ماؤ باغیوں سے لڑنے والے بھارتی کمانڈوز لاپتہ

ماؤ باغیوں سے لڑنے والے بھارتی کمانڈوز لاپتہ
 ماؤ باغیوں سے لڑنے والے بھارتی کمانڈوز لاپتہ

  


بھارتی فوج کے جنگل میں لڑنے کے ماہر درجنوں نئے کمانڈوزاپنے کیریئر کے پہلے محاصرے کے لئے جاتے ہوئے راستے میں ہی لا پتہ ہوگئے، جس کے بعد پورے انڈیا میں بھونچال آگیا ۔ واقعے کی بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ کمانڈوز ایک ٹرین کے ذریعے انڈیا کی مشرقی ریاست’’بہار‘ ‘ جا رہے تھے جہاں انہوں نے ماؤ باغیوں کا محاصرہ کرنا تھا، لیکن وہ راستے میں ہی لاپتہ ہوگئے۔ دستے کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ راستے میں ایک جگہ پر ٹرین رکی تو یہ تمام کمانڈوز مجھے اطلاع دیئے بغیر ہی کہیں چلے گئے۔ کمانڈر کا یہ بیان سامنے آنے کے بعد پورے انڈیا میں ہنگامہ برپا ہوگیا اور طرح طرح کے سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ انڈیا میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ آیا یہ پروفیشنل کمانڈوز جان بوجھ کر غائب ہوئے ہیں یا انہیں ماؤ باغیوں نے اغوا کیا ہے۔ ماؤ باغی چھتیس گڑھ، اوڈیشا، بہار ، جھاڑ کھنڈ اور آندھرا پردیش کے جنگلات میں پوری طرح متحرک ہیں اور انہوں نے اپنی کارروائیوں کے ذریعے بھارتی سیکیورٹی فورسز کا جینا دو بھر کیا ہوا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کمانڈوز کو انہی باغیوں نے اغوا کیا ہے۔بھارت کی شمال مشرقی ریاست ناگا لینڈ میں ماؤ باغیوں کے حملے میں 8 فوجی اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہوگئے۔ میانمار کی سرحد کے قریب باغیوں نے آسام رائفلز پر فائرنگ کر دی ،جس کے نتیجے میں 8 اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے۔ حملے میں نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔

ماؤ نواز باغیوں کی مہم 1960ء میں ایک چھوٹے سے چائے کے باغ سے اس وقت شروع ہوئی جب وہاں کام کرنے والے کسانوں نے احتجاج شروع کیا۔دلی میں واقع ’’انسٹی ٹیوٹ آف کنفلکٹ مینجمینٹ‘‘ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں ماؤنواز باغی اپنی طاقت کو بڑھانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ آسام کے کئی علاقوں میں الگ ضلع کے مطالبے کے لئے تحریک جاری ہے۔ منی پور میں اقتصادی ناکہ بندی، اروناچل پردیش میں دبانگ گھاٹی اورجا پروجیکٹ کی بھی مخالفت جاری ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ان تحریکوں کو نہ صرف عوام کی حمایت حاصل ہے،بلکہ ان میں ماؤنواز باغی بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، تاکہ وہ اپنی پارٹی کا دائرہ مزید وسیع کرسکیں۔ ہندوستان کی مشرقی ریاست جھاڑ کھنڈ میں حکام کا کہنا ہے کہ ریاست میں سرگرم ماؤ نواز باغی پوست کی کاشت کر رہے ہیں ،تاکہ وہ اپنی کارروائیوں کے لئے خطیر رقم جمع کرسکیں۔پوست کے پودے افیون کی تیاری میں بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔حکام کے مطابق ریاست کے 22 اضلاع میں سے اٹھارہ میں ماؤ نواز باغی سرگرم ہیں۔ ماؤ باغیوں کا کہنا ہے کہ ملک کی پانچ ریاستوں میں وہ قبائلیوں کے حقوق کے لئے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔ماؤ نواز باغیوں نے پوست کی کاشت ہزاری باغ کے چترا اور کٹسکامسنڈی علاقوں میں شروع کی تھی جو اب بڑھ کر تین سو سے زائد دیہاتوں میں بیس ہزار ایکڑ تک پھیل چکی ہے۔ اکتوبر میں پوست کی فصل لاکھوں روپے میں فروخت کی جاتی ہے۔ماؤ نواز باغی نہ صرف پوست کی کاشت کر رہے ہیں ،بلکہ کسانوں اور پوست کے تاجروں سے ٹیکس بھی لے رہے ہیں۔

بھارت کی بیس ریاستوں کے چھ سو اضلاع میں سے 223 میں ماؤنواز باغی سرگرم ہیں۔ایک اندازے کے مطابق ماؤنواز باغیوں کے بیس سے کم رہنما، تیس کمانڈر اور تقریباً 12000 کیڈرز ہیں۔ ماؤنواز باغی جن علاقوں میں سرگرم ہیں، ان میں بیشتر پچھڑے علاقے ہیں اور وہاں قبائلی آبادی ہے۔ اس کے علاوہ وہ علاقے بھی ہیں جن میں قدرتی وسائل کافی زیادہ ہیں اور حکومت ان علاقوں کو کارپوریٹ کمپنیوں کو بیچ رہی ہے۔ہندوستان میں ماؤنواز تنظیم کی عسکری شاخ کے سربراہ کوٹیشور راؤ عرف کشن جی نے دعویٰ کیا ہے کہ 2025ء تک ان کی فورسز’’عوامی جنگ میں مکمل فتح‘‘حاصل کر لیں گی۔ماؤ نوازوں کو دلی پر قبضہ کرنے میں زیادہ سے زیادہ پندرہ برس لگیں گے۔ مسٹر راؤ نے کہا: ’’ہماری فورسز بہترین تربیت یافتہ ہیں اور ہم مرکزی حکومت کی افواج کے کسی بھی حملے کو پسپا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ہماری تعداد بھی خاصی زیادہ ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہندوستان کی حکومت مختلف ریاستوں میں سرگرم ماؤنواز باغیوں سے نمٹنے کے لئے ایک نئی حکمت عملی اختیار کرنے پر رضامند ہو گئی ہے۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ریاستی پولیس ماؤنوازوں کے خلاف کارروائی میں اہم کردار ادا کرے گی، جبکہ مرکزی فورسز انہیں ضروری مدد فراہم کریں گی۔

حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ اس واقعہ کے بعدکیا گیا تھا ،جس میں مہاراشٹر کے گڑھ چرولی ضلع میں ماؤنواز باغیوں اور پولیس کے درمیان تصادم میں سترہ پولیس والے ہلاک ہو گئے تھے۔ مرکزی حکومت اب مزید 14000 فوجی ان ریاستوں میں آپریشن کے لئے بھیج رہی ہے۔ مرکزی فورسز کے علاوہ ان ریاستوں کے ہزاروں پولیس اہلکار بھی ماؤ نوازباغیوں کے خلاف موجودہ آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ خفیہ اداروں کا کہنا ہے ماؤ نواز باغیوں کے پاس تقریباً 20000 چھاپہ مار جوان ہیں، جو اچھی طرح تربیت یافتہ اور مسلح ہیں۔ ماؤ نوازباغیوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ماؤ نواز باغیوں کے خلاف ’’آپریشن گرین ہنٹ‘‘ نہ روکا گیا تو وہ کولکتہ اور بھونیشور جیسے شہروں پر حملے کریں گے۔ انہوں نے کہا ہم بڑے شہروں کو نشانہ بنانے اور بڑی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم انقلابی طریقہ جنگ کے اگلے مرحلے میں داخل ہونے کے لئے تیار ہیں، لیکن انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماؤ نوازباغیوں کے پاس ایک بہترین منظم چھاپہ مار تنظیم موجود ہے ،لیکن اسے متعدد بڑے رہنماؤں کی گرفتاری جیسے واقعات سے زبر دست دھچکا پہنچا ہے۔ ان گرفتاریوں میں تنظیم کے ارکان کا اندرونی ہاتھ بھی بتایا جاتا ہے۔ ان اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اسی لئے کوٹیشور راؤ کو اپنی فورسز کو دوبارہ منظم کرنے اوراپنی کمان کومربوط کرنے کے لئے جنگ بندی جیسی مہلت کی سخت ضرورت ہے۔ ماؤنواز باغیوں کا کہنا ہے کہ حکومت کے ان اقدامات سے غریب مزید غربت کا شکار ہو رہے ہیں۔ حکومت نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی کام اس وقت ہی ممکن ہوں گے،جب وہاں سے ماؤنواز باغیوں کو باہر نکالا جائے گا۔

مزید : کالم


loading...