سیرت رحمت عالم ﷺ (2)

سیرت رحمت عالم ﷺ (2)
 سیرت رحمت عالم ﷺ (2)

  

صاحب کتاب نے بیان کردہ روایات کو جمع کرنے میں بڑی دقت نظر سے کام لیا ہے۔ وہ اہل صفہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اہل صفہ کے بارے میں سب سے پہلے لکھنے والے محمد بن سعد المتوفی 230 ؁ ھ ہیں۔انہوں نے جوکچھ بیان کیا ہے وہ واقدی سے لیا ہے۔ لیکن واقدی کی کتاب مغازی میں یہ نصوص موجود نہیں ہیں۔ ان کے مطابق شاید یہ معلومات ان کی دوسری کتاب طبقات سے لی گئی ہوں جبکہ وہ کتاب نایاب ہے۔

اسی طرح کی مثال میثاق مدینہ کے حوالے سے بھی ملاحظہ کی جا سکتی ہے جس سے مؤلف کی دقت نظر کا اندازہ ہوتا ہے جو انہوں نے کسی بھی تحریر کی صحت اور عدم صحت کے بارے میں اختیار کیں۔

وثائق کے بارے میں صاحب کتاب نے لکھا ہے کہ یہ دو وثیقہ جات تھے۔ ایک وہ جو یہودیوں کے ساتھ ہوا، یہ معاہدہ بدر اولیٰ سے پہلے مدینہ منورہ میں تشریف آوری کے وقت لکھا گیا۔ دوسرا مہاجرین و انصار کے ساتھ ہوایہ بدر کے بعد لکھا گیا۔ صاحب کتاب کے مطابق مؤرخین نے دونوں معاہدات کو یکجا کر دیاہے۔

تیسری فصل کا عنوان ’’مشرکین کے خلاف جہاد‘‘ ہے۔

اس کے آغاز میں جہاد کے احکام کا تذکرہ ہے۔ اس ضمن میں صاحب کتاب فرماتے ہیں کہ: ’’سب سے پہلے مستشرقین نے اپنی تحریروں میں جہاد کے خلاف غلط بیانی سے کام لیا اور حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔‘‘

قلم و قرطاس کے واقعے کو بعض لوگوں نے غیر معمولی اہمیت دی ہے اور اسی وجہ سے مسلمانوں میں آج تک فرقہ بندی ہے۔صاحب کتاب نے اس واقعہ کو غیر معمولی نہیں بلکہ معمولی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق رسول اللہﷺ نے اپنی وفات سے چار روز قبل قلم اور کاغذ طلب فرمایا لیکن اس وقت بیماری کا حملہ شدید تھا۔ اس لیے صحابہ میں دو طبقے ہو گئے ایک طبقے کا خیال تھا کہ اب رسول اللہﷺ کو تکلیف نہیں دینی چاہیے۔ یہ رائے غالب آئی۔ صاحب کتاب کا کہنا ہے کہ کاغذ قلم منگوانے کا معاملہ اتنا اہم اگر ہوتا تو آپ چار روز میں دوبارہ بھی منگوا سکتے تھے۔ لیکن آپ کا پھر مطالبہ نہ کرنا اس بات کو معمولی قرار دینے کے لیے کافی ہے۔

چوتھی فصل کا عنوان رسالت اور رسولﷺ ہے۔آخری باب میں صاحب کتاب نے دو باتوں کی خاص طور پر وضاحت کی ہے۔ ایک بشریت رسول اور الوہیت رب۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دونوں میں انسانوں کو فرق رکھنا چاہیے۔ (ایسا محسوس ہوتا ہے) دوسری اہم ترین بات انہوں نے ختم نبوت اور رسالت اسلامی کا عموم کہ صاحب کتاب نے یہ دونوں باتیں برصغیر پاک و ہند کے تناظر میں لکھی ہیں۔

اوّل الذکر مسئلے کے حوالے سے برصغیرمیں دو مضبوط نظریات نے جنم لیا اور مضبوط دھڑے قائم ہوئے۔ جن میں خلیج بڑھتی ہی جا رہی ہے جبکہ مؤخر الذکر نے تو گمراہی کے دریچے کو وا کیا جس کی بیخ کنی میں کم و بیش ایک صدی درکار ہوئی۔بالآ خر یہ معرکہ سر ہوا۔ 1974 ؁ء میں اس طبقے کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ دیگر اسلامی ممالک میں بھی اس کی بازگشت سنائی دی گئی اور اوّل الذکر کے بارے میں وہ لکھتے ہیں: ’’بلاشبہ انبیاء علیہ السلام انسانوں میں سب سے زیادہ الوہیت کی حقیقت اور معبود حقیقی کی عبادت کے استحقاق کی معرفت کا شعور رکھنے والے ہوتے ہیں اور وہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی الہٰی کے علم کے لیے مختص کیا ہوتاہے چنانچہ وہ اس فرق سے بخوبی واقف ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے حق کیا ہے۔لہٰذا قرآن کریم نے انبیاء علیہ السلام کو منع فرمایا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی بجائے لوگوں کو اپنی عبادت کی طرف متوجہ کریں۔انہوں نے استشھاد میں قرآن کی اس آیت کو پیش کیا:

’’مَاکَانَ لِبَشَرٍاَنْ یُّؤْتِیَہُ اللّٰہُ الْکِتٰبَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ کُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلٰکِنْ کُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا کُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْکِتٰبَ وَبِمَا کُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ‘‘(آل عمران: 79)

اس ضمن میں صاحب کتاب یہ بھی لکھتے ہیں کہ: ’’اسلام کی طویل تاریخ میں نبی کی حقیقت کے بارے میں کبھی کوئی ابہام پیدا نہیں ہوا جبکہ نصرانیت کی تاریخ میں المسیح کی حقیقت کا مقدمہ کھڑا ہوا کہ کیا وہ الوہیت ہیں یا بشریت یا دونوں کا مجموعہ ہیں۔(8)

یہاں اس بات کا تذکرہ ہرگز غیر ضروری نہیں کہ بعض مقامات پر مترجم نے عجمی الفاظ خصوصاً ہندی الفاظ کواستعمال کیا ہے جن کا مطالعہ کرتے ہوئے قاری کو تھوڑی دقت محسوس ہوتی ہے۔ مثلاً

وہ امام بخاری کی نسبت اپنی کتاب کی توضیحات کے مطابق روایت کو تقسیم کرنے کی طرف دھیان کم دیتے ہیں۔ یہاں لفظ دھیان کی بجائے توجہ استعمال کیا جاتا تو زیادہ بہتر تھا۔ اس قسم کی مثالیں چند اور مقامات پر بھی ملتی ہیں۔

بہر حال ’’السیرۃ النبویۃالصحیحہ‘‘سیرۃ پر لکھی انتہائی اہم دستاویز کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کا اُردو ترجمہ سلیس اور بامحاورہ ہے۔ جو عربی سے نابلد حضرات کے لیے انتہائی اہم ہے۔اور عربی عبارت کی تفہیم میں بہت ممدو معاون ہے۔ ہماری دانست میں کتاب ’’السیرۃ النبویۃالصحیحہ‘‘ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کے لیے مالا بدمنہ کا درجہ رکھتی ہے۔اللہ تعالیٰ کتاب کے مؤلف اور مترجم دونوں کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ان کی مساعی کو شرف قبول عطا کرے۔(ختم شد)

مزید :

کالم -