قوم کو سلام !

قوم کو سلام !
 قوم کو سلام !

  

ہم بحیثیت قوم کیاہیں؟اس کا مظاہرہ ہم کبھی کبھی کرتے ہیں اور خوب کرتے ہیں، جیسا 5مارچ کو لاہوری سپر لیگ فائنل کے موقع پر کیا۔ویسے تو یہ آپس میں ہی کرکٹ کا میچ تھا، لیکن جوش و خروش کا عالم یہ تھا، گویا ہندوستان کے ساتھ ورلڈکپ کا فائنل کھیلا جارہا ہو۔ایک لحاظ سے ہندوستان اس کھیل میں یقیناًموجود تھا کہ علاوہ دیگر دھماکوں کے جو پاکستان بھر میں ہوئے اور جن میں بیسیوں جانیں ضائع ہوئیں، لاہور میں اسمبلی ہال کے سامنے ہونے والے دھماکے کے حوالے یہ کہا جارہاتھا کہ اس کا مقصد لاہور میں پاکستان سپر لیگ کے فائنل کو روکنا تھا۔ اس مفروضے میں کس حد تک صداقت تھی، اس سے قطع نظر اب اس بات میں کوئی شک و شبہ با قی نہیں رہا کہ نئی حکمت عملی کے تحت ہندوستان پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے اس کے داخلی اختلافات سے فائدہ اٹھانے کی بھر پور کوشش کررہا ہے۔ کیوں نہ کرے آخر اس پالیسی سے ہی اس کے لئے پاکستان کے دوٹکڑے کرکے ایک حصے کو اپنا زیردست بنانا ممکن ہوسکا۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ مشرقی پاکستان میں حالات کی خرابی پر ہم یہ کہہ کر پردہ ڈالتے رہے کہ وہاں کے عوام ہندو اساتذہ کے زیر اثر ہیں،وہاں بیس فی صد آبادی ہندوؤں کی ہے اور وہاں کی ثقافت پر بھی ہندوثقا فت کا اثر ہے۔لیکن گزشتہ ایک دھائی سے زیادہ عرصے سے ملک کے باقیماندہ حصے میں جو دہشت گرد پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے ہندوستان کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، اُن کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟بہر حال موجودہ صورت حال کاخوش آئند پہلو یہ ہے کہ عوام الناس کی اکثریت نے جن میں نوجوان پیش پیش تھے، کراچی سے لے کر خیبر تک پورے جوش و خروش کے ساتھ اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں اور ہندوستان کو چھکا مار کر میدان سے باہر پھینک دیا۔اس معا ملے میں قوم کا یہ جوش و خروش صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں تھا،بلکہ یہاں امریکہ میں بھی پاکستانیوں نے اسی نوعیت کی گرم جوشی کا مظا ہرہ کیا۔اتفاق سے تھا بھی ہفتہ وار چھٹی کا دن اس لئے لاہور سے ناتا جوڑے رکھتے ہیں آسانی ہوگئی۔ پاکستانیوں نے اس سے قبل بھی ایک موقع پر گولیوں اور بموں کی بوچھاڑ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے قومی سطح پر زبردست جوش و خروش کا مظاہرہ کیا تھا۔وہ موقع تھا، گذشتہ انتخابات کا جس میں حصہ لینے سے روکنے کے لئے دہشت گردوں نے نہ صرف دھمکی دی تھی، انتخابات میں حصہ لینے والوں کو مزہ چکھایا جائے گا،بلکہ 11مئی 2013ء سے قبل جاری رہنے والی تین ہفتوں کی انتخابی مہم کے دوران تشدد کے سو سے زائد واقعا ت میں 81افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیاتھا، جبکہ چار سوسے زائد زخمی ہوئے تھے۔ انتخابی مہم سے چند ماہ قبل اے این پی کے ممتا ز راہنما بشیر احمد بلور جاں بحق ہوئے، جبکہ انتخابات سے صرف دو روز قبل سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کو اغوا کرلیا گیا۔

اس تناظر میں پاکستان کی تاریخ میں یہ سب سے زیادہ خون آلود انتخابی تحریک تھی۔لیکن اس کے باوجود انتخابا ت میں ووٹ ڈالنے کے لئے آنے والوں نے گذشتہ تمام ریکارڈ توڑدیئے اور بقول امریکی چینل سی این این کے معروف تجزیہ کار فرید زکریا کے پاکستان میں ووٹرز کے ٹرن آؤٹ کاتناسب امریکہ سے زیادہ تھا۔ان انتخابات کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ ان کے ذریعے پہلی دفعہ جمہوری حکومت کے پانچ سال مکمل ہو نے کے بعد اقتدار پُر امن طور پر دوسری جمہوری حکومت کو منتقل ہوگیا۔ موجودہ جمہوری حکومت کی جان بھی اگرچہ اس کے مخالفین نے مشکل میں ڈالے رکھی، لیکن اتفاقات زمانہ نے جتنی مشکلیں پٹرول کی قیمتیں آسمان پر چڑھ جانے اور عالمی معاشی بحران کی صورت میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے لئے پیدا کی تھیں،اتنی ہی سہولتیں نواز شریف حکومت کو فراہم کردیں۔پٹرول کی قیمت بھی زمین پر آگئی پاسبان حرم نے ڈیڑھ ارب ڈالر کا نقد عطیہ دے دیااور جس کے عالمی تجارتی منصوبے کا ایک حصہ چائنا پاکستان اکنامک کو ریڈور یعنی سی پیک کے نام سے پاکستان کے حصے میں آگیا۔ ان کمالات میں کتنا کریڈٹ نواز شریف کی حکومت کو جاتا ہے، اس بارے میں وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہو گا، لیکن ایک کریڈیٹ بہر حال موجودہ حکومت کے کھاتے میں جاتا ہے اور وہ ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ جس کے مطابق کرپشن میں کمی کے با عث پاکستان دنیا کے 175ملکوں میں سے 2017ء میں 129ویں نمبر سے 116ویں نمبر پر آگیا ہے ۔نواز شریف کے مخالف اس بارے میں کیا کہیں گے ،یہ تو وہ جانیں البتہ معیشت کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے تمام بین الاقوامی ادارے پاکستان کی معیشت کے بارے میں حوصلہ افزا رائے رکھتے ہیں، جس کا ایک بیرو میٹر کراچی اسٹاک ایکسچینج بھی ہے جس کی کا رکردگی ایشیا کے تمام اسٹاک ایکسچینج سے بہتر قرار دی جارہی ہے، لیکن امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کو سب سے زیادہ دلچسپی سی پیک سے ہے جسے وہ پاکستان کی ترقی کے لئے بہت بڑا سنگ میل سمجھتے ہیں۔اس دلچسپی کا اظہار جھیلوں کی ریاست مشی گن میں کاریں تیار کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے مرکز ڈیٹرائیٹ میں مقیم پاکستانیوں نے ایک نشست کے دوران کیا،جو پاکستان کے حالات پر تبادلہ خیال کے لئے منعقد کی گئی تھی۔ اس سے قبل میری آمد پر منعقد کی جائے والی نشستوں میں کبھی مشرف کبھی عمران خان موضوع گفتگو رہے تھے، لیکن اس دفعہ تو سی پیک کے سوا کوئی اور عنوان بھولے سے بھی زیر بحث نہیں آیا۔ گفتگو کے اختتام پر سب نے اس بات سے اتفاق کیا کہ سی پیک کا منصوبہ اگرچہ پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، لیکن اس سے بہت اونچی توقعات وابستہ کرلینا بھی دانش مندی نہیں۔اس سلسلے میں مصر کی نہر سویز کا حوالہ بھی دیا گیا،جو اپنی تمام ترمعاشی اہمیت کے باوجود مصر کی معیشت میں کوئی انقلاب برپا نہیں کرسکی۔ حاضرین نشست اس بات پر متفق تھے کہ ہمارا اصل سرمایہ افرادی قوت ہے جس کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جس کی بڑے پیمانے پر فنی اور تکنیکی تربیت ہی ہماری معیشت کو ترقی کی مستقل بنیاد فراہم کرسکتی ہے۔اس کی ایک مثال ہندوستان ہے، جہاں کمپیوٹر کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم کے لئے اعلیٰ معیار کے حامل 68 تعلیمی ادارے حکومت کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں جن سے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں انجینئر نکل کر امریکہ کا رخ کرتے ہیں ان انجینئروں کی امریکہ میں بہتات نے مقامی آبادی کی نوکریوں کے لئے مسائل کھڑے کر دیئے ہیں جسے نسبتاً کم تنخواہ پر ہندوستان سے آنے والے انجینئروں سے کم تنخواہ پر کام کرنا پڑتا ہے جو شدید ناراضگی کا سبب ہے لیکن دوسری طرف امریکہ میں کمپیوٹر کی دن رات ترقی کرتی ہوئی صنعت کا دارومدار ہی زیادہ تر ہندوستان چین اور دیگر ملکوں سے آنے والے انجینئروں پر ہے اس لئے ان کی مانگ میں کمی کرنا بھی مشکل نظر آتا ہے۔ بہر حال حکومت اور صنعتکاروں کے درمیان بات چیت کے ذریعے درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن نتیجہ جو بھی ہو پاکستان کی صحت پر اس کا کچھ زیادہ اثر نہیں پڑے گا کیونکہ پاکستان سے یہاں آنے والے انجینئروں کی تعداد دیگرکے مقابلے میں قابل ذکر نہیں۔ پاکستان میں بھی اعلیٰ فنی تعلیم کے لئے وسیع پیمانے پر ادارے قائم کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس سے زیادہ ضرورت جوش و جذبے سے بھرپور ان نوجوانوں کی وسیع پیمانے پر فنی اور تکنیکی تربیت کی ہے۔ ملک میں نوجوانوں کی کثیر تعداد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس سلسلے میں بھی ایک سی پیک جیسا منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے نہ صرف چین بلکہ جاپان اور کوریا جیسے ملک بھی سرمایہ کاری کے لئے تیار ہوں گے کیونکہ وہ وقت دور نہیں جب انہیں بہت بڑی تعداد میں تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہو گی۔

مزید :

کالم -