قادیانیوں کو غیر مسلم کیوں قرار دیا گیا؟

قادیانیوں کو غیر مسلم کیوں قرار دیا گیا؟
 قادیانیوں کو غیر مسلم کیوں قرار دیا گیا؟

  

ہمارے جلیل القدر پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری رسولؐ اور نبیؐ ہیں۔ انگریزوں کے خود کاشتہ پودے مرزا غلام احمد قادیانی نے جب قرآن مجید کے احکامات اور رسولِ کریمؐ کی تعلیمات اور اعتقادات سے بغاوت کرتے ہوئے اپنے نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر دیا تو پھر مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیرو کاروں کے کافر ہونے میں کوئی شک و شبہ باقی رہ ہی نہیں جاتا۔ پیغمبرِ اعظمؐ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد آنے والے کسی بھی مدعئ نبوت کو دجال (سب سے بڑا دھوکہ باز) اور کذاب قرار دیا ہے۔ جس لمحے مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے جھوٹے دعویٰ نبوت کا اعلان کیا۔ اسی لمحے وہ نبی پاک ؐ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ کے مطابق دجالوں اور کذابوں کی صف میں شامل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ انعام میں فرمایا ہے کہ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹی تہمت باندھے یا کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے، حالانکہ اس پر کوئی وحی نازل نہ کی گئی ہو۔‘‘ وحی کا سلسلہ چونکہ اللہ کے آخری نبیؐ پر ختم ہو چکا اس لئے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت کر کے اللہ پر جھوٹی تہمت باندھنے کی ناپاک جسارت کی ہے۔

مرزا قادیانی نے نہ صرف نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا بلکہ اللہ کے پیارے نبیوں کی توہین کرنے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے صاحب شریعت نبی تھے۔ مرزا قادیانی جب اپنے مسیح موعود ہونے کا جھوٹا اعلان کرتا ہے جو ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کر دیتا ہے کہ ’’وہ پہلے مسیح سے شان میں بہت بڑھ کر ہے۔‘‘ ایک جھوٹا مدعی نبوت اور اس کا یہ دعویٰ کہ وہ اللہ کے ایک سچے نبی سے ہر اعتبار سے بڑھ کر ہے۔ اس سے بڑا کفر اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد مردود و ملعون مرزا قادیانی کفر کی تمام حدود کو عبور کرتے ہوئے خود کو آنحضرتؐ کا وجود قرار دے دیتا ہے اور یہاں تک لکھنے کی جسارت کرتا ہے کہ ’’میری نبوت سے خاتم النبین کی مُہر نہیں ٹوٹی کیوں کہ محمدؐ کی نبوت محمدؐ تک ہی محدود رہی۔‘‘ یقیناً مسلمانوں کے دل مرزا قادیانی کی یہ تحریر پڑھ کر پھٹ جائیں گے لیکن بتانا یہ مقصود ہے کہ مرزا قادیانی کس درجے کا ملعون اور گستاخِ رسولؐ تھا کہ اس کا قلم یہ جھوٹ لکھتے ہوئے بھی نہیں لڑکھڑایا کہ اس کی نبوت میں نبوتِ محمدیہؐ کے تمام کمالات شامل ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی ایسی ہی ناپاک اور گستاخانہ تحریروں کے مطالعہ کے بعد ایک قادیانی شاعر ظہور الدین اکمل نے درج ذیل اشعار کہے۔ ایسی خرافات، بیہودگی، بکواس اور فضول گوئی کی امید ایک قادیانی شاعر سے ہی کی جا سکتی ہے۔

محمدؐ پھر اتر آئے ہیں ہم میں

اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں

محمدؐ دیکھنے ہوں جس نے اکمل

غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

یہ بیہودہ ترین اشعار مرزا قادیانی کی زندگی میں قادیانیوں کے ایک اخبار ’’بدر‘‘ میں 25 اکتوبر 1906ء کو شائع ہوئے اور ملعون و مردود مرزا قادیانی نے یہ اشعار سن کر قادیانی شاعر کو جزاک اللہ کہہ کر داد دی۔ جس کا مطلب ہے کہ اللہ تمہیں اس نیکی کا اجر عطاء فرمائے۔ ہمارا یقین ہے کہ اس قادیانی شاعر اور خود غلام احمد قادیانی کو اس انتہا درجے کی گستاخئ رسولؐ کا صلہ دوزخ کی آگ کی صورت میں ضرور ملے گا جب پارلیمینٹ نے ستمبر 1974ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا تو قومی اسمبلی میں وہ تمام حوالے اور بالخصوص رسول کریمؐ کی شان میں گستاخی پر مبنی یہ اشعار بھی قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو دکھائے گئے تھے۔ مرزا ناصر ان حوالوں کی تردید میں ناکام رہے تھے اور یہ ثابت ہو گیا تھا کہ قادیانی ایک ایسے شخص کو مسیح موعود مانتے ہیں جو خود کو آنحضرتؐ سے افضل قرار دے کر بدترین کفر کا مرتکب ہوا تھا۔ علامہ اقبال نے بھی ایک موقع پرفرمایا تھا کہ قادیانیت کا مکروہ چہرہ ان پر اس وقت پوری طرح بے نقاب ہوا جب ایک قادیانی کی زبان سے مَیں (علامہ اقبال) نے خود حضور نبی کریمؐ کی شان میں نازیبا کلمات سنے۔ علامہ اقبال نے پنڈت نہروکے نام اپنے خط میں قادیانیوں کو اگر اسلام کا غدار قرار دیا تھا تو وہ بلا جواز نہیں تھا، کیونکہ علامہ اقبال کو یہ حقیقت معلوم تھی کہ قادیانی گروہ بطور جماعت شاتمانِ رسولؐ ہیں۔ جو شخص بھی مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے دعوئ نبوت کو اپنی دانست کے مطابق درست تسلیم کرکے مرزا قادیانی کو اپنا مسیح موعود مان لیتا ہے اس کو مرزا قادیانی کی تمام خرافات پر سو فیصد ’’ایمان‘‘ لانا ہوگا۔

طرفہ تماشا یہ ہے کہ جو شخص بھی مرزا قادیانی کے باطل دعوؤں کی تکذیب کرتا ہے (اور ظاہر ہے پورا عالمِ اسلام ہی مرزا قادیانی کو نبوت کا جھوٹا مدعی قرار دیتا ہے۔) قادیانی اسے دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔ اب سیدھی سی بات ہے کہ ایک باطل گروہ جس نے خود اسلام کو چھوڑا۔ قرآن، احادیثِ نبویؐ اور اجماعِ امت کے اعتقادات سے بغاوت کی اور ایک جھوٹے مدعی ء نبوت سے اپنا رشتہ جوڑ لیا اس کا ملت اسلامیہ سے کوئی تعلق باقی رہ ہی کیسے سکتا ہے؟ قادیانیوں نے خود پر کفر کا فتویٰ لگنے سے پہلے ہی ملت اسلامیہ سے اپنا تعلق توڑ لیا تھا اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے دعویٰ ء نبوت کے بعد بھی ہم اسے کذاب و مفتری اور دائرۂ اسلام سے خارج نہیں سمجھتے تو پھر اسلام کے ساتھ ہمارا رشتہ باقی نہیں رہتا۔مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود کہنے والوں اور مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر قرار دینے والوں کا ایک جماعت سے تعلق کیسے ہو سکتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیرو کاروں کی جہالت، گمراہی اور ہٹ دھرمی دیکھئے کہ انہوں نے اپنے مخالفین یعنی پوری دنیا کے مسلمانوں کو عیسائی، یہودی، مشرک اور جہنمی تک کہا لیکن جب ان کے بدترین کفر کو پیش نظر رکھ کر قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے آئینی طور پر بھی خارج قرار دے دیا تو قادیانی جماعت کی طرف سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ انہیں کافر قرار کیوں دیا گیا۔

حیرت کی بات ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے بیٹے مرزا بشیر الدین کی کتابوں میں تو مسلمانوں کے لئے کافر بلکہ پکے کافر اور خارج از اسلام کے الفاظ استعمال کئے گئے کیونکہ جمہور مسلمانوں نے مرزا قادیانی کے جھوٹے دعوؤں کو تسلیم نہیں کیا تھا، لیکن جب پوری ملت اسلامیہ اور پاکستان کی پارلیمنٹ قادیانیوں کو متفقہ طور پر اسلام سے خارج قرار ددیتی ہے تو پھر وہ بلاجواز اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ اسلامی وحدت کے بارے میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ وحدت عقیدۂ ختم نبوت ہی سے استوار ہوتی اور قائم رہ سکتی ہے۔ ملت اسلامیہ کی وحدت کو توڑنے کے لئے ہی تو انگریزوں کی سازش کی بنیاد پر مرزا قادیانی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ ملت اسلامیہ کو کسی ایسے گروہ سے کیا ہمدردی ہو سکتی ہے جو اسلامی وحدت کا دشمن ہے اور اسلام سے غداری کا مرتکب ہو کر نبوت کے ایک جھوٹے مدعی کو اپنا پیشوا بنا لیتا ہے۔ وہ گروہ جواسلام کی روح، مقاصد اور تعلیمات کا باطنی طور پر دشمن ہو اور ظاہری طور پر یہ کہتا ہو کہ ہم نماز بھی پڑھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں اور کلمہ گو بھی ہیں۔ ایسا گروہ یا جماعت اسلام کے لئے اس کے کھلے باغیوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ مختصر یہ کہ ایک جھوٹا مدعی نبوت اورپھر اس کی یہ ناپاک جسارت کہ بانی ء اسلام حضرت محمدﷺ سے بھی برتری کا دعوئ اور پھر تمام مسلمانوں کو کافر قرار دینا۔ ایسے شخص کے ساتھ مسلمان قوم نفرت اور بیزاری کا اظہار نہیں کرے گی تو اورکیا کرے گی۔

قادیانی گروہ کو خود سوچنا چاہیے کہ ان کے ایمان پر ڈاکا ڈالنے والا مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ اول تو حضور نبی ء کریمﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنا ہی مرزا قادیانی کے کاذب اور اسلام دشمن ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ پھر ایک ایسا مکروہ شخص جس کی اپنی تحریریں اس کو بدترین گستاخ ثابت کر دیتی ہیں۔ کیا ایسا شخص مامور من اللہ ہو سکتا ہے؟ قادیانی یہ فیصلہ بھی خود ہی کر لیں کہ محمدؐ رسول اللہ کا منکر اگر کافر ہے تو محمدؐ رسول اللہ کا گستاخ کیا بدترین کافر نہیں ہوگا؟ محمدؐ رسول اللہ کا گستاخ کافر بھی ہے اور واجب القتل بھی۔ مسیلمہ کذاب اور کذاب قادیانی کی کفر کی ڈگری میں کوئی فرق نہیں۔ علامہ اقبال کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’کوئی شخص اگر بعد از اسلام یہ دعویٰ کرے کہ مجھ میں نبوت کے ہر دو اجزاء موجود ہیں یعنی یہ کہ مجھے الہام ہوتا ہے اور میری جماعت میں شامل نہ ہونے والا کافر ہے تو وہ شخص کاذب اور واجب القتل ہے۔ مسیلمہ کذاب کو اسی بناء پر قتل کیا گیا تھا‘‘۔

جو شخص ختم نبوت کا انکار کرکے نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ ایسے کاذب اور واجب القتل شخص کو اپنا مسیح موعود قرار دینے والا کافر قرار کیوں نہیں پائے گا۔ 7ستمبر 1974ء کو جب پاکستان کی پارلیمنٹ نے قادیانی گروہ کو کافر قرار دیا تو پارلیمنٹ کے پیش نظر قرآن اور احادیث کے احکامات بھی تھے، امتِ اسلامیہ کا اجماع بھی تھا اور قادیانی جماعت کے باطل عقائد بھی تھے۔ قادیانیت کا وجود ہی حضور نبی کریمؐ کی ختم المرسلینی اور کاملیت اسلام کے قطعاً منافی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت کا مطلب یہ تھا کہ دین اسلام مکمل نہیں ہے۔ گویا مرزا قادیانی نے قرآن کو جھٹلا دیا۔ کیا ملت اسلامیہ کو اس کے بعد بھی قادیانیوں کو خارج از اسلام قرار دینے کا حق حاصل نہیں تھا۔ جب اسلام ہر اعتبار سے ایک مکمل دین ہے اور محمدﷺ کے بعد وحی کا سلسلہ ہی ختم ہے تو جو بھی ان حدود سے باہر نکلے گا وہ اسلام سے بغاوت اور غداری کا مرتکب ہوگا۔ یہی وہ حقائق تھے جو پاکستان کی قومی اسمبلی میں قادیانیوں کی شکست اور اسلام کی فتح کا سبب بنے اور قادیانیوں کو آئینی طور بھی غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ قرآن و احادیث کی رُو سے تو وہ پہلے ہی کافر تھے۔

مزید : کالم