ایک بہو کا المیہ

ایک بہو کا المیہ
 ایک بہو کا المیہ

  

وزارت اطلاعات یا محکمہ اطلاعات کی حیثیت، اس بہو کی سی ہوتی ہے جو چاہے جتنا بھی اچھا کام کرے، اس کے حصے میں برائی ہی آتی ہے۔ ویسے تو عام طور پرواہ واہ ہوتی ہی ہمیشہ ساس کی ہے، لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اس بہو کا کام ہی ساس کی واہ واہ کروانا ہے۔ وزارت اطلاعات کے بارے میں مثال سن کر نئی وزیر مملکت مریم اورنگزیب چونکیں یا نہ چونکیں، سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید بھڑک اُٹھیں گے، کیونکہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا، اسے اس سے بہتر طریقے سے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ حضرت شیخ رشید بھی اس واقعہ پر تالیاں بجاتے دیکھے گئے، حالانکہ وہ خود بھی ایک زمانے میں پرویز مشرف کی چہیتی بہو رہ چکے ہیں اور ان کے حصے میں بھی بالآخر وزارت اطلاعات سے دستبرداری ہی آئی تھی۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ قابل ذکر مثال قدرت اللہ شہاب کی ہے، جنہوں نے فیلڈ مارشل ایوب خاں کی سلطنت قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور اسی بنا پر وہ ایوب خاں کی آنکھ کا تارا بھی تھے، لیکن بطور بہو،یعنی انفارمیشن سیکرٹری کے طور پر انہیں بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ باہمی طور پر مربوط، لیکن دہائیوں پر پھیلے ہوئے ان ایک جیسے واقعات کی یاددہانی ماہر ابلاغ ڈاکٹر ساجد حسین نے کروائی، جن کی ساری زندگی اسی دشت کی سیاحی میں گزری ہے اور جنہیں میں نے پرویز رشید کے جانے کی خبر سن کر فون اس لئے کیا تھا کہ یہ واقعہ ٹھیک ان کے مقالے کے مطابق پیش آیا تھا۔ ان کے نظرئیے کے مطابق جاگیر دارانہ سوچ میں ڈھلے ہوئے ہمارے معاشرے میں یہ صورت حال صرف وزارت اطلاعات تک محدودنہیں، بلکہ ہر شعبہ زندگی کا یہی حال ہے، حتیٰ کہ نجی شعبے کا مزاج بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔

کوئی صاحب اقتدار آئے، کوئی جائے ہر ایک کے اردگرد کہنی ماروں کا ایک گروپ جمع ہو جاتا ہے، جوکاسہ لیسی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا اور بڑے صاحب کو یہ بتانا ضروری سمجھتا ہے کہ آپ تو اتنے بڑے بڑے کام کر رہے ہیں، لیکن عوام کو کچھ پتہ نہیں،بلکہ الٹا آپ کے خلاف خبر یں چھپ رہی ہیں۔ پرویز رشید کو وزارت سے ہٹانے کے لئے جو فردجرم عائد کی گئی، وہ بھی صحافتی امور کے معاملے میں ارباب اقتدار کے روایتی انداز فکر کا نادر نمونہ ہے، جس کا مظاہرہ بھی اقتدار کی تقریباً ہر سطح پر کیا جاتا ہے۔کوئی پوچھے کہ کیا وزیر اطلاعات کا کام خبریں رکوانا ہے؟ کیا میڈیا میں کسی خبر کی نشرواشاعت رکوائی جاسکتی ہے، سوائے دھونس دھاندلی کے؟ یہ درست ہے کہ آزادی صحافت کے تمام تر دعوؤں کے باوجود ہر حکومت کروڑوں روپے کے سرکاری اشتہار اپنے ہاتھ میں رکھتی ہے اور موجودہ حکومت کے پاس بھی یہ لیور موجود ہے، جو میڈیا میں اپنے حق میں خبریں لگوانے کے لئے تو استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن کیا اس سے خبریں رکوانے کا کام بھی لیا جاسکتا ہے؟ اگر ایسا ممکنات میں سے ہوتا تو حکومت کے خلاف تو کبھی کوئی خبر چھپ ہی نہ پاتی۔۔۔ اور اگر ایسا ممکن بھی ہو تب بھی یہ کام تو دو نمبر کا ہی کہلائے گا، جسے علی الاعلان فرد جرم کیسے بنایا جاسکتا ہے؟ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ کسی خبر کا رکوانا یا ایسی کوشش ہی جمہوریت کی روح کے خلاف ہے۔ جمہوریت میں عوام کے لئے حقائق تک رسائی ممکن بنائی جاتی ہے ، اس مقصد کے لئے ہمارے ملک میں اب ایک قانون بھی موجود ہے (جو اگرچہ عوام کی بہبود کے دیگر قوانین کی طرح محواستراحت ہی رہتا ہے) جمہوری طرز حکومت میں صحافتی آداب یہ ہیں کہ اگر کوئی ایسی خبر چھپ جائے جو حقائق پر مبنی نہ ہو تو اخبار کو اس کی تردید شائع کرنا پڑتی ہے۔ یہ تردید اگرچہ ہوتی تو چند لائنوں پر مشتمل ہے، لیکن یہ لائنیں اخبار کے منہ پر طمانچہ اور رپورٹر کے لئے گھر جانے کا پیغام ہوتی ہیں۔

یہ اور بات ہے کہ آج کل میڈیا میں عزت و وقار کا وہ معیار باقی نہیں رہا اور تردید پر نہ تو کوئی شرمندگی محسوس کی جاتی ہے اور نہ ہی کسی کی نوکری جاتی ہے، بلکہ الیکٹرانک میڈیا میں تو تردید کا خانہ ہی ختم ہو گیا ہے ۔ بہر حال میڈیا میں اگر کسی خبر سے کسی کی عزت و شہرت، کاروبار یا قومی مفاد کو کوئی نقصان پہنچا ہو تو قانونی کارروائی کا راستہ ہر ایک کیلئے کھلا ہے۔ یہ کارروائی ادارے کے خلاف اس لئے ہوتی ہے کہ تردید شائع نہ ہونے کی صورت میں ادارہ ہی خبر کی اشاعت کا مکمل طور پر ذمہ دار ہوتا ہے، چنانچہ مذکورہ خبر کی اشاعت پر بھی ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ پرویز رشید پر نزلہ گرانے کے بجائے متعلقہ اخبار کے خلاف مقدمہ قائم کیا جاتا اور اگر اس کی جانب سے کوئی خطا سرزدہوئی تھی تو عدالت سے قانون کے مطابق سزا دلوائی جاتی۔۔۔ عجب اتفاق ہے کہ ہندوستان کی حکومت کو بھی میڈیا کی جانب سے اسی نوعیت کی صورت حال کا سامنا ہے۔ وہاں ایک ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی (سٹی دہلی ٹی وی) پر الزام ہے کہ اس نے پٹھان کوٹ میں ائیر فورس کے ہوائی اڈے پر حملے کی خبر دیتے وقت نہ صرف وہاں موجود طیاروں، اسلحہ کے ذخائر کے بارے میں حساس معلومات نشر کردیں،بلکہ اس فوجی منصوبے کی تفصیلات بھی بتا دیں جو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیلئے بنایا گیا تھا۔ سنگین نوعیت کے اس الزام کی بنا پر این ڈی ٹی وی کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں وزیر اطلاعات کو تو کچھ نہیں کہا گیا، البتہ ایک بین الوزارتی کمیٹی بنائی گئی، جس نے کئی ماہ کے غورو خوض کے بعد این ڈی ٹی وی کی نشریات بطور تنبیہ ایک دن (9نومبر) کو بند کرنے کا فیصلہ سنایا۔ اس فیصلے کے خلاف بمبئی پریس کلب سمیت ہندوستان کے سینئر صحافیوں اور خبر رساں ایجنسیوں نے اسے آزادی صحافت کے خلاف اقدام قرار دیتے ہوئے سخت احتجاج کیا ہے اور فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس احتجاج کا حکومت پر کیا اثر ہوتا ہے اور یہ بھی دیکھنا ہے کہ پاکستان میں شائع ہونے والی خبر کے سلسلے میں ضروری کارروائی کیلئے حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی کمیٹی کیا فیصلہ کرتی ہے؟

مزید : کالم