامل طلبا کے سر کے اوپر خاموشی سے پرواز کرنے والے ڈرون منڈلاتے ہیں جو تقریباً 1700 فٹ کی بلندی سے نہ صرف طلبا کی بہترین نگرانی کرسکتے ہیں بلکہ نقل کے لئے استعمال ہونے والے الیکٹرانک آلات کو بھی پکڑسکتے ہیں۔ مقامی اخبار ’’پیپلز ڈیلی‘‘ کا کہنا ہے کہ ماضی میں طلبا ایسے قلم استعمال کرتے ہوئے پائے گئے ہیں جن میں لگا کیمرہ سوالات کی تصویر بنالیا ہے اور اسے وائرلیس طریقے سے کسی دوسری جگہ منتقل کردیتا ہے جہاں سے وائرلیس آلات کے ذریعے طلبا کے کان میں لگے سپیکر میں جواب نشر کئے جاتے ہیں۔ ڈرون ٹیکنالوجی ریڈیائی لہروں کا سراغ لگا کر نقل کے اس طریقے کا بھی خاتمہ کرے گی۔ چینی وزارت تعلیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں میں نشستوں کی کم تعداد اور اس کے مقابلے میں امیدواروں کی بہت بڑی تعداد کے پیش نظر طلبا اور ان کے والدین پر شدید دباؤ ہے جسے کم کرنے کے لئے ضروری اقدامات کئے جارہے ہیں۔

مزید : علاقائی