اصغر خان کیس کے فیصلے پر ہفتے میں عملدرآمد کا حکم ، اسحاق ڈار کی سینیٹ رکنیت معطل ، موبائل فون کارڈز پر دہر اٹیکس غیر قانونی پٹرول ، ڈیزل پر ٹیکسوں کا نوٹس ، شجاعت عظیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم

اصغر خان کیس کے فیصلے پر ہفتے میں عملدرآمد کا حکم ، اسحاق ڈار کی سینیٹ رکنیت ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو اصغرخان کیس سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیا ہے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اصغرخان کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق سماعت کی، اس موقع پر اٹارنی جنرل اور ڈی جی ایف آئی اے پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اصغر خان کیس میں فیصلہ دے چکی ہے، نظرثانی کی درخواستیں خارج کی جا چکی ہیں اور اب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ہونا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 'کیا یہ معاملہ ایف آئی اے میں جانا ہے یا نیب میں، وفاقی حکومت نے آج تک فیصلے کے بعد کوئی ایکشن نہیں لیا، صرف ایف آئی اے نے تحقیقات کی لیکن ایک جگہ پر یہ تحقیقات رک گئی'۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلوں پر من و عن عمل ہونا چاہیے، یہ نہیں معلوم آرٹیکل 6 کا مقدمہ بنتا ہے یا نہیں۔اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوجداری ٹرائل ایف آئی اے کی تحقیقات کے بعد ہوگا جب کہ اصغر خان مرحوم کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اسلم بیگ اور اسد درانی کارروائی اور دوسرے لوگوں کیخلاف تحقیقات ہونی ہے آرمی ایکٹ میں سابق فوجی کے خلاف کارروائی کی شق نہ ہو تو اقدامات کے تحت کارروائی ہوتی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کا فیصلہ حکومت نے کیا، ہم اصغر خان کیس عملدرآمد کا معاملہ حکومت پر چھوڑتے ہیں، وفاقی حکومت اور ایف آئی اے اصغر خان کیس کے فیصلے کی روشنی میں قانون کے مطابق کارروائی کریں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وفاقی حکومت ہی تعین کرے گی کہ جن فوجی افسران کے نام کیس میں ہیں ان کے خلاف کارروائی کون کرے گا۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ حکومت کارروائی کے لیے فورم کا فیصلہ ایک ہفتے میں کرے، اگر کابینہ کا خصوصی اجلاس بھی بلانا پڑے تو بلائیں۔اس موقع پر اٹارنی جنرل نے دو ہفتے التوا کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کردیا، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ حکومت کے پاس تین ہفتے رہ گئے ہیں، مزید وقت نہیں دے سکتے۔دریں اثناصغر خان کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کو پوچھ گچھ کیلئے دوبارہ بلانے کا فیصلہ کرلیا۔نجی ٹی وی نے ایف آئی اے کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسلم بیگ اور اسد درانی سے 1990 کے انتخابات میں نواز شریف سمیت 35 سیاستدانوں اور صحافیوں کو ادا کی گئی رقم سے متعلق ثبوت مانگے جائیں گے۔ذرائع ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ فیصلے پر عملدرآمد کے لیے نئی کمیٹی تشکیل دیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے اس اقدام سے متعلق سپریم کورٹ کے احکامات کو بھی مدنظر رکھے گی۔ایک اور کیس میں سپریم کورٹ نے طلبی کے باوجود عدم پیشی پر اسحاق ڈار کی سینیٹ کی رکنیت معطل کر دی ، چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اسحاق ڈار کو ایک نہ ایک دن تو آنا ہی پڑے گا جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ خبروں میں تو اسحاق ڈار کو آتے جاتے دیکھتے ہیں، وہ صحت مند ہیں اور یہاں میڈیکل سرٹیفکیٹ دے دیا جاتا ہے۔ منگل کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف نوازش پیرزادہ کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار نے سینیٹ انتخابات میں اسحاق ڈار کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کو چیلنج کیا ہے۔سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت پر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو 8 مئی کو طلب کیا تھا لیکن وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کہاں ہیں اسحاق ڈار؟ وہ کیوں نہیں آئے؟ انہیں ایک دن تو آنا ہی پڑے گا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ خبروں میں تو اسحاق ڈار کو آتے جاتے دیکھتے ہیں، وہ صحت مند ہیں اور یہاں میڈیکل سرٹیفکیٹ دے دیا جاتا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ اسحاق ڈار کو آنا ہی پڑے گا، بتائیں وہ کس دن آئیں گے؟عدالت نے طلب کیے جانے کے باوجود عدم پیشی پر سابق وزیر خزانہ کی سینیٹ کی رکنیت معطل کرنے کا حکم دیا اور کیس کی مزید سماعت عید کے بعد تک ملتوی کردی۔

اصغر خان کیس

اسلام آباد(آئی این پی) سپریم کورٹ نے موبائل فون کارڈز پر دہرا ٹیکس لگانے کو غیر قانونی قرار دیدیا جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ہیں کہ صوبے کس قانون کے تحت سیلز ٹیکس لگا رہے ہیں، کیا ڈبل ٹیکس لگانا استحصال نہیں؟‘جو شخص ٹیکس دینے کا اہل نہیں اس پر ودہولڈنگ ٹیکس کیوں لگایا‘موبائل فون کے استعمال پر ودہولڈنگ ٹیکس کیسے لیا جارہا ہے؟۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ فون کارڈز اور ایزی لوڈ پر 12.7 فیصد ود ہولڈنگ ڈیوٹی اور 19.5 فیصد سیل ٹیکس کاٹا جاتا ہے‘ 100 روپے کے کارڈ پر 10 فیصد سروس چارجز بھی وصول کیے جاتے ہیں۔ جبکہ چیف جسٹس نے ڈیزل اور پٹرول پر ہوشربا ٹیکس کے اطلاق کا بھی نوٹس لینے کا عندیہ دے دیا۔منگل کو سپریم کورٹ میں موبائل فون کارڈ پر حد سے زیادہ ٹیکس کٹوتی پر از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ موبائل فون کے استعمال پر ودہولڈنگ ٹیکس کیسے لیا جارہا ہے؟۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ فون کارڈز اور ایزی لوڈ پر 12.7 فیصد ود ہولڈنگ ڈیوٹی اور 19.5 فیصد سیل ٹیکس کاٹا جاتا ہے، جبکہ 100 روپے کے کارڈ پر 10 فیصد سروس چارجز بھی وصول کیے جاتے ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سروس چارجز کیوں لیے جاتے ہیں؟۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس کا جواب تو موبائل فون کمپنیاں ہی دے سکتی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی وضاحت کریں تو اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت اور سفارتکاروں سے ود ہولڈنگ ٹیکس نہیں لیا جاتا۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ موبائل کارڈ پر سیلز ٹیکس کیوں لگا دیا گیا تو ایف بی آر کے افسر نے بتایا کہ سیلز ٹیکس صوبے وصول کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے کس قانون کے تحت سیلز ٹیکس لگا رہے ہیں، کیا یہ ڈبل ٹیکس لگانا استحصال نہیں ہے، جو شخص ٹیکس دینے کا اہل نہیں اس پر ودہولڈنگ ٹیکس کیوں لگایا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 100 روپے کے کارڈ پر 42 فیصد پیسے ٹیکس کی مد میں کاٹ لئے جاتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس وہی شخص دے گا جو ٹیکس دینے کا اہل ہوگا، 14 کروڑ عوام سے ود ہولڈنگ ٹیکس کیسے لیا جا رہا ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ غیر قانونی طریقے سے عوام سے پیسے نکلوانا ہے، جب کہ سروس چارجز بھی ایک قسم کا ٹیکس ہے۔ سپریم کورٹ نے سیلز ٹیکس پر صوبوں اور سروس چارجز پر موبائل کمپنیوں سے جواب طلب کر لیا جب کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کے اطلاق پر ایف بی آر سے بھی جواب طلب کرلیا۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ڈیزل اور پٹرول پر ہوشربا ٹیکس کے اطلاق کا بھی نوٹس لینے کا عندیہ دے دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی تو میں پٹرول اور ڈیزل کی طرف بھی آؤں گا، پوچھا جائے گا پٹرول ڈیزل پر کتنا ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ ایک اور کیس میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پی آئی اے نجکاری کیس کی سماعت کے دوران سابق سابق مشیر ہوا بازی شجاعت عظیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیدیا جبکہ ریمارکس دئیے ہیں کہ پی آئی اے کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار کو نہیں چھوڑیں گے‘ٹیکس کے پیسے کو پی آئی اے والے کھاتے جا رہے ہیں، 2013 سے لیکر 2016 سے جہاز لیز پر لیے گئے، لیز پر جہاز لیکر گراؤنڈ کر دیئے گئے‘شجاعت عظیم بتانا پڑے گا انکی مشیر ہوا بازی تقرری کیسے ہوئی؟ اس ملک کا ایک پیسہ جانے نہیں دیں گے، کیٹرنگ کے ٹھیکے کس کو دیئے گئے ہیں معلوم ہے، کس نے ہاؤسنگ سوسائٹی بنائی سب معلوم ہے‘پراسیکوٹر نیب بھی معاملے کو دیکھیں‘ کیا پی آئی اے کے سابق ایم ڈیز ان سوالات کا جواب مجموعی طور پر دینگے یا الگ الگ؟‘ کیا یہ معاملہ نیب کو بھجوا دوں؟ جبکہ ماہر معاشیات فرخ سلیم نے عدالت کو پی آئی اے کے مالی معاملات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ 2008 سے اب تک 360 ارب تک کا مجموعی نقصان ہوا، آمدن سے زیادہ اخراجات خسارے کی وجہ ہے، 88 فیصد خسارہ گزشتہ دس سال کا ہے، نقصان کی وجہ سیاسی اثررسوخ، پیکج اور ایسوسی ایشن پالیسی ہے‘ گزشتہ 10 سال میں پی آئی اے میں تقریاں سیاسی بنیادوں پر ہوئیں‘لیز کے جہاز گراؤنڈ ہونے سے 6.67 ارب کا نقصان ہوا‘ 2013 میں پی آئی اے کے 2 لاکھ 87 ہزار ٹکٹس مفت بانٹے گئے جس سے 5ارب کا نقصان ہوا‘ 2016 میں پی آئی اے کے میڈیکل اخراجات 3 ارب روپے کے ہیں۔ منگل کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے پی آئی اے نجکاری کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر پی آئی اے نجکاری کیس کی سماعت ہوئی۔ مشیر ہوا بازی سردار مہتاب عباسی اور سابق مشیر ہوا بازی شجاعت عظیم عدالت میں پیش ہوئے۔ ماہر معاشیات فرخ سلیم نے پی آئی اے کے 2008۔2017 کے مالی معاملات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2008 سے اب تک 360 ارب تک کا مجموعی نقصان ہوا، آمدن سے زیادہ اخراجات خسارے کی وجہ ہے، 88 فیصد خسارہ گزشتہ دس سال کا ہے، نقصان کی وجہ سیاسی اثررسوخ، پیکج اور ایسوسی ایشن پالیسی ہے، گزشتہ 10 سال میں پی آئی اے میں تقریاں سیاسی بنیادوں پر ہوئیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ٹیکس کے پیسے کو پی آئی اے والے کھاتے جا رہے ہیں، 2013 سے لیکر 2016 سے جہاز لیز پر لیے گئے، لیز پر جہاز لیکر گراؤنڈ کر دیئے گئے۔ فرخ سلیم نے بتایا کہ لیز کے جہاز گراؤنڈ ہونے سے 6.67 ارب روپے نقصان ہوا، 2013 میں پی آئی اے کے دو لاکھ 87 ہزار ٹکٹس مفت بانٹے گئے جس سے پانچ ارب کا نقصان ہوا، 2016 میں پی آئی اے کے میڈیکل اخراجات 3 ارب روپے کے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ پی آئی اے کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار کو نہیں چھوڑیں گے، پراسیکوٹر نیب یہاں موجود ہیں آپ بھی معاملے کو دیکھیں، کیا پی آئی اے کے سابق ایم ڈیز ان سوالات کا جواب مجموعی طور پر دینگے یا الگ الگ؟، کیا یہ معاملہ نیب کو بھجوا دوں؟۔چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں موجود شجاعت عظیم کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ شجاعت عظیم آپ عدالت میں جیب سے ہاتھ نکال کر کھڑے ہوں، آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے، یہ سب نقصان آپ کے دور میں ہوا، عدالت تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے گی، پی آئی اے کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا، ہر آدمی کہتا ہے ملک کا نقصان نہیں کیا، کیا آسمان سے فرشتے آکر اربوں روپے کھا گئے، شجاعت عظیم بتانا پڑے گا آپ کی مشیر ہوا بازی تقرری کیسے ہوئی؟ اس ملک کا ایک پیسہ جانے نہیں دیں گے، کیٹرنگ کے ٹھیکے کس کو دیئے گئے ہیں معلوم ہے، کس نے ہاؤسنگ سوسائٹی بنائی سب معلوم ہے۔عدالت نے ڈاکٹر فرخ سلیم کی 10 سالہ جائزہ رپورٹ پر پی آئی اے کے سابق ایم ڈیز سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے شجاعت عظیم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شجاعت عظیم کیخلاف تحقیقات کرکے ریفرنس فائل کیا جائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ مہتاب عباسی آپ کو میں تحقیقاتی کمیٹی کا چیئر مین بنا دوں تو مہتاب عباسی نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میں کمزور آدمی ہوں یہ کام نہیں کر سکتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہو سکتا ہے تحقیقاتی کمیٹی کا چیئرمین خود بن جاؤں۔ کیس کی سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کردی گئی۔ دیگر کیس میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز کا ازخود نوٹس لے لیا ۔ وزارت خزانہ، ایف بی آر اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا گیا ہے ۔ چیف جسٹس نے وزارت پٹرولیم کو بھی نوٹس جاری کردیا ہے اور معاملہ کی سماعت کے لیے بینچ تشکیل دیدیا ہے ۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ اتوار کو کیس کی سماعت کرے گا۔ سپریم کورٹ نے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز کے اطلاق پر متعلقہ اداروں ،وزارت خزانہ، پٹرولیم سے جواب طلب کرلیا ہے ۔ اٹارنی جنرل اور ایف بی آر سے بھی جواب طلب کیا گیا ہے ۔ایک اور کیس میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پولیس کے طریقہ تفتیش میں بہتری لانے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کی ہے ، عدالت عظمی میں منعقدہ اجلاس میں ریٹائر آئی جیز پولیس سید مسعود شاہ ، طارق پرویز، شوکت جاوید، افضل علی شگری، طارق کھوسہ ، افتخار احمد ، شعیب سڈل ، فیاض طور اور حاضر سروس آئی جیز آئی جی پنجاب عارف نواز،آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ ، آئی جی کے پی کے صلاح الدین، آئی جی بلوچستان معظم جاہ اور آئی جی اسلام آباد اعظم تیموری نے شرکت کی ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے فوجداری مقدمات میں پولیس کی ناقص تفتیش کا نوٹس لیتے ہوئے اجلاس کے شرکاسے کہاہے کہ فوجداری مقدمات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ پولیس کی تفیتیش انتہائی ناقص ہوتی ہے اس ضمن میں بہت بہتری لانے کی ضرورت ہے تاکہ عدالتوں میں مقدمات کی درست چھان بین ہوسکے ۔ چیف جسٹس نے شرکاسے کہا ہے کہ وہ اس معاملہ پر غور کریں اور تجاویز دیں کہ نظام کو کس طرح بہتربنایاجاسکتا ہے ۔ چیف جسٹس نے سابق آئی جی افضل شگری کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی ہے جسے 15روز میں ضابطہ کا بنا کر دینے کی ہدایت کی ہے۔ کٹاس راج مندرکیس نمٹاتے ہوئے سپریم کورٹ نیسیمنٹ فیکٹریوں کو چھ ماہ میں متبادل پانی کا بندوبست کرنے کا حکم دے دیا عدالت نے قراردیا کہ سیمنٹ فیکٹریاں 2ارب کی بنک سکیورٹی عدالت میں جمع کرائیں گی۔منگل کوچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کٹاس راج مندر کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو چیف جسٹس نے کہاکہ سیمنٹ فیکٹریوں کو دھواں کے اخراج کا بہترین سسٹم لگانا پڑے گا، سیمنٹ فیکٹریوں کو عالمی معیار کو مدنظر رکھنا ہوگا، اگر ضرورت پڑی تو عدالت دھواں کے اخراج کے سسٹم کو چیک کروا ئے گی ۔ سیمنٹ فیکٹریوں سے علاقہ میں آلودگی نہیں ہونی چاہیے،سیمنٹ فیکٹریوں کی وجہ سے کٹاس راج مندر کے تالاب کے چشمہ بند ہوگئے، چیف جسٹس نے سوال کیاکہ کٹا راج مندر کے تالاب کا کیا ہوگا، سیمنٹ فیکٹریاں مندر اور تالاب کو بھرنے میں کام کریں، اس پر فیکٹری کے وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ نجی سیمنٹ فیکٹری تالاب کو بھرے گی،چیف جسٹس نے کہاکہ جن چشموں سے پانی تالاب میں آتا تھا وہ خشک ہوگئے، ان پانی کے چشموں کا کچھ کریں، کٹاس راج مندر ہندو برادری کے لیے بڑی مقدس جگہ ہے، ملک کے اندر اور باہر سے ہندو برادری مندر کے وزٹ کے لیے آتی ہے،وکیل نے جواب دیاکہ ماہرین سے تالاب کے خشک ہونے اور دوبارہ بھرنے سے متعلق ہدایات لیں گے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہاکہ سیمنٹ فیکٹری تالاب کے پانی کی سطح کو برقرار رکھے، چیف جسٹس نے کہاکہ تالاب کو بھرنے کے لیے نیچرل واٹر ہی آنا چاہیے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ فیکٹریاں واٹر پمپ بند کریں گی تو علاقہ میں پانی کی سطح بلند ہوگی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عاصمہ حامدنے کہاکہ متبادل پانی کا بندوبست ہونے تک حکومت پنجاب پانی کی قیمت چارج کریگی، پانی کے استعمال کا ٹیرف طے ہونا ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ متروک وقف املاک کا چیئرمین اقلیتی برادری سے ہونا زیادہ بہتر ہے، عدالت اس حوالہ سے آبزرویشن دے چکی ہے،ہم مسلمان ہیں یہاں ہم اکثریت میں ہیں ۔اقلیتوں کی عبادت گاہوں کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ بونیر میں کرشنگ کیوجہ سے علاقہ میں پانی کے سوکھنے کی شکایت ملی، پانی کی قدرتی قلت کا بھی ایشو ہے، اس دوران درخواست گزار کا کہنا تھا سیمنٹ فیکٹریوں کیوجہ سے علاقہ چکوال کے دیگر چشمہ خشک ہوگئے ہیں، بعد ازاں عدالت نے سیمنٹ فیکٹریوں کو چھ ماہ میں متبادل پانی کا بندوبست کرنیکا حکم دے دیاسیمنٹ فیکٹریاں 2 ارب کی بنک سکیورٹی عدالت میں جمع کرائیں گی،سپریم کورٹ نے حکم جاری کرتے ہوئے کٹاس راج مندر تالاب کیس نمٹا دیا۔

سپریم کورٹ

مزید : صفحہ اول