جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر82

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر82
جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر82

  

تیز رفتاری سے ڈرائیونگ کرتا ہوا گھر پہنچ گیا۔ چابی سے گیٹ کھولا اور اندر داخل ہوگیا۔ اس بارمیں بیڈ روم کی طرف جانے کے بجائے میں پچھلے صحن کی طرف آگیا۔ بیڈ روم کی ایک کھڑی اس طرف کھلتی تھی۔ کھڑکی کے نیچے کیاریوں میں گلاب کے پھول مہک رہے تھے۔ میں دبے قدموں چلتا ہوا کھڑکی کے قریب پہنچا تو بری طرح ٹھٹک گیا۔ اندر سے خود میری آواز آرہی تھی۔ میں جلدی سے آگے بڑھا اور گلاب کے پودوں سے بچتا ہوا کھڑکی سے جھانکا۔

اندر کا منظر دیکھ میری آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ صائمہ اس دن کی طرح ہار سنگھار کرکے سامنے صوفے پر بیٹھی تھی۔ آج بھی بیلے کی کلیاں اس کے بالوں میں لٹک رہی تھیں۔ جس چیز کو دیکھ کر مجھے حیرت سے زیادہ صدمہ ہوا تھا وہ صائمہ کے ماتھے پر لگا ہوا تلک تھا۔ جیسے ہندو عورتیں ماتھے پر لگاتی ہیں۔ اس کا چہرہ خوشی سے گلاب کی طرح کھلا ہوا تھا۔ بڑی ہی پیاری مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پر تھی۔ بالکل اس کے سامنے بیڈ پر میری طرف پشت کیے ایک شخص نیم دراز تھا۔ میں ابھی اسے پوری طرح دیکھنے بھی نہ پایا تھا کہ مجھے اپنے بالکل قریب زور دار پھنکار سنائی دی۔ میں اچھل پڑا۔ نیچے دیکھا تو سانس اوپر کی اوپر رہ گئی۔ ایک سیاہ کالا ناگ پھن پھیلائے میرے پیروں سے دو فٹ کے فاصلے پر لہرا رہا تھا۔ میں سن ہوگیا۔ اسکی سرخ زبان لپ لپ باہر اندر ہو رہی تھی۔ چھوٹی چھوٹی نہایت چمکیلی آنکھیں مجھ پر جمعی تھیں۔ وہ زور زور سے پھنکار رہاتھا۔ میں سب کچھ بھول کر جان بچانے کی فکر میں پڑ گیا۔ اگر میں ہلتا تو ممکن تھا وہ مجھے ڈس لیتا۔ بڑی احتیاط سے میں نے پیر پیچھے کھسکایا۔ وہ چوکناہو کر پھنکارنے لگا۔ میں نے اللہ کا نام لے کر پیچھے کی طرف چھلانگ لگائی اور پشت کے بل اس موذی سے چار پانچ فٹ دور لان میں جاگرا۔ اس نے بجلی کی سی تیزی سے اپنا پھن اس جگہ پر مارا جہاں ایک لمحے قبل میرا پیرتھا۔ میں نے الٹ بازی لگائی اور اس سے کچھ اور دور ہوگیا اور چاروں طرف نظر دوڑائی کہ کوئی ایسی چیز مل جائے جس سے میں اس موذی کا سر کچل سکوں۔ لان کے آخری کنارے پر بیلچہ پڑا تھا۔ میں نے بھاگ کر اسے اٹھایا اور اس جگہ کی طرف بڑھا دیا جہاں کچھ دیر قبل میں نے اس خطرناک ناگ کو دیکھا تھا۔ لیکن اب وہاں اس کا نام و نشان نہ تھا۔ میں نے احتیاط سے بیلچے کے ڈنڈے سے پودوں کو ادھر ادھر کرکے دیکھا لیکن وہ نکل چکا تھا۔ بچوں والا گھر تھا اور شام کو وہ لان میں کھیلتے رہتے تھے۔ اس کام میں پڑ کرمیں سب کچھ بھول گیا تھا۔ بہت تلاش کیا لیکن وہ کمبخت تویوں غائب ہوگیا تھا جیسے اس کا وجود ہی نہ ہو۔ کافی دیر تلاش کرنے پر بھی ناکامی ہوئی تو مجھے صائمہ اور اس شخص کا خیال آیا۔ میں لپک کر اندر کی طرف بڑھا تاکہ بیڈ روم میں جا کر اس حرامزادے کا سر کچل دوں۔ اس سارے مسئے کی جڑ وہی نابکار تھا۔ میں بھاگتا ہوا کاریڈور سے گزر کر بیڈ روم میں پہنچا تو حیرت سے میری عقل گم ہوگئی۔ صائمہ انہی کپڑوں میں ملبوس سو رہی تھی جو اسنے صبح پہن رکھے تھے۔ اسکا میک اپ سے عاری چہرہ تھکا تھکا سا دکھائی دے رہا تھا۔ اتنی جلدی لباس تبدیل کرکے میک اپ ختم کرنا ناممکن نہ تھا۔ میں آنکھیں پھاڑے اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ صائمہ کا چہرہ جو تھوڑی دیر پہلے گلاب کے پھول جیسا دکھائی دے رہا تھا خطرناک حد تک زرد تھا۔ میں لپک کر اس کے پاس پہنچا۔

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر81  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’صائمہ‘‘ میں نے اسے بری طرح جھنجھوڑ دیا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ حیرت سے مجھے دیکھا۔

’’کیا بات ہے فاروق؟‘‘ اسنے نیند سے بوجھل پلکیں اٹھا کر پوچھا۔

’’خیریت تو ہے؟ آپ اتنے گھبرائے ہوئے کیوں لگ رہے ہیں؟‘‘

میں دھم سے بیڈ پر گر گیا۔

’’یہ سب کیا ہے؟ کیا میری نظروں کو دھوکہ ہوا تھا۔ کیا میرے تخیل نے سب کچھ گھڑ کر میرے سامنے پیش کر دیا تھا؟‘‘ مختلف سوالات میرے ذہن میں چکرا رہے تھے۔

’’فاروق! آپ بتاتے کیوں نہیں کیا ہوا؟‘‘ وہ مجھے بازو سے پکڑ کر ہلا رہی تھی۔ میں نے خالی خالی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

’’صائمہ! میری تو خود سمجھ میں نہیں آتا کیا بات ہے؟‘‘ میں نے بے بسی سے کہا۔اس کی حسین آنکھوں میں آنسو آگئے۔

’’اگر آپ مجھے نہیں بتانا چاہتے تو میں مجبور نہیں کروں گی‘‘ وہ روہانسی ہوگئی۔

میں نے اسے سینے سے لگا کربھینچ لیا ۔

’’یہ بات نہیں میری جان! میں بھلا تم سے کوئی بات چھپا سکتا ہوں‘‘ میں نے اس کا حسین چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔

’’آپ کے چہرے سے لگ رہا ہے کوئی خاص بات ہے لیکن میں پوچھتی ہوں تو کہتے ہیں کوئی بات نہیں‘‘ اس نے میرا ہاتھ تھام لیا۔

’’صائمہ! ابھی جب میں گھر آیا تو تم۔۔۔‘‘ میں سوچنے لگا اسے یہ سب بتانا ٹھیک رہے گا یا نہیں۔

’’آپ رک کیوں گئے؟ جب آپ گھر آئے تو میں کیا؟‘‘ اس نے بے چینی سے پوچھا۔

’’تمہیں کچھ یاد ہے رات جب میں باہر سے آیا تو تم نے کیا کہا تھا؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’رات۔۔۔رات کب؟ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ آپ باہر گئے تھے یا نہیں آپ نے بتایا ہی نہیں کہ آپ کو کہیں جانا ہے؟‘‘ اس کی آنکھوں میں حیرت تھی۔

’’باہر سے میری مراد لان میں چہل قدمی سے ہے۔ جب میں اندر آیا تو تم جاگ رہی تھیں یاد ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’نہیں۔۔۔رات تو آپ سے پہلے ہی میں سو گئی تھی۔ پتا نہیں فاروق! کیا بات ہے آج کل مجھے نیند بہت آنے لگی ہے۔ دن کو بھی میں اکثر سو جاتی ہوں کئی دن سے گھر کی اچھی طرح صفائی بھی نہیں کی۔ جب سے کام کرنے والی گئی ہے سارا گھر گندا پڑا ہے لیکن میں سچ کہہ رہی ہوں مجھ میں ہمت ہی نہیں کہ میں صفائی ستھرائی کر سکوں حالانکہ آپ جانتے ہیں اس معاملے میں کتنی ٹچی ہوں۔‘‘ اس نے کہا۔

’’ہاں جانتا ہوں وہی تو کہنے جا رہا تھا کہ جب میں گھر آیا تو تم سو رہی تھیں۔ مجھے حیرت ہوئی اس لئے میں نے تمہیں جگا دیا‘‘ میں نے بات بنائی۔ دراصل محمد شریف کی طرف سے جب تک کوئی مثبت جواب نہیں مل جاتا میں صائمہ سے اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔

’’ارے اتنی سی بات سے آپ پریشان ہوگئے۔‘‘

میں نے مسکراکر اس کی طرف دیکھا۔

’’تمہاری ذرا سی پریشانی مجھے بے چین کر دیتی ہے لیکن تم سوتے ہوئے لگ بہت پیاری رہی تھیں۔۔۔‘‘ میری آنکھوں میں شوخی دیکھ کر وہ پھر گھبرا گئی۔ حالانکہ میں نے اس سے کوئی بات نہ کی تھی لیکن کہتے ہیں نا عورت کی حس اس معاملے میں بہت تیزہوتی ہے۔ اس نے میری آنکھوں میں پڑھ لیا تھا کہ میں کیا چاہتاہوں؟۔

’’مم ۔۔۔میں واش روم جا رہی ہوں‘‘ وہ بری طرح گھبرا گئی۔ میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔ کیا یہ وہی صائمہ ہے جو میرے قرب کے لیے بے چین رہا کرتی۔ ہر چند کہ وہ اس معاملے میں بہت شرمیلی ہے لیکن ایسا تو کبھی نہ ہوا تھا کہ وہ مجھ سے گریزاں رہے۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے پاس بٹھانا چاہا۔ یکدم اس کی آنکھوں میں سختی اتر آئی۔ اس نے ایک جھٹکے سے ہاتھ چھڑا کر غصے سے میری طرف دیکھا۔ اورپیر پٹختے ہوئے باتھ روم میں گھس گئی۔ میں ہکا بکا وہیں بیٹھا رہ گیا۔

’’اسے کیا ہوگیا ہے؟ یہ تو مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ وہ کسی نادیدہ پراسرار ہستی کے زیر اثر ہے لیکن اس وقت تو وہ بالکل نارمل حالت میں میرے ساتھ باتیں کر رہی تھی۔ اس دن بھی جب میں نے مذاقاً اس کے قرب کی خواہش کا اظہار کیا تھا وہ اسی طرح گھبرا گئی تھی۔ آج جب میں نے اس کا ہاتھ پکڑا تو طیش میں آگئی۔

’’اگر آپ نے آفس نہیں جانا تو ڈریس چینج کرلیں‘‘ میں اپنی سوچوں میں اس قدر غرق تھا کہ صائمہ کی آمد سے بے خبر رہا۔ مجھ پر بھی ضد سوار ہوگئی۔

’’میری جان! تھوری دیر میرے پاس تو بیٹھو۔ تمہارے حسن کی تپش نے مجھے بے حال کر دیا ہے۔‘‘ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ یک بیک اس کی کیفیت بدل گئی۔ آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے۔

’’میرا ہاتھ چھوڑ دو۔‘‘ اس کی سرد آواز آئی۔

’’کیوں؟ کیوں چھوڑ دوں تمہارا ہاتھ۔۔۔تم میری بیوی ہو جب چاہے میں تمہارا ہاتھ پکڑ سکتا ہوں یہ حق مجھے شرعی طور پر ملا ہوا ہے۔‘‘ میں نے ہاتھ کو اور مضبوطی سے تھام لیا۔

’’تو ایسے نہیں مانے گا‘‘ اس کا چہرہ انگارے کی طرح سرخ ہوگیا۔ ایک جھٹکے سے اس نے میرے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔ نزم و نازک صائمہ میں یکدم کسی پہلوان جیسی طاقت عود کر آئی تھی۔ میری رگوں میں خون کے بجائے لاوا گردش کرنے لگا۔ میں نے جھپٹ کر اسے پشت کی طرف سے اپنی بانہوں میں لے لیا۔ اس نے میری کلائیوں کو پکڑکر میرے ہاتھ یوں کھول دیئے جیسے کوئی بڑا آدمی کسی بچے کے شکنجے کو کھول دے۔ پھر پیچھے مڑی اور مجھے زور سے دھکا دیا۔ میں اڑتا ہوا بیڈ پر جا گرا۔ یہ بھی اچھا ہوا۔۔۔اگر میں زمین پر گرتا تو شاید میری ہڈیاں سرمہ بن جاتیں۔ ہوا میں اڑتا ہوا بیڈ پر گرا اور سپرنگوں والے میٹرس کی وجہ سے ایک بار پھر کئی فٹ اوپر اچھلا۔ دوبارہ گرنے تک میں کچھ نہ کچھ سنبھل چکا تھا۔ غصے سے میرا چہرہ تپ گیا۔ صائمہ مجسم قہر بنی مجھے گھور رہی تھی۔ جب وہ بولی تو میں ششدر رہ گیا۔

’’جیون سے پریم ہے تو پھر میرے شریر کو چھونے کی اوشکتا نہ کرنا۔‘‘ اس کے منہ سے مردانہ آواز نکلی۔ وہ بپھری ہوئی ناگن کی طرح بل کھا رہی تھی۔ ایک سرد لہر میرے سارے جسم میں دوڑ گئی۔

(جاری ہے )

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر83 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : رادھا