مغربی روٹ کا تنازعہ، صوبائی حکومت کی پٹیشن نے تمام پارٹیوں کی سیاست ختم کر دی

مغربی روٹ کا تنازعہ، صوبائی حکومت کی پٹیشن نے تمام پارٹیوں کی سیاست ختم کر دی

خیبرپختونخوا کی حکومت نے اسلام آباد لاک ڈاؤن احتجاج کے دوران بُری طرح تشدد کا نشانہ بننے کے بعد وفاق کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور مقدمات درج کرانے کا اعلان کیا اور ایک سے زائد مرتبہ کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اور آئی جی پنجاب کے خلاف مقدمات درج کرائے جائیں گے۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے بھی صوبائی حکومت کے اس فیصلے کی تائید کی،مگر صوبائی حکومت نے اچانک سی پیک معاملے پر ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا۔ یہ پٹیشن خیبرپختونخوا اسمبلی کی طرف سے دائر کی گئی۔ سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر صوبائی وزراء اور پارلیمانی رہنماؤں کے ہمراہ پشاور ہائی کورٹ پہنچے اور اپنی پٹیشن رجسٹرار کے پاس جمع کرا دی۔صوبائی حکومت کے ترجمان وزیر اطلاعات مشتاق غنی نے اس موقع پر میڈیا کو بتایا کہ رٹ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں مغربی روٹ شامل ہے یا نہیں؟ اس حوالے سے وفاق عدالت عالیہ کے ذریعے صوبائی حکومت کو وضاحت اور صوبے کو مطمئن کر کے اس کا حق دے۔ وفاقی حکومت اس اہم ترین منصوبے میں خیبرپختونخوا کو نظر انداز کر رہی ہے۔ بار بار وعدہ خلافیاں کی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے ہماری تشویش میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مشتاق غنی نے مزید کہا کہ بار بار شکایات کے باوجود ہماری بات نہیں سنی گئی جس کے بعد ہم مجبور ہو کر عدالت میں آئے ہیں۔ اس موقع پر جے یو آئی اور مسلم لیگ(ن) کے ذرائع نے اس پٹیشن سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اس پٹیشن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، مذکورہ دونوں پارٹیوں کا موقف ہے کہ مغربی روٹ کے حوالے سے وفاق اپنے وعدوں پر عمل کر رہا ہے۔ دونوں پارٹیوں کے ذرائع نے الزام لگایا ہے کہ صوبائی حکومت جان بوجھ کر منصوبے کو متنازعہ بنا رہی ہے، حالانکہ وفاقی وزیر احسن اقبال صوبائی حکومت کے تحفظات دور کر چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے اپنے موقف کے حق میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک منصوبے کے تحت ہمیں صرف سڑکوں کی تعمیر پر ٹرخایا جا رہا ہے،حالانکہ منصوبے میں انڈسٹریل زونز سمیت دیگر کئی ایسے لوازمات شامل ہیں جس سے علاقے میں ترقی اور خوشحالی آ سکتی ہے، مگر وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کو ان تمام سہولیات اور حقوق سے محروم کر رہی ہے۔

بلاشبہ تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں ایک عرصہ سے مغربی روٹ کو نظر انداز کرنے پر وفاق کے خلاف آواز اٹھاتی رہیں اور ہر پارٹی یا جماعت نے احتجاجی تحریک چلانے کی بھی دھمکی دے رکھی ہے۔ حتیٰ کہ وفاقی حکومت میں شامل جے یو آئی اور خاموش اتحادی عوامی نیشنل پارٹی بھی متعدد بار پریس کانفرنسز میں خیبرپختونخوا کی حق تلفی کی بات کر چکی ہیں،ممکنہ طور پر قبل از انتخابات کی فضا کے پیش نظر پیپلزپاٹری بھی مختلف حیلوں بہانوں سے سڑکوں پر نکلنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ عین ممکن تھا کہ جے یو آئی اور اے این پی بھی سی پیک کو بہانہ بنا کر سڑکوں پر نکلتی، مگر اب صوبائی حکومت نے ہائی کورٹ کے ساتھ رجوع کر کے دیگر پارٹیوں کو سی پیک پر سیاست چمکانے کے راستے بند کر دیئے۔ اب تمام پارٹیوں کو عدالت عالیہ کے فیصلے کا انتظار کرنا ہو گا، عدالت سے مثبت فیصلہ کی صورت میں کی حقوق کا کریڈٹ تحریک انصاف کی حکومت لے گی، جس کا یقینی طور پر دیگر پارٹیوں کو رنج ہو سکتا ہے۔ بہرحال اب دیکھنا ہو گا کہ پشاور ہائی کورٹ مغربی روٹ کے حوالے سے کب فیصلہ سناتی ہے تاہم یہ بات یقینی ہے کہ ہائی کورٹ جب بھی فیصلہ سنائے گی وہ خیبرپختونخوا کے وسیع تر مفاد پر مشتمل ہو گا۔ اس بات کی بھی توقع کی جا رہی ہے کہ پشاور ہائی کورٹ اس اہم ترین مقدمے کا فیصلہ جلد از جلد سنائے گی۔

دوسری طرف ایک تقریر کی بدولت عالمی شہرت پانے والی افغان خاتون شربت گلہ نے ایک مرتبہ پھر غیر معمولی اہمیت اور شہرت حاصل کر لی، شربت گلہ کو پشاور کی مقامی عدالت نے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے کے جرم میں پندرہ دن قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سناتے ہوئے مُلک بدر کرنے کا حکم دیا تو وہ دوبارہ عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک اور تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے شربت گلہ کی مذکورہ سزا کے خلاف وفاقی وزارت داخلہ سے رجوع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شربت گلہ کو باعزت طریقے کے ساتھ واپس بھیجا جائے گا مگر اس دوران افغان حکومت کے ایک وفد نے پاکستانی حکام سے بات چیت کی۔ اس دوران شربت گلہ نے افغانستان جانے کو ترجیح دی۔ شربت گلہ کی طرف سے افغانستان جانے کے فیصلے کے ردعمل میں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اعلان کیا کہ افغانستان پہنچنے پر وہ خود شربت گلہ کا استقبال کریں گے۔

شربت گلہ نے1985ء میں اس وقت شہرت پائی جب اس کی سبز آنکھوں والی تصویر نیشنل جیو گرافک میگزین کے سرورق پر شائع ہوئی۔ یہ تصویر ایک امریکی فوٹو گرافر سیٹو میکر نے ایک سال قبل1984ء میں پشاور کی ایک خیمہ بستی کے سکول میں بنائی تھی، جہاں شربت گلہ زیر تعلیم تھی اس تصویر میں شربت گلہ کیمرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سخت غصے میں دیکھ رہی تھی، غصے کی وجہ یہ تھی کہ سکول کی انچارج نے امریکی فوٹو گرافر کی آمد کے پیش نظر طالبات کو چھٹی کے بعد بھی روکے رکھا، جس پر شربت گلہ کو سخت غصہ آیا اور اس غصے کے عالم میں بننے والی تصویر نے اسے پوری دُنیا میں مشہور کر دیا۔ شربت گلہ کی عمر اب44سال ہے اور وہ کئی بچوں کی ماں ہے۔ عدالت سے سزا پانے کے بعد وہ دلبرداشتہ ہو گئی اور اب صوبائی حکومت کی پیشکش کے باوجود وہ افغانستان اپنے وطن واپس جانا چاہتی ہے جہاں افغانستان کے صدر اشرف غنی ان کے استقبال کے منتظر ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان کا جعلی شناختی کارڈ حاصل کرنے والی اکیلی شربت گلہ نہیں ہے، بلکہ ہزاروں کی تعداد میں افغان باشندوں نے پاکستانی جعلی شناختی کارڈ بنا رکھے ہیں۔ مزید یہ کہ انہوں نے پاکستان میں وسیع جائیدادیں بھی حاصل کر رکھی ہیں اور کاروبار پر بھی قابض ہیں، بعض افغان مہاجرین تو جعلی شناختی کارڈوں کے ذریعے پولیس میں بھرتی ہوئے ہیں،جبکہ بیشتر پاکستان کی سیاست میں بھی اپنا مقام بنا چکے ہیں۔ کچھ افغان مہاجر تاجروں کے لیڈر بن چکے ہیں ایسے حالات میں صرف شربت گلہ کومُلک بدر کرنے سے عالمی سطح پر کوئی اچھا پیغام نہیں جائے گا۔

خیبرپختونخوا میں سیاسی اُتار چڑھاؤ کے دوران دہشت گردی کے واقعات بھی تواتر کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ صوابی میں دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں پولیس کا جوان شہید ہو گیا۔ پشاور کے مضافات میں پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ بدستور جاری ہے اورخیبر ایجنسی اور تیراہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق سڑک کنارے نصب بم اور بارودی سرنگ کے دھماکوں سے پاک فوج کے دو جوان شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ پاک فوج نے طویل قربانیوں کے بعد وادی تیراہ کو دہشت گردوں سے پاک قرار دیا جس کے بعد ہجرت کرنے والے قبائل اپنے علاقوں میں واپس جا کر آباد ہونے لگے اور تیراہ جانے والے راستوں پر فورسز کے جا بجا ناکے لگے ہوئے ہیں جہاں سخت چیکنگ کی جاتی ہے ان حالات میں وہاں دھماکہ ہونا باعث تشویش جانا جاتا ہے۔ امید ہے کہ سیکیورٹی فورسز ان دھماکوں کے ذمہ دار ملک دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کا جلد کھوج لگا کر انہیں منطقی انجام تک پہنچائے گی جو کہ بے حد ضروری سمجھا جاتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 2