8اکتوبر 2015ء :قومی یومِ آگاہی برائے سانحات

8اکتوبر 2015ء :قومی یومِ آگاہی برائے سانحات

  

ہلاکو خان (1218-1265)مشہور خونخوار منگول شہ سہوار چنگیز خان کا پوتا ، طلائی خان کا بیٹا اور قبلائی خان کا بھائی تھا۔ ہلاکو خان نے زیادہ تر اپنی فتوحات جنوب مغربی علاقوں میں کیں جبکہ مغربی ایشیاء کی سرزمین پر موجود سلطنتوں نے بھی ہلاکوخان کی قدم بوسی کی۔ ہلاکوخان کی فتوحات میں سب سے زیادہ یاد رکھی جانے والی بغداد کا محاصرہ ہے۔ ہلاکوخان نے بغداد کا دونوں اطراف سے محاصرہ کرلیا اور مسلمان خلیفہ مصتصم کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا۔ انکار پر ہر طرف سے منگول فوجوں بشمول چین کے جنرل گاؤ کان نے بغداد پر دھاوا بول دیا۔ مسلمان فوجوں کو شکست ہوئی۔ منگول فوجیں ایک ہفتہ تک املاک کو تباہ کرتی رہیں۔ گھروں، مسجدوں اور محلات کو آگ لگا دی گئی اور ہلاکوخان نے خلیفہ کو خلیفہ کے ہیرے جواہرات کھانے کو دیے ۔ انکار پر خلیفہ کو ہیرے جواہرات کے خزانے میں دبا دیا گیا حتیٰ کہ اُس کی موت ہوگئی۔ کچھ روایتوں میں آتا ہے کہ ہلاکوخان نے طنزیہ لہکے میں خلیفہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔ ’’اگر تم نے ان ہیرے جواہرات سے ایک طاقتور فوج تیار کی ہوتی جو مجھے اور میری فوجوں کو مسلمان سلطنت کی سرحدوں پرروکتی تو تمہیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ‘‘۔ اسی طرح اگر شاہ رنگیلا نے ایک طاقتور فوج تیار کی ہوتی تو ’’ہنوز دلی دور است‘‘ کا نعرہ لگانے کی بجائے اُس کی فوجیں دشمنوں کو سرحدوں پر روکتیں۔ اگر مغل فرمانرواؤں نے بری فوج کے ساتھ اپنی بحریہ پر بھی توجہ دی ہوتی برصغیر میں انگریز سامراج کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں قدم جمانے کا موقع نہ ملتا۔ اگر سلطنتوں کے عروج و زوال کی داستانوں کا ازسرِ نو مطالعہ کریں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اگر قوموں کی بھرپور تیاری ہو تو دشمن کی افواج کسی طور کامیاب نہیں ہوتیں ۔

دورِ جدید میں انسان کی سب سے بڑی دشمن قوتیں قدرتی آفات ہیں، جن سے نبر د آزما ہونے کے لئے جن قوموں نے بھرپور تیاری کی ہے اُن کے شہری محفوظ اور صحت مند ہیں ۔ چین، جاپان، امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دیگر ترقی یافتہ اقوام نے قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے اور اُن سے بہتر انداز میں نبرد آزما ہونے کے لئے بھرپور تیاریاں کی ہیں۔ جاپان میں کچھ عرصہ قبل خوفناک زلزلہ نے جاپانی قوم کے دل دہلا دیے، لیکن جاپان نے دیگر اقوام سے بھیک مانگنے کی بجائے اپنے زورِ بازو پر بھروسہ کیا اور چند ہفتوں میں خود کو دوبارہ اُسی جگہ کھڑا کردیا جہاں وہ اُس آفت سے قبل کھڑے تھے۔ امریکہ میں قطرینہ جیسے سانحات رونما ہوئے لیکن شرحِ اموات درجنوں تک بھی نہیں پہنچیں۔ اگرچہ ہمارے رہنما بھی ’’قطرینہ ‘‘ اور ’’انجلینا جولی ‘‘ جیسے ’سانحات‘سے نبرد آزما ہونے کیلئے ہردم تیار رہتے ہیں لیکن ان ’’سانحات‘ ‘ کے اثرات عوام پر کسی طوربھی اچھے مرتب نہیں ہوتے بلکہ عوام میں محرومی اور بد اعتمادی کی فضاء بڑھتی ہے۔ ہمارے رہنماؤں کی ایسی ہی ترجیحات کے صلے میں ہمیں آٹھ اکتوبر 2005ء کو پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں ایک خوفناک زلزلہ کا سامنا کرنا پڑا جس کی شدت ریکٹر سکیل پر 7.6ریکارڈ کی گئی۔ آزاد کشمیر کے شہر مظفر آباد اور دیگر بالائی علاقوں میں اس زلزلہ نے قیامتِ صغریٰ برپا کردی، جبکہ زلزلہ کے جھٹکے مقبوضہ کشمیر، مغربی چین، تاجکستان اور افغانستان تک محسوس کیے گئے۔ آنِ واحد میں ہزاروں لوگ لقم�ۂ اجل بن گئے اور جو زندہ بچ گئے اُن کی حالت قابلِ دید تھی۔ اُن کی آہیں بھی نیلگوں آسمان کی چھاتی چیر کر جلالِ خداوندی کو ٹھنڈا نہ کرسکیں۔ اس قدر خوفناک سانحہ رونما ہونے کے بعد ہمیں ہوش آیا کہ ایسی قدرتی آفات کی قبل از وقت نشاندہی جیسے جدید آلات اور Early Warning Systemsکی تنصیب کی سمجھ بوجھ سے یا تو عاری تھے یا پھر مسلسل کوتاہی برت رہے تھے۔ اقتدار کی راہداریوں میں بیٹھے افراد نے پہلو بدلے اور کچھ کرنے کا عزم دہرایا۔

ریسکیو1122ایمبولینس سروس لاہور سے پائلٹ پروجیکٹ کی حیثیت سے شروع ہوچکی تھی جسے ہونہار ٹراما سرجن ڈاکٹر رضوان نصیر نے شروع کیا تھا ۔ اُن کے ساتھ بھرپور جذبوں سے مزین ریسکیورز تھے، جنہوں نے اس کارِ خیر میں اپنی جوانیوں کے بھرپور دن قربان کئے اور اس پودے کو ایک تناور درخت کی شکل دے دی جس کے ثمرات آج پنجاب بھر کے تمام شہریوں کو بلا تفریق مہیا ہیں۔ ڈاکٹر رضوان نصیر تین مرتبہ ڈائریکٹر جنرل رہنے کے بعد سیکرٹری جنرل پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی تعینات ہوئے تو پنجاب ایمرجنسی سروس کی باگ ڈور موجودہ ڈائریکٹر جنرل بریگیڈئیر (ر) ڈاکٹر ارشد ضیاء کے ہاتھ میں آگئی۔ انہوں نے 1974ء میں ان کا داخلہ قائداعظم میڈیکل کالج بہاولپور میں ایم بی بی ایس میں ہوگیا۔ 1981ء میں انہوں نے پاکستان آرمی کو بطور کیپٹن ڈاکٹر جوائن کیا۔بریگیڈئیر صاحب کے والد صاحب حاجی چودھری شاہ محمد انڈین آرمی میں خدمات سرانجام دے چکے تھے اس لئے بریگیڈئیر صاحب کے دل میں بھی ملک کی خدمت کرنے کا جذبہ موجود تھا۔ پاکستان آرمی کی میڈیکل کور دور طرح سے کام کرتی ہے۔ اس میں یا تو آپ جنرل ڈیوٹی میڈیکل افسر Executiveمیں چلے جاتے ہیں یا پھر آپ Specialistبن جاتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے ٹاپ سرجن بشمول میجر جنرل مقبول اور بریگیڈئیرقیصر خان (ایڈوائزر ان کارڈیالوجیAFICروالپنڈی) بریگیڈئیر صاحب کے کلاس فیلو ہیں، جبکہ بریگیڈئیر صاحب نے جنرل ڈیوٹی میں ہوتے ہوئے بہت اہم سٹاف اور کمانڈ اپوائنٹمنٹس پر کام کیا، ہر سٹیج پرنمایاں خدمات سرانجام دیں اور بہترین گریڈز میں رہے۔ ان کی نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ انہوں نے دس سال تک مسلسل مختلف ملٹری ہسپتالوں کی کمانڈ کی جن میں سی ایم ایچ ٹل،سی ایم ایچ گوجرانوالہ،سی ایم ایچ ملتان (ڈپٹی کمانڈنٹ)اورپی او ایف ٹیچنگ ہسپتال واہ کینٹ شامل ہیں۔

اس کمانڈ کے دوران متعلقہ ملٹری ہسپتال اپنی کارکردگی میں مثالی رہے اورافسران بالااور ماتحت عملہ سبھی ان کی کمانڈ کی تعریف کرتے رہے۔ یہ ان کی سروس کا طرہِ امتیاز تھا کہ وہ جہاں کہیں بھی گئے نشاں چھوڑ آئے۔ میڈیکل فیلڈ میں بہترین خدمات سرانجام دینے پر بطور کیپٹن وہ تین سال تک ڈیپوٹیشن پر سعودی عرب گئے، جہاں انہوں نے ملٹری ہسپتال شرورہ کے ایمرجنسی شعبہ میں بطورکیپٹن ڈاکٹر کام کیااور ان کی بہترین کارکردگی پر سعودی عرب کی وزارت دفاع نے حسن کارکردگی کی سند سے نوازا۔ چار سال تک بطور میجر وہ پاکستان نیوی میں بھی خدمات سرانجام دیتے رہے جہاں انہوں نے نیوی کی مختلف اسٹیبلشمنٹس جو کہ ساحل سمندر مثلاً پی این ایس کارساز، پی این ایس بہادر ، پی این ایس جوہراور سمندر کے اندر موجود جہازوں بشمول پی این ایس سیف(ڈسٹرائر شپ) میں خدمات سرانجام دیں۔ یہ وہ جہازہے جن میں بہترین سے بہترین افسران کو تعینات کیا جاتا ہے۔ بریگیڈئیر صاحب کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ ان کی اعلیٰ کارکردگی کی بدولت انہیں آپریشن راہِ نجات میں بطور ڈائریکٹر میڈیکل سروسز (11Corps)پشاور میں ایک سال تک تعینات کیا گیا،جہاں انہوں دن رات فائٹنگ ٹروپس کو بہترین ایمرجنسی میڈیکل سروسز فراہم کیں۔اسی دوران انہوں نے میجر جنرل کے رینک تک Competeکیا، لیکن 18بریگیڈئیر ز اور میجرجنرل کی صرف ایک سیٹ ہونے کی وجہ سے وہ میجرجنرل نہ بن سکے۔ درخشاں دور گزارنے کے بعد2011میں وہ پاکستان آرمی سے ریٹائر ہوگئے اور 2012میں انہوں نے پنجاب ایمرجنسی سروس(ریسکیو1122)کو بطور ایڈمنسٹریٹر پنجاب ایمرجنسی سروسز اکیڈمی جوائن کیا ۔ساتھ ہی ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں ڈائریکٹر ایڈمن بنادیا گیا۔

ڈاکٹر رضوان نصیر کی معیادِ ملازمت پوری ہونے پر حکومتِ پنجاب نے بریگیڈئیر صاحب کو قائم مقام ڈائریکٹر جنرل بناد یا۔ سانحات کی آگاہی کے حوالے سے اُن سے تفصیلی گفتگو ہوئی تو کہنے لگے پنجاب ایمرجنسی سروس پاکستان کی واحد سروس ہے، جس نے اپنی محنت اور لگن کے بل بوتے پرنہ صرف پاکستان بلکہ دنیا میں اپنا نام بنایا ہے۔ ایک طرف بروقت ریسپانس کے ذریعے یہ سروس لوگوں کو احساسِ تحفظ فراہم کرنے میں کوشاں ہے اور دوسری طرف آگاہی مہم کے ذریعے یہ سروس لوگوں کے ذہنوں کی آبیاری کررہی ہے کہ تاکہ مصیبت کی گھڑی میں مشکلات کو کم کرنے کے لئے شہری ریسکیو سروسز کے شانہ بشانہ کام کرسکیں۔پنجاب ایمرجنسی سروس پنجاب بھر میں سانحات سے آگاہی کے اس دن کے موقع پر تمام اضلاع میں آگاہی سیمینارز منعقد کرارہی ہے۔ آگاہی ریلیاں، لیکچر، چوکوں ، چوراہوں پر ریسکیورز نے ہاتھوں میں آگاہی بینرز اٹھا رکھے ہیں اور لوگوں میں سانحات کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے میں مصروفِ عمل ہیں۔ سانحات سے آگاہی کا یہ دن بھی اس امر کی واضح دلیل ہے کہ ریسکیو 1122لوگوں کی مدد کے لئے ہر دم تیار ہے، لیکن لوگوں کو بھی چاہئے کہ وہ سامنے آئیں ۔ ریسکیو سروسز سے بنیاد ی تربیت لے کر ریسکیو سروسز کے رضاکار رجسٹرڈ ہوں اور اپنے اپنے علاقوں و اضلاع میں کسی بھی سانحہ کے وقت ایمرجنسی سروسز کے ہمراہ کام کریں۔ یہ مُلک ہمارا ہے ۔ یہ ہمارا گھر ہے۔ اسے صاف ستھرا رکھنے ، محفوظ کرنے اور امن و چین کا گہوارہ بنانے کی ذمہ داری بھی ہماری ہے اس لئے آئیے پنجاب ایمرجنسی سروس کے ہمراہ ملک میں محفوظ معاشروں کے قیام کے لئے ریسکیو 1122کا ساتھ دیں ۔

مزید :

کالم -