نُورجہاں آڈیٹوریم میں ریڈیائی مشاعرہ

نُورجہاں آڈیٹوریم میں ریڈیائی مشاعرہ
نُورجہاں آڈیٹوریم میں ریڈیائی مشاعرہ

  

یہ مارچ ہے۔ بہار کے دن ہیں۔ پھول کھلے ہیں۔ پات ہرے ہیں۔کم کم بادو باراں تو نہیں لیکن ہر طرف جشنِ بہاراں ہے۔ میلے سج گئے ہیں۔ دیوانگی عروج پر ہے۔ اہلِ جنوں بے باک ہو رہے ہیں۔ گریباں چاک ہو رہے ہیں۔بقول ظہیر کاشمیری

موسم بدلا، رُت گدرائی، اہلِ جنوں بے باک ہوئے

فصلِ بہار کے آتے آتے، کتنے گریباں چاک ہوئے

ریڈیو پاکستان لاہور کی اسٹیشن ڈائریکٹر نزاکت شکیلہ ایک باغ و بہار شخصیت ہیں۔ شاعری کا نہایت عمدہ ذوق رکھتی ہیں۔ ریڈیو کے ادبی پروگرام پر ان کی ہر وقت نظر رہتی ہے کہ کیسا چل رہا ہے؟ کون اس میں شریک ہوتا ہے؟ ادب کا شعبہ انھوں نے پروڈیوسر عفت علوی کے حوالے کر رکھا ہے۔ عفت علوی لاہور کے ایک ایک لکھنے والے کے مزاج کو سمجھتی ہیں۔ شاعروں کی طبع نازک کا ہر لمحہ انھیں احساس رہتا ہے۔ ان کے بلاوے پر شہر کا ہر شاعر اپنی بیاض سمیت ریڈیو پاکستان کے اسٹوڈیو میں پہنچ جاتا ہے۔2 مارچ کو انھوں نے نورجہاں آڈیٹوریم میں یومِ پاکستان اور جشنِ بہار کے سلسلے میں ایک شاندار مشاعرہ ریکارڈ کیا جس کی صدارت محبت کے شاعر امجد اسلام امجد نے کی۔ مشاعرے میں اعتبار ساجد، قائم نقوی، اختر شمار، حمیدہ شاہین، شاہدہ دلاور شاہ، ثمینہ سید، رابعہ رحمن، عرفان صادق، اکرم سحر فارانی، نوید مرزا نبیل نجم اور راقم الحروف ناصر بشیر نے کلام سنایا۔ نظامت کا فرض حال ہی میں پنجاب آرٹس کونسل فیصل آباد سے ریٹائر ہونے والی صوفیہ بیدار نے ادا کیا۔ پچھلے برس بھی ایسا ہی ایک مشاعرہ ریڈیو پاکستان نے منعقد کیا تھا۔ اس کی صدارت بھی امجد صاحب نے کی تھی۔ پچھلے مشاعرے کی خوبی یہ تھی کہ اس میں سامعین کرام کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

داد، بے داد کے شور نے مشاعرے کو مشاعرہ بنا دیا تھا۔ اس بار ہمارے ملک کے نام ور صدا کار، اداکار اور پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے سابق ڈائریکٹر جنرل جناب نعیم طاہر اکلوتے سامع کے طور پر مشاعرے کے آخر تک براجمان رہے۔ جسے نعیم طاہر صاحب نے داد دی وہ کامیاب رہا اور جس کے کلام پر وہ چپ رہے، وہ ٹھس ہو گیا۔ مشاعرے میں شریک کچھ شاعروں کے لیے بہتر ہوتا اگر ریکارڈنگ سے پہلے اپنا کلام کسی کو دکھا لیتے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ آج کوئی کسی سے کچھ سیکھنا نہیں چاہتا۔ کچھ شعرا کے بے وزن کلام پر امجد صاحب کے ماتھے پر بل پڑے لیکن وہ صدر ہو کر بھی کچھ کہہ نہیں پائے۔ صوفیہ بیدار برسوں سے مشاعرے پڑھتی آ رہی ہیں۔ وہ مشاعروں کی منتظم و مہتمم بھی رہی ہیں۔ ان سے بہتر کون جانتا ہو گا کہ نظامت کا فرض ادا کرنے والا شاعر سب سے پہلے کلام پیش کرتا ہے لیکن یہاں انہوں نے اپنی سنیارٹی برقرار رکھنے کے لیے اپنا کلام وہاں پڑھا، جہاں وہ پڑھنا چاہتی تھیں۔ اگر وہ سب سے پہلے کلام عطا کرتیں تو مشاعرہ ابتداء ہی میں گرم ہو سکتا تھا۔ مشاعرہ چونکہ یوم پاکستان اور جشنِ بہار کے سلسلے میں تھا، اس لیے ہر شاعر نے پہلے وطن کو خراجِ محبت پیش کیا اس کے بعد ایک غزل سنائی۔

یہ نہایت پرانی روایت ہے کہ ریڈیو پاکستان کے مشاعرے میں شریک ہونے والے اکثر شاعر، عمارت میں داخل ہوتے ہی ریڈیو کے چیک سیکشن میں جاتے ہیں اور چیک وصول کرکے اپنا پرانا حساب بے باق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں اُدھر نہیں گیا۔ کیونکہ میرا حساب پہلے سے بے باق ہے۔ ریڈیو پاکستان میرا کبھی مقروض نہیں رہا۔ میری شاید قسمت اچھی ہے یا ریڈیو کا چیک سیکشن مجھ پر مہربان ہے کہ مجھے پروگرام نشر ہونے کے کچھ عرصے بعد ہی چیک مل جاتا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے اعلیٰ حکام مشاعرے کو شاید ایک عیاشی سمجھتے ہیں اس لیے عام طور پر اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں لیکن اس دفعہ لگتا ہے کہ نزاکت شکیلہ کے ذوق سخن کو دیکھتے ہوئے مشاعرے کے لیے کم ہی سہی، بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ اس دفعہ ریڈیو گیا تو ایک بُری خبر یہ ملی کہ ریڈیو پاکستان لاہور کا شعبہ ء موسیقی سنٹرل پروڈکشن یونٹ (سی پی یو) مستقل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ سی پی یو کے کنٹرولر کے کمرے میں اب ایف ایم ون او ون کے کنٹرولر برادر محترم مصطفےٰ کمال بیٹھتے ہیں۔

سی پی یو کے اسٹوڈیو بھوت بنگلے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اب ان اسٹوڈیوز میں ہارمونیم اور طبلے نہیں بجتے، سناٹا گونج رہا ہے۔ سی پی یو کی کنٹرولر محترمہ انیلا سلیم کو اسلام آباد کے ریڈیو اسٹیشن کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا ہے۔ سنٹرل پروڈکشن یونٹ کی موت، ایک تاریخ کا خاتمہ ہے۔ نورجہاں، مہدی حسن، غلام علی اور غلام عباس جیسے لوگ یہاں آتے رہے ہیں اور گیت ریکارڈ کراتے رہے ہیں۔ کسی زمانے میں یہاں مہینے میں چوبیس گیت ریکارڈ ہوتے تھے۔ آج اس کے سٹوڈیو ویران ہو چکے ہیں۔ انھی سٹوڈیوز میں ہمارے آج کے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز صاحب کے والد گرامی احمد فراز کی غزلیں بھی ریکارڈ ہوتی رہی ہیں لیکن اِنھی شبلی فراز کے دور میں موسیقی کا یہ تاریخی شعبہ ختم کر دیا گیا ہے۔ میرے مرحوم دوست سید شہوار حیدر سی پی یو کی جان تھے۔ ان کے دور میں یہاں ہر وقت گلوکاروں، شاعروں اور سازندوں کا مجمع لگا رہتا تھا۔ میں خود ہفتے میں کم از کم ایک بار ضرور سی پی یو جایا کرتا تھا۔

موجودہ اسٹیشن ڈائریکٹر محترمہ نزاکت شکیلہ نے مشاعرے کا انعقاد کرکے دراصل شاعروں کو یاد دلانے کی کوشش کی ہے کہ 

تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں؟

کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا

یومِ پاکستان کے حوالے سے میرے یہ شعر پڑھ لیجیے:

اس ایک دن نے دکھائی تھی راہ منزل کی

یہ ایک دن کئی صدیوں کا استخارہ ہے

اس ایک دن نے دیا تھا شعور آزادی

اسی کے دم سے تو یہ ملک اب ہمارا ہے

اس ایک دن میں کہانی ہے سات برسوں کی

اسی کہانی پہ بچّوں کا اب گزارا ہے

مزید :

رائے -کالم -